تازہ ترین خبریںدلی نامہ

بی جے پی کی مرکزی حکومت نے ملک کو برباد کردیا ہے: شیلا دکشت

ائمہ کرام کا سیاسی استعمال شرمناک: ہارون یوسف، چاندنی چوک ضلع کا نگریس کی جا نب سے دہلی کانگریس کے نو منتخب صدور کو استقبالیہ

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
چاندنی چوک ضلع کا نگریس کمیٹی کے صدر محمد عثمان کی جانب سے دہلی کانگریس کی نو منتخب صدر شیلا دکشت اور ورکنگ صدور ہارون یوسف، را جیش للوٹھیا اور دیویندر یادو کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب اور کارکنان کانفرنس کا انعقاد آج اجمل خاں پارک میں کیا گیا۔ جس میں ریاستی صدر شیلا دکشت کا پھولوں کے ایک بڑے ہار سے استقبال کیا گیا اور محمد عثمان نے انہیں ’گدا‘ پیش کیا گیا۔ انہوں نے چاندنی چوک ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر اورکارکنان کا شکریہ ادا کیا۔

کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے دہلی کی سابق وزیر اعلی اور نو منتخب ریاستی صدر شیلا دکشت اور ورکنگ صدر ہارون یوسف نے دہلی کی ’آپ‘ حکومت اور بی جے پی کی مرکزی حکومت پر جم کر بڑھاس نکالی۔ شیلا دکشت نے کہا کہ مو دی حکومت نے ملک کو جی ایس ٹی اور نوٹ بندی کرکے برباد کر دیا ہے۔ جی ایس ٹی لاگو کرکے تاجر طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ جبکہ کیجریوال نے صرف گمراہ کن باتیں کرکے دہلی کی ترقی کو روک دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کارکنان کی طاقت کو دیکھ کر ہمیں یقین ہے کہ کانگریس پارلیمانی انتخابات میں دہلی کی تمام ساتوں سیٹوں پر فتح حاصل کرے گی اور مرکز میں کانگریس کی حکومت بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کے لوگوں کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کیسی حکومت چاہتے ہیں۔ شیلا دکشت نے کہا کہ کانگریس نے 15 سال کی حکمرانی میں ترقی کے بہت کام کئے ہیں۔ بی جے پی اور عام آدمی پارٹی دونوں کرپشن کے خلاف جنگ لڑنے کےلئے اقتدار میں آئی تھی، لیکن دونوں پارٹیاں بدعنوانی کے دلدل میں ڈوب چکی ہیں۔ کانگریس کے کارکنان کو گھر گھر جا کر ان کی بدعنوانیوں کی پول کھولنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ لوک پال کی وکالت کرنے والے کیجریوال آج چار سال سے اقتدار میں ہیں لیکن لوک پال کو انہوں نے ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا ہے۔

دہلی کے سابق وزیر اور دہلی کانگریس کے ورکنگ صدر ہارون یوسف نے دہلی وقف بورڈ کے ذریعہ اماموں کی تنخواہیں بڑھانے کے نام پر ’آپ‘ کےلئے تشہیر کئے جانے کی ہدایات پر ’آپ‘ حکومت پر برستے ہوئے کہا کہ یہ شرم کی بات ہے کہ اماموں اور موزنوں کو تنخواہیں بڑھانے کے عیوض عام آدمی پارٹی کے لئے تشہیر کرنے کو کہا جا رہا ہے۔ ایسا ملک کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا کہ دینی درس گاہوں اور مسجدوں کے ائمہ کا تنخواہیں بڑھانے کے نام پر سیاسی استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ افسوسناک اور شرم ناک ہے۔ ہارون یوسف نے کہا کہ کانگریس نے ہر مذہب کے افراد کی ترقی کےلئے بلا تفریق کا م کیا ہے۔ ملک کے عوام کانگریس کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ پرینکا گاندھی کے ساتھ ملک میں ایک نئی لہر اٹھی ہے جو جملے بازی اور گمراہ کرنے والوں کو بہا لیجائے گی۔ راہل گاندھی نے آر ایس ایس اور بی جے پی کی قلعی کھول دی ہے، مذہب کا سیاسی استعمال اور مذہب کے نام پر نفرت کی دیواریں کھڑی کرنے والوں کو بتا دینا چاہتے ہیں اب ان کے رونگی کا وقت آ گیا ہے۔ ہارون یوسف نے کہا کہ مرکزی بی جے پی حکومت اور دہلی کی ’آپ‘ حکومت نے کاروباریوں کو سیلنگ کی ’غار‘ میں دھکیل دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی واپسی سے بی جے پی اور ’آپ‘ گھبرا گئے ہیں۔ کیجریوال کبھی کہتے ہیں کہ ساتوں سیٹیں اننہیں دو وہ کانگریس کی حمایت کریں گے، کبھی کہتے ہیں کہ کانگریس جیت ہی نہیں رہی۔ جبکہ ہم بتا دینا چاہتے ہیں کہ راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس مضبوط ہے، جو ملک میں حکومت بنائے گی۔ ہارون یوسف نے کارکنان سے کہا کہ ہم دہلی کی ساتوں سیٹوں سمیت ملک میں حکومت بنائیں گے کیوں کہ کانگریس کے کارکنان نے بڑے بڑے مشکل دور کا مقابلہ کیا ہے، ہمیں صرف اپنی ’انا‘ کو بند رکھنا ہو گا۔ اس موقع پر ورکنگ صدر راجیش للوتھیا، دہلی حکومت کے سابق وزیر رماکانت گوسوامی، منگت رام سنگھل، ڈاکٹر نریندر ناتھ، سابق ممبر اسمبلی پرہلاد سنگھ ساہنی، کنور کرن سنگھ، کو نسلر آل محمد اقبال، راجیش جین، ارجن کمار وغیرہ نے بھی خطاب کیا۔

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close