تازہ ترین خبریںمسلم دنیا

توہین رسالت کے مقدمہ سے بری ہوئیں آسیہ بی بی نے چھوڑا پاکستان، پہنچی کینیڈا

سپریم کورٹ سے توہینِ مذہب کے مقدمے میں بری ہونے والی پاکستانی مسیحی خاتون آسیہ نورین عرف آسیہ بی بی بیرون ملک منتقل ہو گئیں۔ سرکاری حکام نے بتایا کہ توہین رسالت کے مقدمہ میں پھانسی کی سزا یافتہ مسیحی خاتون برسوں سے جیل میں قید تھیں، جن کی سزا سپریم کورٹ میں پلٹ دیئے جانے کے بعد وہ ملک پاکستان کو چھوڑ کر کینیڈا منتقل ہوگئی ہیں۔

ڈان نیوز نے دفتر خارجہ کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ آسیہ بی بی ملک سے جاچکی ہیں، وہ آزاد ہیں اور اپنی مرضی سے وہ اس سفر پر گئی ہيں۔ ذرائع کے مطابق آسیہ بی بی ملک پاکستان کو چھوڑ کر کینیڈا منتقل ہوگئی ہیں اور وہ ملک سے منگل کی رات روانہ ہوئی ہيں۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق آسیہ بی بی کا مقدمہ لڑنے والے وکیل سیف الملوک نے تصدیق کی کہ وہ کینیڈا پہنچ گئی ہیں۔ ایسا بتایا جا رہا ہے کہ ان کی دو بیٹیوں کو وہاں سرکاری پناہ مل چکی ہے۔

یاد رہے کہ آسیہ بی بی کو 9 سال قید میں رہنے کے بعد سپریم کورٹ نے 31 اکتوبر کو توہینِ رسالت کے مقدمے میں بری کیا تھا۔ انہیں اس مقدمہ میں 2010 میں قصوروار قرار دے کر سزائے موت سنائی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق جیل سے رہائی کے بعد آسیہ بی بی کو نامعلوم مقام پر رکھا گیا تھا، جہاں سے ان کے سفری دستاویزات کی تیاری کی گئی ہے۔ قبل ازیں آسیہ بی بی کے بھائی جیمز مسیح نے کہا تھا کہ ‘آسیہ پاکستان میں محفوظ نہیں ہیں، ان کے پاس کوئی اور چارہ نہیں کہ وہ جلد ہی ملک چھوڑ دیں‘۔

بعد ازاں آسیہ بی بی کو بری کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف توہین رسالت کیس کے مدعی قاری عبدالسلام نے نظرثانی درخواست دائر کی تھی جسے عدالت عظمیٰ نے مسترد کردیا تھا۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close