تازہ ترین خبریںدلی نامہ

جامعہ ملیہ: پولیس کی وحشیانہ کاروائی کے خلاف کورٹ جانے کا فیصلہ

جامعہ ملیہ اسلامیہ کی وائس چانسلر (وی سی) پروفیسر نجمہ اختر نے پیر کو کہا کہ جامعہ نے طلبہ پر ہوئی وحشیانہ پولیس کارروائی کے خلاف معاملہ درج کرانے کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس دورام طلبہ کے احتجاج سے پیدا تنازعہ کے پیش نظر جامعہ انتظامیہ نے سمسٹر کے باقی امتحانات غیر معینہ مدت کےلئے ملتوی کردیئے۔ امتحانات کی تاریخ اب بعد میں طے کی جائےگی۔ یونیورسٹی کھلنے کے بعد طلبہ وائس چانسلر کا محاصرہ کیا اور ان پر دباؤ ڈالا کہ وہ پولیس کی بربریت کے خلاف معاملہ درج کرائیں اور جب تک ایف آئی آر درج کرانے کا عمل پورا نہ ہو سمسٹر کے باقی امتحانات ملتوی کئے جائیں۔

پروفیسر اختر نے یہاں ان کا گھیراؤ کرنےکے مقصد سے آنے والے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 15 دسمبر کا واقعہ وحشیانہ تھا۔ پولیس کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے کا عمل کل سے شروع کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس بغیر انتظامیہ کے کیمپس میں داخل ہوئی اور یہاں کے بے گناہ طلبہ کو بے رحمی کے ساتھ زدوکوب کیا،وہ پہلے دن سے اس واقعہ کی مذمت کر رہی ہیں۔ طلبہ کے حق میں پولیس کے خلاف قانونی لڑائی جاری ہوگی۔

حالانکہ طلبہ پولیس کے خلا ف ایف آئی آر درج کروانے کی تاریخ کے مطالبے پر بضد ہیں۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ وی سی انھیں ایک متعین تاریخ بتائیں کہ وہ کب کورٹ میں جائیں گی اور کب ایف آئی آر درج کروائی جائے گی۔ وی سی نے کہا کہ شہریت ترمیمی قانون اور این آرسی کے مسئلے پر وہ کچھ نہیں بولیں گی۔

واضح رہے کہ 15 دسمبر کو شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرے کے بعد جامعہ کیمپس میں گھس کر پولیس نے لائبریری میں توڑپھوڑ کی تھی اور طلبہ کو بے دردی سے پیٹا تھا۔ بعد ازاں جامعہ انتظامیہ نے پانچ جنوری تک چھٹی کا اعلان کر دیا تھا تاہم اس دوران بھی کیمپس کے باہر طلبہ اور مقامی عوام شہریت ترمیمی قانون (سی اےاے) اور این آر سی کےخلاف مظاہرہ چلتا رہا۔ چھ جنوری کو دوبارہ جامعہ کھلا اور 09 جنوری سے سیمسٹر امتحانات کا اعلان کر دیا گیا لیکن پولیس کے خلاف قانونی کاروائی کےمطالبے پر آج طلبہ نے امتحان کا بائیکاٹ کرکے وی سی کا محاصرہ کیا۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close