تازہ ترین خبریںدلی نامہ

جامعہ تشدد: ہائی کورٹ کا مرکز، پولیس اور دہلی حکومت کو نوٹس

دہلی ہائی کورٹ نے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) سے متعلق معاملات میں پولیس کارروائی میں زخمی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا کی معاوضہ سے متعلق عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے پیر کو مرکز، دہلی حکومت اور دہلی پولیس کو نوٹس جاری کرکے جواب دینے کے لئے کہا۔ چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جج سی ہری شنکر پر مشتمل بنچ نے ان عرضیوں پر سماعت کرنے کے بعد یہ نوٹس جاری کئے۔

یاد رہے کہ جامعہ کے نزدیک 15دسمبر کو ایک احتجاجی مظاہرہ اس وقت پر تشدد ہوگیا تھا جب مظاہرین نے پولیس پر پتھراو کیا اور وہاں کھڑی سرکاری اور نجی گاڑیوں کو آگ کے حوالے کردیا تھا۔ اس کے بعد پولیس عملہ نے جامعہ میں گھس کر آنسو گیس کے گولے چھوڑے تھے اور طلبا پر لاٹھی چارج کیا تھا۔ پولیس کی اس کارروائی میں زخمی ایک طالب علم شایان مجیب نے دہلی ہائی کورٹ میں دائر عرضیوں میں کہاکہ پولیس کی کارروائی میں اسے کافی چوٹ لگی تھی اور اس نے اپنے علاج پر دو لاکھ روپے خرچ کئے ہیں۔

مجیب نے الزام لگایا کہ وہ اس وقت لائبریری میں پڑھ رہا تھا اور پولیس کی کارروائی میں اس کے پیر میں فریکچر ہوگیا تھا۔ ایک دیگر طالب علم محمد منہاج الدین نے بھی عدالت میں دائر عرضی میں اس تشدد کی جانچ کرانے کی درخواست کی ہے اور چوٹ کے عوض معاوضہ دیئے جانے کی بھی مانگ کی ہے۔ اس نے اپنی عرضی میں کہا کہ پولیس کی بربریت میں اس کی ایک آنکھ کی روشنی چلی گئی ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close