تازہ ترین خبریںدلی این سی آر

بہوجن متحد ہوکر اعلی عدلیہ میں ریزرویشن کا مطالبہ کریں: ڈاکٹر ادت راج

آل انڈیا کنفیڈریشن آف ایس سی، ایس ٹی آرگنائزیشن کا جنتر منتر پر مظاہرہ

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
ریزرویشن کے تعلق سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر آل انڈیا کنفیڈریشن آف ایس سی، ایس ٹی آرگنائزیشن کے بینر تلے ڈاکٹر ادت راج کی قیادت میں ایک روزہ مزاحمتی مظاہرہ جنتر منتر پر منعقد کیا گیا۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے، جس میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی ریاست ریزرویشن کو نافذ کرنے کی پابند نہیں ہے، کے خلاف ہزاروں ایس سی، ایس ٹی، او بی سی کے لوگوں نے شرکت کی۔

اس موقع پر کنفیڈریشن کے قومی صدر اور سابق ایم پی ڈاکٹر ادت راج نے کہا کہ اتراکھنڈ کی بی جے پی حکومت نے سپریم کورٹ میں بڑا وکیل کرکے دلیل دی ہے کہ ریزرویشن آئینی حق نہیں ہے۔ اس سے بی جے پی اور سنگھ کی ذہنیت کی عکاسی ہوتی ہے۔ جہاں بی جے پی کی حکومت ہے، وہیں ریزرویشن کی مخالفت زیادہ کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2 اپریل 2018 کو جب ایس سی، دلتوں نے ایس سی، ایس ٹی مظالم ایکٹ کی ردوبدل اور نئے روسٹر پوائنٹس لانے پر بھارت بند کیا گیا، تب جہاں بھی بی جے پی کی حکومت ایم پی، راجستھان، اتر پردیش وغیرہ میں تھی وہاں بھارت بند کے دوران مظاہرین پر پر تشدد حملے ہوئے۔ 2014 کے بعد سے مودی حکومت نے نجی کاری، معاہدے اور آؤٹ سورسنگ کے ذریعہ ریزرویشن کو کمزور کرنے کا کام کیا ہے۔ سنگھ سنچالک موہن بھاگوت نے اپنی ذہنیت کا انکشاف کیا تھا کہ ریزرویشن پر نظرثانی کی جانی چاہئے۔ بہار کے انتخابات ہارنے کے بعد اس نے ذہنیت کو چھپانے کی کوشش کی، لیکن پچھلے تقریبا چھ سالوں میں جتنا نقصان دلت آدیواسی پسماندہ لوگوں ہوا ہے اتنا نقصان کبھی نہیں پہنچا تھا۔

ڈاکٹر ادت راج نے ملک کے بہوجنوں سے اپیل ہے کہ وہ متحد ہوکر اعلی عدلیہ میں ریزرویشن کا مطالبہ کریں۔ جس طرح بجلی، پانی اور قرضوں کا معاملہ ہے اسی طرح یہ بھی انتخابی مسئلہ بن جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم کانگریس پارٹی کا سپریم پارٹی کے فیصلے کے خلاف فوری لیٹ پلان کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے سماج وادی پارٹی اور آر جے ڈی جیسی سیاسی جماعتوں سے اپیل ہے کہ وہ عدلیہ کے بہوجن مخالف رویہ کے خلاف اپنا موقف سنجیدگی سے پیش کریں اس موقع پرکنفیڈریشن کے قومی جنرل سکریٹری ڈاکٹر اوم سدھا نے کہا کہ ملک کی سپریم کورٹ نے بہوجنوں کے خلاف فیصلے دینا شروع کردیئے ہیں، عدلیہ پر اس مذہبی تسلط کو ختم کرنا پڑے گا۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close