بہار- جھارکھنڈتازہ ترین خبریں

بہار کے ساڑھے تین لاکھ کنٹریکٹ اساتذہ کو دھچکا، مستقل کرنے سے عدالت کا انکار

بہار کے تقریباً ساڑھے تین لاکھ کنٹریکٹ اساتذہ کو سپریم کورٹ سے جمعہ کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب عدالت نے انہیں مستقل کرنے سے انکار کر دیا۔

عدالت عظمی کے جسٹس ابھے منوہر سپرے اور اودے امیش للت کی بینچ نے پٹنہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے یہ حکم سنایا۔ پٹنہ ہائی کورٹ نے 31 اکتوبر 2017 کو معاہدہ اساتذہ سے متعلق معاملے کی سماعت کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو ان مستقل اساتذہ کی طرح تنخواہ دینے کا حکم دیا تھا۔ نتیش حکومت نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

بہار حکومت کی جانب سے خصوصی اجازت کی درخواست دائر کرکے کہا گیا تھا کہ معاہدہ استاد پنچایتی راج اداروں کے اہلکار ہیں، ریاستی حکومت کے ملازم نہیں۔ اس صورت میں انہیں سرکاری اساتذہ کے برابر تنخواہیں نہیں دی جا سکتیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close