تازہ ترین خبریںدلی نامہ

تاریخ گواہ ہے کسی کانگریسی نے پیٹھ پر گولی نہیں کھائی: جے پی اگروال

انگریزوں بھارت چھوڑو، اگست کرانتی کی یاد میں تاریخی حوض قاضی چوک پر جھنڈا سلامی تقریب کا انعقاد

نئی دہلی(انور حسین جعفری)
کرو یا مرو، انگریزوں بھارت چھوڑوکے نعرے کے ساتھ 9اگست 1942کو شروع ہوئی تحریک آزاد ی کی کوئیٹ انڈیا مومنٹ اگست کرانتی کے شہیدوں کی یاد میں پرانی دہلی کے حوض قاضی چوک پر جھنڈا سلامی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

واضح رہے کہ دہلی کے اگست کرا نتی میں دہلی کے چا ندنی چوک کے تاریخی ٹاؤن ہال پیش ا ٓئے واقعہ کو یاد کرتے ہوئے چاندنی چوک ضلع کانگریس کمیٹی کی جانب سے برسوں سے ٹاؤن ہال پر رسم پرچم کشائی کا انعقاد کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن چاندنی چوک کی تذین کاری کے چلتے اس برس 77 ویں سالگرہ پر یہ جھنڈا سلامی حوض قاضی چوک پر منعقد کی گئی۔ جس میں کانگریس کے سینئر لیڈر سابق ایم پی جے پرکاش اگروال نے ترنگا لہرا کر رسم پرچم کشائی ادا کی۔ جو چاندنی چوک ضلع کا نگریس کے صدر محمد عثمان کے زیر اہتمام منعقد ہوئی۔ اس موقع پر دہلی پردیش کانگریس کے ایگزیکٹو چیئرمین ہارون یوسف اور مسٹر راجیش للوٹھیا، دہلی پردیش مہیلا کانگریس صدر شرمشٹھا مکھرجی، سابق ممبر اسمبلی کنور کرن سنگھ وغیرہ سمیت دیگر اہم شخصیات مو جود تھے۔ اس موقع پر جے پرکاش اگروال نے کا نگریسی کا رکنان کی شال پہنا عزت افزائی کی۔

اس موقع پر سابق ایم پی جے پرکاش اگروال نے کہا کہ ہمارا ترنگا فرقہ پرستوں تقسیم کر نے والی طاقتوں پر پر کانگریس کی فتح کا ثبوت ہے۔انہوں نے کہاکہ 9اگست کو کا نگریس نے انگریزوں بھارت چھوڑو کا نعرہ دیا تھا، وہ نہتھے لوگ تھے جو برطانوی طاقت سے ٹکرائے تھے،انہوں ے ظلم انگریزون کے ظلم سہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کسی بھی کا نگریسی نے پیٹھ پر گو لی نہیں کھائی بلکہ چھاتی پر گو لی کھائی ہے۔آج جو لوگ فرقہ پرستی اور مذہب کے نام ملک کو تقسیم کر نے کی کوش ش کر رہے ہیں وہ کیا سمجھتے ہیں کہ کا نگریسی ڈر جا ئیں گے، وہ نہیں جا نتے ظلم کے خلاف کا نگریسی ہی کھڑے ہو تے رہے ہیں اور کھڑے ہو تے رہیں گے۔

کا نگریس کے سینئر لیڈر اور دہلی کا نگریس کے کا ر گزار صدر ہارون یو سف نے کہاکہ آزادی سے پہلے بھی اور آزادی کے بعد بھی آج تک اگر کسی نے بھی ان قوتوں سے مقابلہ کیا ہے تو صرف کانگریس پارٹی ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ اگست کرا نتی یاد ہے ان آزادی کے متوالوں کی جنہوں نے کا نگریس کی قیادت میں انگریزوں کو ملک سے باہر نکالنے کی تحریک شرو کی اور اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کیں۔ آج پھر فرقہ پرستوں کے خلاف اسی تحریک کو چھیڑنے کی ضرورت ہے، یہ فرقہ پرست ملک کو مذہب کے نام پر تقسیم کر نے کی کوشش کر رہے ہیں۔را جیش للوٹھیا نے کہاکہ آج پورے ملک میں خوف کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے لیکن کانگریس پارٹی کو اور مضبوط کر کے ان حالات سے لڑا جا سکتا ہے۔کیوں کہ وہی ایک پارٹی ہے جو آر ایس ایس اور بی جے پی سے ٹکر لے سکتی ہے۔

اس موقع پر دہلی خواتین کا نگریس کی صدر شرمشٹھا مکھرجی، سابق رکن اسمبلی کنور کرن سنگھ،میونسپل کونسلر پریرنا سنگھ، سیما طا ہرہ، سلطانہ عباد، ترون کمار، سابق کو نسلررمیش دتہ، اشوک جین، محمود ضیاء، ہری چند ورما، ترون کمار، شیخ علیم الدین اسعدی وغیرہ نے اظہار خیال کیا۔ اس موقع پرمرزا جا وید علی، دہلی کا نگریس کے سکریٹری محمد حامد خان، محمد طیب، فیض محمد خان، عرفان میر، پو رن چند بھگت، ڈاکٹر آر بی سنگھ، محمد خالد، حفیظ الحق، نعیم الدین سلمانی، محمد یو نس، مرسلین قریشی، سلیم زیدی، حاجی جمال الدین، شاہ جہاں بیگم،رضیہ بیگم، سعیدہ بیگم ایم نفیس، محمد شاہد، عباد الحق بادو بھائی، اکبر علی، شاہنواز حسین، جگموہن پردھان، بشیر تیل والے، زاہد بوس، محمد شعیب، جان عالم و غیرہ سمیت کثیر تعداد میں مردو خواتین کانگریس کے کارکنان و عہدیداران موجود تھے۔ اس موقع پر بزرگ شاعر امیر دہلوی نے حب الوطنی پر نظم پیش کی جبکہ نظامت پراگ جین نے کی۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close