اپنا دیشتازہ ترین خبریں

تلنگانہ انکاؤنٹر: جانچ کے لئے انسانی حقوق کی ٹیم پہنچی حیدر آباد

تلنگانہ کی راجدھانی حیدر آباد کے باہری علاقے میں شاد نگر کے نزدیک چٹن پلّی گاؤں میں جانوروں کی ڈاکٹر دشا کو عصمت دری کے بعد جلاکر قتل کرنے والے چار ملزمین کے پولیس تصادم میں مارے جانے کے ایک دن بعد سنیچر کے روز قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) کی ٹیم یہاں پہنچی۔ اس قتل کے ملزمین کے خلاف شاد نگر پولیس نے معاملہ درج کیا ہے۔

ایچ این آر سی نے چار ملزمین کے تصادم میں مارے جانے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے سینئر پولیس افسر کی قیادت میں ایک خصوصی ٹیم کو تصادم کے مقام کا دورہ اور جانچ کرنے کے لیے یہاں بھیجا ہے۔ یہ ٹیم اپنی رپورٹ پیش کرنے سے قبل محبوب نگر سرکاری اسپتال کا بھی دورہ کرے گی جہاں چاروں ملزمین کی لاشیں محفوظ رکھی گئی ہیں۔ تلنگانہ ہائی کورٹ کے حکم پر ان لاشوں کو اسپتال میں محفوظ رکھا گیا ہے۔

کمیشن نے تلنگانہ پولیس کو ایک نوٹس جاری کرکے تصادم کے سلسلے میں وضاحت بھی طلب کی ہے۔ کمیشن نے کہا کہ 26 برس سے کم عمر کے چار ملزمین کا پولیس حراست کے دوران مبینہ طور پر انکاؤنٹر میں مارا جانا فکر کو موضوع ہے۔ کمیشن نے کہا ’’اگر گرفتار کئے گئے ملزمین حقیقت میں قصوروار تھے تو انہیں قانون اور عدالت کے حکم کے مطابق سزا ملی چاہیے تھی۔

تصادم کے سلسلے میں سائبرآباد پولیس نے کہاکہ پولیس اہلکاروں نے اس وقت اپنے دفاع میں گولی چلائی جب چار میں سے دو ملزمین نے پولیس اہلکاروں سے ہتھیار چھین کر ان پر ڈنڈوں اور پتھروں سے حملہ کردیا۔ انہوں نے کہا کہ چاروں ملزمین کا پوسٹ مارٹم محبوب نگر ضلع اسپتال میں کیا گیا ہے اور پوسٹ مارٹم کی ویڈیو بھی بنائی گئی ہے۔

دراصل چاروں ملزمین پر 27 نومبر کی رات جانوروں کی ڈاکٹر دشا کی عصمت دری کے بعد جلاکر قتل کرنے کا الزام ہے۔ سبھی ملزمین کو اس معاملے میں 29 نومبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ واقعہ کی صحیح معلومات حاصل کرنے کے لئے پولیس جمعہ کی صبح ملزمین کو جائے واقعہ شاد نگر کے نزدیک چٹن پلّی گاؤں لے گئی تھی وہیں تصادم کے دوران پولیس نے چاروں ملزمین کو ہلاک کردیا۔ اس انکاؤنٹر کے سلسلے میں سوال بھی اٹھ رہے ہیں اور اسی تناظر میں یہاں این ایچ آر سی کی ایک ٹیم جانچ کے لئے پہنچی ہے۔

واضح رہے کہ تلنگانہ ہائی کورٹ نے اس معاملے میں جمعہ کے روز سبھی ملزمین کی لاشیں پوسٹ مارٹم کرانے کا ریاستی حکومت کو حکم دیا تھا۔ عدالت نے پوسٹ مارٹم کے عمل کا ویڈیو بنانے کی بھی ہدایت دی جسے 9 دسمبر تک ڈسٹرکٹ جج کو جمع کرانے کےلئے کہا گیا ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close