تازہ ترین خبریںدلی نامہ

تنخواہیں نہ ملنے پر دہلی وقف بورڈ کے ملازمین اور ائمہ پر فاقوں کی نوبت

چیئرمین اور افسران کے تنازعہ میں پسے ملازمین اور ائمہ، دو ماہ سے نہیں ملی تنخواہیں،.....امانت اللہ خان بڑھی ہوئی تنخواہوں کا کر رہے ہیں مطالبہ،..... افسران مانگ رہے ہیں وزارت کی اپرول،....... پرانی تنخواہیں جاری کرنے کے لئے دستخط کرنے کا چیئرمین کا انکار، متعلقہ وزارت کی سست رفتاری حیران کن

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین اور افسران کے درمیان چل رہے تنازعہ میں دہلی وقف بورڈ کے ملازمین اور بورڈ سے مختصر تنخواہیں پانے والے ائمہ، مؤذنوں کو تنخواہیں نہ ملنے سے ان پر فاقے کرنے کی نوبت آ گئی ہے۔

واضح رہے کہ جہاں سرکاری اداروں میں ملازمین کو مارچ تک کی تنخواہیں ملنی شروع ہو گئی ہیں وہیں دہلی وقف بورڈ میں مالازمین اور ائمہ کو ابھی فروری کی بھی تنخواہ نہیں ملی ہے۔ ایسا نہیں کہ بورڈ کے پاس پیسہ نہیں ہے، حال ہی میں سالانہ بجٹ میں دہلی حکومت نے دہلی وقف بورڈ کی گرانٹ بھی بڑھا دی ہے، لیکن اس کے باوجود دہلی وقف بورڈ کے ملازمین اور ائمہ دو ماہ سے تنخواہوں کے انتظار میں ہیں۔

ذرائع کی اطلاع کے مطابق دہلی وقف بورڈ کے چیئر مین امانت اللہ خان دہلی حکومت کی جانب سے اعلان کی گئی ائمہ کی بڑھی ہوئی تنخواہوں کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ افسران کا کہنا ہے کہ جب تک متعلقہ وزارت سے اپروول نہیں ملتا اور وہ آرڈر جاری نہیں کرتی تب تک بڑھی ہوئی تنخواہیں نہیں دی جا سکتی۔ لیکن چیئر مین امانت اللہ خان ضد پر اڑے ہیں اور وہ ریگولر ملازمین کی پرانی تنخواہیں جاری کرنے کےلئے بھی دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ چونکہ اب دہلی وقف بورڈ کی کمیٹی تشکیل ہو چکی ہے اس لئے تنخواہیں جاری کرنے کےلئے چیئرمین کے دستخط کی ضرورت ہے۔ لیکن چیئر مین امانت اللہ خان اڑے ہوئے ہیں بڑھی ہوئی تنخواہیں ہی جاری کی جائیں ورنہ وہ ریگولر تنخواہوں کےلئے بھی دستخط نہیں کریں گے۔

دراصل بورڈ کے چیئر مین امانت اللہ خان کا اماموں کی بڑھی ہوئی تنخواہوں کو لیکر اختلاف ہے، بورڈ کے اماموں کی تنخواہیں بڑھانے کا دہلی حکومت نے اس شرط پر اعلان کیا تھا کہ حکومت کی منظوری کے بعد ہی یہ بڑھی ہوئی تنخواہیں اماموں کو دی جائیں گی۔ لیکن یہ منظوری ابھی تک نہیں دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق اماموں کی تنخواہوں کی یہ فائل کئی ماہ سے متعلقہ وزراء کے پاس زیرغور ہے اور ابھی اس کو منظوری نہیں ملی ہے بلکہ یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ابھی متعلقہ وزیر کی ٹیبل سے یہ فائل ہلی بھی نہیں ہے۔ لیکن چیئر مین امانت اللہ خان بجائے سرکار سے اس کو منظور کرانے کے سرکار کی شرطوں میں اس کی منظوری کے بغیر ہی بڑھی ہوئی تنخواہیں جاری کرنے پر افسران پر دباؤ بنا رہے ہیں۔ جبکہ متعلقہ محکمہ کے افسران متعلقہ وزیر خزانہ اور وزیر محصولیات کی اجازت کے بغیر بڑھی ہوئی تنخواہیں جاری کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ وہیں امانت اللہ ضد پر اڑے ہیں کہ بڑھی ہوئی تنخواہیں ملیں ورنہ وہ ریگولر اسٹاف کی پرانی تنخواہیں بھی جاری کرنے کےلئے دستخط نہیں کریں گے۔ اس تنازعہ میں نہ صرف دہلی وقف بورڈ کے ملازمین بلکہ بورڈ کے امام اور موئوزن جو قلیل سی تنخواہوں پر مساجد میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں ان کو تنخواہیں نہیں ملی ہیں۔

چیئرمین شاید اس بات سے نا آشنا ہیں کہ فروری سے تنخواہیں نہ ملنے سے بورڈ کے ملازمین زبردست مالی دشواری سے دو چار ہیں اور ان کو فاقے کرنے کی نوبت آچکی ہے۔ ادھر اکیڈمک سال شروع ہو چکا ہے، بچوں کے نئی کلاس میں داخلے، ان کی فیس، ڈریس اور کتابیں کورس وغیرہ سمیت گھریلو خرچ کے لئے بھی ملازمین پر پیسے نہیں ہیں۔ اپنی بات رکھنے کےلئے آج دہلی وقف بورڈ کے تمام ملازمین چیئر مین امانت اللہ خان سے دریا گنج میں واقع وقف بورڈ کے آفس میں ملاقات کرنے بھی گئے، جہاں سے ان کا مسئلہ نہ حل ہونے پر وہ متعلقہ اعلی افسران، پرنسپل سکریٹری ریونیو اور ڈیوزنل کمشنر سے بھی ملاقات کرکے اپنی پریشانی بتائیں گے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دہلی میں عام آدمی پارٹی کی حکومت ہے اور اماموں کی تنخواہیں بڑھانے کا اعلان عام آدمی پارٹی کے کنوینر اور دہلی حکومت کے وزیر اعلی اروند کجریوال نے کیا، یہاں وزیرخزانہ منیش سسودیا اور وزیر محصولیات کیلاش گہلوت اور دہلی وقف بورڈ کے چیئر مین امانت اللہ خان عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے ہیں۔ لیکن ’آپ‘ اپنی سرکار، اپنے ایم ایل اے اور اپنے وزیر ہونے کے باوجود بھی اماموں کی بڑھی ہوئی تنخواہوں کو ابھی تک وزیر محصولیات کی جانب سے منظوری نہیں دی گئی۔ جوکہ حیران کن ہے۔ بتادیں کہ نہ صرف دہلی وقف بورڈ بلکہ دہلی حج ہاؤس کی عمارت کی تعمیر میں سرکار تاخیر سے کام لے رہی ہے۔

اس تاخیر کو کیا یہ نہ مانا جائے کہ یہ حکومت ایک سیاسی پینترا ہے اور یہ پینترا یا ٹرم کارڈ دہلی میں عام انتخابات کے امیدواروں کی پرچہ نامزدگی داخل ہونے کے بعد عام آدمی پارٹی کی جانب سے اماموں کی بڑھی ہوئی تنخواہوں کو منظوری دینے یا دہلی حج ہاؤس کی تعمیر شروع کرانے کی شکل میں کھیلا جائے گا۔ لیکن ابھی جو صورت حال دہلی وقف بورڈ کے ملازمین اور ائمہ کی ہے وہ نہ گفتہ بہ ہے۔ جس پر چیئر مین اور حکومت کو توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close