تازہ ترین خبریںدلی نامہ

جامعہ تشدد معاملہ: آئندہ سماعت 13 جولائی کو

حلف نامہ کے جوابی زبان پر سالیسٹر جنرل نے جتایا اعتراض

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
جامعہ ملیہ تشدد معاملے میں درخواست گزاروں کے ذریعہ پولیس کے حلف نامہ پر جمع کرائے گئے جواب کی زبان پر سالیسیٹر جنرل (ایس جی) توشار مہتا نے اعتراض جتاتے ہوئے اسے غیر ذمہ دارانہ بتایا ہے۔ درخواست گزاروں نے اسی کے ساتھ ہی پولیس کے ذریعہ داخل کئے گئے حلف نامے پر دیگر کئی اعتراضات اٹھائے ہیں۔ اب اس معاملے پر سماعت 13 جولائی کو ہوگی۔

واضح رہے کہ سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے کیلئے جامعہ ملیہ کے باہر جمع ہوئے طلباء پر پولیس کی جانب سے جم کر لاٹھی چارض کیا گیا تھا، جبکہ جامعہ ملیہ میں اندر گھس کر بھی پولیس اور نیم فوجی دستوں نے جامعہ کے طلبا و طالبات پر تشدد کیا تھا، جس کی کئی ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھیں، نیز پولیس کے ذریعہ بسوں کو خود آگ لگانے کی ویڈیوز بھی سامنے آئی تھیں، جن کا الزام مظاہرین طلبا پر لگایا گیا تھا۔ اس کے بعد پولیس کی شبیہ پر سوال کھڑے ہو رہے تھے۔

چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس پرتیک جالان کی بنچ کے سامنے دہلی پولیس کی جانب سے ایس جی نے درخواست گزاروں کے جواب کے ایک حصے پر اعتراض کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ’واضح طور پر قانون کو توڑنے کیلئے پولیس کو منظوری ملی ہوئی تھی۔ بہت امکانات ہیں کہ پارلیمنٹ کی جانب پرامن مارچ کیلئے جامعہ ملیہ کے باہر جمع ہونے والے طلبا کو بے رحمی سے پیٹنے اور ان کی ہڈیاں توڑنے کا حکم مرکزی وزیر داخلہ کی جانب سے آیا تھا‘۔ یہ دلیل درخواست گزار نبیلہ حسن کی جانب سے داخل جواب میں دی گئی ہے۔ ایس جی نے کہا کہ یہ غیر ذمہ دارانہ دلیل کی ایک مثال ہے۔ غیر ذمہ دارانہ دلیل دینا ان کا چلن بن گیا ہے۔ یہ احتجاجی مقام پر دیا جانے والا بیان ہے، عدالت میں اس قسم کی دلیل نہیں دی جاسکتی۔ آپ آئینی حکام کو اس طرح بدنام نہیں کر سکتے ہیں۔

نبیلہ حسن نے جامعہ کے درخواست گزاروں، طلباء اور وہاں کے باشندوں پر بے رحمانہ حملہ کرنے کے الزام میں پولیس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ درخواست میں یونیورسٹی میں طلباء پر پولیس اور نیم فوجی دستوں کے ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے ہدایت دینے کی گزارش کی گئی ہے۔ وہیں توشار مہتا نے نبیلہ حسن کی جانب سے پیش ہوئے سینئر ایڈووکیٹ کولن گونزالیوس سے پوچھا کہ وہ وزیر داخلہ کے خلاف اس طرح کے الزامات کیوں عائد کر رہے ہیں اور فیصلہ کریں کہ کیا وہ انہیں ہٹا سکتے ہیں۔ گونز الویس نے کہا کہ وہ فوری طور پر متعلقہ جملے ہٹا دیں گے۔ اب مہتا کے اعتراض والے جملوں کو ہٹا کر ایک بار پھر جواب داخل کریں گے۔

اس کے علاوہ تشدد پر غور کرنے کے لئے ایک انصاف کمیشن کے قیام کیلئے دائر 6 درخواستوں کی مخالفت کرتے ہوئے پولیس نے کہا کہ پولیس کی زیادتیوں کے دعوے بے بنیاد ہیں۔ پولیس نے وکلاء، جامعہ کے طلباء اور اوکھلا کے رہائشیوں کی جانب سے دائر مختلف درخواستوں کے جواب میں ایک حلف نامہ بھی داخل کیا ہے۔ جس میں اس نے پولیس کی زیادتیوں سے انکار کیا ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close