تازہ ترین خبریںدلی نامہ

بی جے پی کے ایم پی پرویش ورما اور منوج تیواری کا دعویٰ کھوکھلا

دہلی میں کوئی مسجد غیر قانونی طور پر نہیں ہے تعمیر، دہلی اقلیتی کمیشن کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے پیش کی مسجدوں کی حقیقی رپورٹ، پرویش ورما نے کی ہے قومی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی کوشش، پارلیمنٹ کی اخلاقیات کمیٹی میں شکایت کرنے کی تجویز

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
سرکاری زمینوں پر غیر قانونی طور پر مساجد کی تعمیر ہونے کا بی جے پی کے ایم بی پرویش ورما کا دعویٰ کھوکھلا ثابت ہوا ہے۔ دہلی اقلیتی کمیشن کی جانب سے مساجد کی تحقیقات کے لئے تشکیل دی گئی پانچ رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی (حقائق افشاکمیٹی) نے اپنی رپورٹ کمیشن کو سونپ دی ہے۔ جسے آج کمیشن کے دفتر میں کمیشن کے چیئر مین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کی سرپرستی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں تصاویر کے ساتھ کتابی شکل میں دہلی اقلیتی کمیشن نے عام کیا۔ اس موقع پر کمیشن کے ممبر سردار کوچر، انستاسیہ گل بھی موجود تھے۔ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی میں چیئر مین حقوق انسانی کارکن اویس سلطان خان، ممبررئیس احمد،ڈینزل فرنانڈز،انکور اوٹو،گرمندر سنگھ متھرو تھے۔ جن کی مثالی رپورٹ نے یہ پوری طرح واضح کر دیا کہ دہلی میں کوئی بھی مسجد، درگاہ یا مدارس سرکاری زمین پر قبضہ کرکے نہیں بنائے گئے ہیں۔ بلکہ متعدد مندر سرکاری زمین پر قبضہ کرکے تعمیر کئے گئے ہیں۔

کمیٹی نے کمیشن سے سفارش بھی کی ہے کہ ممبران پارلیمنٹ پرویش ورما اور منوج تیواری کے خلاف پارلیمنٹ کی اخلاقیات کمیٹی (ایتھکس کمیٹی) میں شکایت کی جائے کیونکہ انہوں نے نہ صرف اپنے حلف کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ مساجد کے معاملے میں ملک کو گمراہ کیا ہے۔ دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے کہا کہ کمیٹی کی رپورٹ کے بعد اس بات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ دہلی میں کسی بھی جگہ غیر قانونی طور پر کوئی مسجد نہیں بنائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تحقیقاتی رپورٹ دہلی کے ایل جی، دہلی وزیر اعلی اور تمام متعلقہ وزارتوں کو بھی پیش کی جائے گی تاکہ اصل حقائق منظر عام پر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کی جانب سے دونوں ممبران پارلیمنٹ کے خلاف شکایت کی سفارش پر بھی غور کیا جائے گا اور تجاویز اس کمیٹی نے کمیشن کو دی ہیں ان پر غور کرکے مثبت کاروائی کی جائے گی۔

کمیٹی کے چیئر مین اویس سلطان خان نے بتایا کہ بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ پرویش ورما نے دہلی کے ایل جی 54 مساجد کی ایک فہرست دی تھی جبکہ ہم نے 62 جگہوں سے زیادہ کی تحقیق کی ہے لیکن ہمیں ایک بھی مسجد، مدرسہ یا درگاہ ایسی نہیں ملی جو غیر قانونی طریقے سے تعمیر کی گئی ہو، بلکہ اس کے برعکس مسجدوں اور درگاہوں اور اوقاف کی جائداد پر سرکاری اور غیر سرکاری ناجائز قبضے ہیں۔ یہاں تک کہ قبرستانوں کو مسمار کئے جانے کا کام کیا جا رہا ہے۔ وہیں متعدد مندر ایسے ہیں جو غیر قانونی طور پر سرکاری زمینوں پر تعمیر کئے گئے ہیں اس سب کی تصاویر کے ساتھ ہم نے اپنی رپورٹ پیش کی ہے۔ اویس سلطان خان نے یہ بھی بتایا کہ مساجد کے سروے کیلئے دہلی وقف بورڈ نے بھی کمیٹی کا کسی بھی قسم کی تفتیش میں تعاون نہیں کیا، جبکہ چیئر مین امانت اللہ خان سے وقت لینے کے بعد ہم سے نہیں ملے۔ کمیٹی نے یہ بھی بتایا کہ ایم پی پرویش ورما اور منوج تیواری سے بھی ملنے کا وقت مانگا گیا تھا لیکن وہ نہیں ملے۔

بتا دیں کہ بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ پرویش ورما نے دہلی کے ایل جی 54 مساجد کی ایک فہرست دی تھی جس میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ یہ تمام مساجد غیر قانونی طور پر بنائی گئی ہیں۔ جن پر ورما نے ایل جی سے مساجد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ پرویش ورما کی تائید کرتے ہوئے دہلی پردیش بی جے پی کے صدر اور ممبر پارلیمنٹ منوج تیواری نے بھی دعویٰ کیا کہ دہلی میں بہت سی مساجد کی تحقیقات کی جانی چاہئے کہ بہت سی مساجد غیر قانونی طور پر بنائی گئی ہیں۔ پرویش ورما کی اس فہرست کی چھان بین کیلئے، دہلی اقلیتی کمیشن نے ایک کمیٹی تحقیقاتی تشکیل دی تھی۔ کمیٹی نے ان تمام مساجد کی تحقیقات کرکے 30 دن میں اپنی رپورٹ میں تمام حقائق کو کمیشن کے سامنے پیش کیا ہے۔ جس میں پرویش ورما اور منوج تیواری کے تمام دعوے اور الزامات کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں۔ تمام مساجد کے دستاویزات وغیرہ کی جانچ پڑتال کے بعد معلوم ہوا ہے کہ سرکاری اراضی یا دیگر جگہ پر ایک بھی مسجد غیر قانونی طور پر نہیں بنائی گئی ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close