اپنا دیش

بی جے پی کے رام اور سنتوں کے رام میں بڑا فرق: شنکر آچاریہ سوروپ آنند

رام مندر کی تعمیرکو لے کر سیاست گرم ہو رہی ہے۔ ایک طرف جہاں رام مندر کو لے کر ایودھیا میں سادھوں سنتوں کا اجلاس ہو رہا ہے وہیں دوسری جانب جہاں رکن پارلیمنٹ سبرامنیم سوامی نے اس تعلق سے وزیر اعظم کو ایک خط لکھا ہے، وہیں دواریکا شاردا پیٹھ کے شنکر آچاریہ سوامی سوروپ آنند سرسوتی نے پھر سے مندر تعمیر کے تعلق سے نریندر مودی کو ان کے گزشتہ سال کے وعدے کو یاد دلایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب نریندر مودی حکومت کو ایودھیا میں عالیشان مندر تعمیر کرنا چاہیے۔
اتوار کو ورنداون میں انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’’بھارتیہ جنتا پارٹی برسوں سے ایودھیا میں رام مندر تعمیر کی بات کرتی آئی ہے لیکن اس نے اس مدے کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا کیونکہ بی جے پی کے رام اور مذہبی سنتوں کے رام میں بڑا فرق ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’بی جے پی کے لئے رام ایک عظیم انسان ہیں لیکن ہمارے لئے وہ بھگوان ہیں اس لئے سنت چاہتے ہیں کہ ایودھیا میں بھگوان رام کا مندر تعمیر ہو اور بی جے پی کو اس مرتبہ اپنا وعدہ پورا کر کے دکھانا چاہیے‘‘۔ انہوں نے ایودھیا میں رام مندر تعمیر کے تعلق سے یہ دلیل دی کہ رام جنم بھومی پر کبھی مسجد نام کی کوئی عمارت تھی ہی نہیں، نہ کبھی وہاں بابر آیا اور نہ ہی تاریخ میں وہاں مسجد کو لے کر کوئی تفصیل ہے۔
شنکرآچاریہ نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے جب بی جے پی کو اپنے وعدے پورے کرنے چاہیے جن میں جموں و کشمیر سے شق 370 کو ہٹانا شامل ہے، گائے کے گوشت کا ایکسپورٹ بند ہونا شامل ہے، ملک کی پاک ندیوں کو آلودگی سے پاک کرنا شامل ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close