تازہ ترین خبریںدلی نامہ

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء پر جان لیوا حملہ، کیمپس پولیس چھاؤنی میں تبدیل

اب جامعہ ملیہ اسلامیہ پر فاشسٹ_حملہ، طلبائے جامعہ کی حمیت دینی کو ہزاروں سلام.....

سمیع الله خان (جنرل سیکریٹری: کاروانِ امن و انصاف)

آج، ابھی کچھ دیر پہلے پچاسوں غنڈوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کیمپس میں گھس کر اُن اسٹوڈنٹس کو بری طرح پیٹا ہے جو اپنے حقوق اور اپنی حمیت کے لیے گزشتہ ہفتے بھر سے جامعہ میں پرامن احتجاج کررہےتھے، یہ غنڈے کون تھے؟ کہاں سے آئے اور انہیں کس نے بھیجا؟ مجھے یقین ہےکہ دندناتے ہوئے فاشسزم کی طاقت ان حقائق کو روند دے گی_

واقعہ یہ ہیکہ، کچھ روز پہلے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں عالمی دہشتگردی اور ظلم و بربریت کی علامت ” اسرائیل ” کا ایک پروگرام ہوا، چند غیور طلباء نے اس پروگرام کے وقت اسرائیل کے خلاف ” فلسطین ” کے حق میں سچائی کا پرچم بلند کیا، جامعہ کے ایڈمنسٹریشن نے ان طلباء کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں بند کردیا اور Show Cause Notice جاری کیا، یہ کارروائی سراسر ڈکٹیٹرشپ کی علامت تھی، چنانچہ جامعہ کے اسٹوڈنٹس ہفتے بھر سے اس کارروائی کے خلاف پرامن احتجاج کررہےتھے، اور آج جامعہ کے طلباء کا احتجاج وائس چانسلر ہاؤز کو گھیر چکا تھا، اسٹوڈنٹس کی اس طاقت نے جامعہ کے موجودہ سنگھیت زدہ منتظمہ کو بوکھلاہٹ میں مبتلاء کر دیا، اور ابھی کچھ دیر پہلے غنڈوں کا ایک ہجوم آیا اور احتجاج کر رہے طلباء کو بری طرح سے پیٹ کر زخمی کرکے بھاگ گیا_

یہ حال ہے ہندوستان کی راجدھانی میں موجود اس سینٹرل یونیورسٹی کا جو اس ملک کے معماروں کی زندہ نشانی ہے، متعصب سنگھی حکومت نے جسطرح ملک بھر کے تعلیمی اداروں کو یا تو چوپٹ کردیا یا اس میں اپنے ہرکاروں کو گھسا دیا اسی طرح جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ساتھ بھی ہو رہا ہے، یہ جامعه واجبی طور پر ملت اسلامیہ کا قلب و جگر ہے، اس جامعه کی بنیادوں میں اسلام پسند فکر و نظر کا بیج ہے، جس طرح دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں کسی نا کسی فکر و نظر کا غلبہ ہوتا ہے ویسے ہی اس جامعه کی اساس سے لیکر شاخوں تک میں اسلامیت کا عنصر ہے، اور یہ اس جامعه کی فطری لچک اور اسی کی پیاس ہے، یہ ایسی تاریخی حقیقت ہے کہ اگر اسے جھٹلایا جائے تو تاریخ سے منہ چرانے والے بزدلوں کی صفوں میں ہمیں پھینک دیا جائےگا، اور ایسے والے ” سیکولر ” لوگ کسی بھی تاریخ میں قابل فخر جگہ نہیں حاصل کر پاتے_

اسوقت جامعه ملیہ اسلامیہ ہندوستان کی گنی چنی عظیم الشان یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے، اور چونکہ اس کا انتساب اسلام پسندی پر مبنی ہے لہٰذا فاشسٹ طاقتوں کی آنکھوں یہ کھٹکتا بھی ہے، یہی وجہ ہےکہ بھگوائی حکومت نے اس کے ایڈمنسٹریشن میں سنگھی مزاج عناصر کو داخل کرنا شروع کردیاہے

آج جامعہ کے کیمپس میں طلباء کے ساتھ جو کچھ ہورہاہے اور جس طرح انہیں فلسطین سے اظہار محبت کے جرم میں پیٹا جارہاہے وہ ایک صریح ظلم اور غنڈہ گردی ہے، موجودہ وائس چانسلر نجمہ اختر نے آمرانہ طرز اختیار کیا ہوا ہے، نجمہ اختر صاحبہ جب جامعه کی وائس چانسلر منتخب ہوئیں تھی ہم نے ان کی سنگھ نوازی سے جامعہ کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کے متعلق لکھا بھی تھا آج وہی سب نظر بھی آرہاہے، لیکن اس سے بھی زیادہ شرم کا مقام یہ ہیکہ ایکطرف عصری اداروں میں زیرتعلیم اسٹوڈنٹس کی حمیت دینی اور شجاعت کا یہ عالم ہے کہ وہ اظہار حق اور اسلام پسندی کے جرم میں ڈنڈے کھا رہےہیں، آلام و مصائب سے نبردآزما ہیں اور اپنے حقوق کے لیے کسی بھی قسم کے سمجھوتے کے لیے تیار نہیں، تو دوسری طرف مسلمانوں کے دیگر طبقے ایسے بدترین حالات میں بھی آپسی جھگڑوں میں بدمست، مدہوش ہیں، ان نازک حالات پر مسلمانوں کی بےحسی کا یہ عالم ہیکہ سردست ملت کی خطرناک سچویشن ان کی ترجیحاتی میز سے ہی خارج ہے_

ہم سلامِ عزم و ہمت پیش کرتےہیں جامعه ملیہ اسلامیہ کے اُن تمام طلباء کو جو ایڈمنسٹریشن کی غلط پالیسیوں کے خلاف حق کی آواز بلند کر رہے ہیں، جو طاقتور ظالم اسرائیل سے نہیں ڈرتے اور فلسطین سے وابستگی کا بہادر اعلان کرتے ہیں، جامعه ملیہ کے یہ اسٹوڈنٹس درحقیقت محمد علی جوہر کے حقیقی فرزند ہیں یہ جامعہ کی روح سے غذا پا رہے ہیں، ان بہادر بچوں کا نام تاریخ میں سنہری حروف کے ساتھ جگمگائے گا_

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close