اترپردیشتازہ ترین خبریں

تحریک آزادی سے آزادی تک جمعیت کا قائدانہ کردار رہا ہے

جمعیۃ علماء کی صد سالہ تقریبات میں مولانا عبدالباری فرنگی محلیؒ اور مولانا احمد سعید دہلویؒ پر سیمینار کا انعقاد

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
ملک میں مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والی سب سے بڑی ملّی تنظیم جمعیۃ علماء ہند کے سو سالہ تکمیل کے موقع پر صد سالہ تقریبات کا سلسلہ جاری ہے۔ جس میں جمعیۃ علماء ہند کے اکابرین کی حیات و خدمات اور ان کی قربانیوں پر سمینار کا بھی منعقد کئے جا رہے ہیں۔

جمعیۃ علماء ہند کی صد سالہ تقریبات کی اسی کڑی میں دہلی کے این ڈی ایم سی کنونشن سینٹر میں جمعیۃ کے اکابر مولانا محمد عبدالباری فرنگی محلی بانی ورکن جمعےۃ علماء ہند اور مولانا احمد سعید دہلویؒ سابق ناظم عمومی وبعدہ صدر جمعۃعلماء ہند کی خدمات و قربانیوں پر دو روزہ سیمینار کا افتتاحی اجلاس منعقد ہوا۔ جس کی صدارت جمعیۃ علماء کے صدر مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری نے کی،جب کہ نظامت کے فرائض جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولاناسید محمود مدنی،مفتی محمد عفان منصورپوری، مولانا عمران اللہ ا ور ڈاکٹر عبدالملک نے مشترکہ طور پر انجام دیئے۔

اس موقع پر اپنے صدارتی خطاب میں صدر جمعےۃ علماء ہند مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری نے کہا کہ جمعیۃ کے اکابرین ان دونوں شخصیات تاریخ جمعےۃ میں ممتاز مقام ہے۔ مولانا عبدالباری فرنگی محلیؒ کی ذات جمعےۃ علماء ہند کے لئے بنیاد کے پتھر کی حیثیت رکھتی ہے، مولانا ان شخصیات میں سے ہیں جن کی فکر اور کوششوں سے جمعےۃ علماء کی تشکیل ہوئی، قیام کے بعد آپ جمعےۃ کی تحریک اور سرگرمیوں میں تا حیات شریک رہے، پہلی ہی مجلس میں رکن نامزد ہوئے اور تاحیات رکن رہے۔ صدر جمعۃ علماء ہند نے کہا کہ دوسرے مولانا احمد سعید دہلویؒ کی شخصیت ہے جو وقت تاسیس سے وفات تک جمعےۃ کی خدمات اور ملک و ملت کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے رہے اور مسلسل اپنی کوششوں او ر مجاہدوں کے ذریعہ جمعۃ کو وسعت و استحکام بخشا۔ ملک میں شاید ہی کوئی ایسا جلسہ یا ایسی کوئی تحریک ہوگی، جس میں مولانا احمد سعید کی شرکت نہ رہی ہو۔آپ جمعےۃ کے ایسے منفرد و ممتاز رکن تھے جو تاسیس جمعےۃ سے لے کر اپنی وفات تک سرگرمی اور فعالیت کے ساتھ وابستہ رہے۔

سیمینار میں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا ابوالقاسم نعمانی اور دارالعلوم ندوۃ العلماء کے ناظم مولانا رابع حسنی ندوی کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا جو ذاتی اعذار کی بنیاد پر شریک نہ ہوسکے۔ اس موقع پر تعارف پیش کرتے ہوئے جمعےۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند نے پورے وقار کے ساتھ اپنے قیام کے سو سال پورے کرلئے ہیں۔ یہ اللہ رب العزت کی خصوصی نصرت واعانت کا مظہر ہے۔ آج کا یہ پروگرام اسی متحرک وفعال دینی وملی اور سماجی تنظیم جمعیۃ علماء ہند کے ان مایہ نازبانیوں، صدور ونظماء اور عظیم المرتبت، تاریخ ساز وانقلاب آفریں شخصیات کی دینی وملی، ملکی وقومی خدمات کے تعارف اور ان کے گراں قدر کارناموں سے نسل نو کو متعارف کرانے کے لئے منعقد کیا جارہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ تحریک آزادی سے لے کر وطن کی آزادی تک اس جماعت کا قائدانہ کردار رہاہے، آزادی کے بعد فسادات کے طویل اور بھیانک سلسلے کے دوران جمعیۃ علماء ہند کی رفاہی وملی خدمات کی ایک طویل تاریخ ہے۔ اس جماعت سے وابستہ مخلصین”رہبانٌ باللیل وفرسانٌ بالنہار” کے حقیقی مصداق تھے۔ مولانا خالد رشید فرنگی نے کہا کہ مولانا عبدالباری فرنگی محلی غیر معمولی صلاحیت کے مالک تھے۔ اس کی بڑی دلیل یہ ہے کہ انھوں نے صرف اڑتالیس سال کی عمر میں ایک سو تیرہ کتابیں تصنیف کی ہیں۔ آپ ملت اسلامیہ ہند اور ہندو اور مسلم اتحاد کے بڑے علم بردار تھے۔

جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے کہا کہ آج مجھے خوشی محسوس ہورہی ہے کہ ہم ایسی شخصیات سے متعلق اجلاس میں شریک ہوئے ہیں جو ہمارے اکابر تھے، جن کی مثال زمانہ نہیں پیش کرسکتا۔ سمینار میں پروفیسر شریف حسن قاسمی دہلی سا بق صدر شعبہ فارسی دہلی یونیورسٹی، مولانا ندیم الواجدی دیوبند، مولانا سلمان بجنوری دیوبند، مولانا متین الحق اسامہ کانپور مولانا ڈاکٹر اسجد قاسمی مرادآباد، مولانا حمزہ قاسمی دہلی یونیورسٹی، عدنان عبدالوالی فرنگی محلی لکھنو، ڈاکٹر شمیم اختر قاسمی کلکتہ پروفیسر ڈاکٹر ابوبکر عباد شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی، ڈاکٹر وارث مظہری شعبہ اسلامیات ہمدرد یونیورسٹی، ڈاکٹر منور حسن کمال ایڈیٹر ایوان ادب اردو دہلی وغیرہ نے مقالات وتاثرات پیش کیے۔

ان کے علاوہ اسٹیج پر مولاناسید شاہد امین عام جامعہ مظاہر علوم سہارنپور، حافظ پیرشبیر احمد حیدرآباد، راشد سعید نبیرہ مولانا احمد سعید دہلوی ؒ مولانا حافظ ندیم صدیقی مہاراشٹرا، مولانا معزالدین احمد، مولانا یحیی کریمی، مولانا ضیاء الحق خیر آبادی، مولانا اخترامام عادل، ڈاکٹر مسعود اعظمی، مولانا نیاز احمد فاروقی اور سیمینار کے کنوینر مولانا عمران اللہ قاسمی اور ڈاکٹر عبدالملک رسول پوری موجود تھے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close