بہار- جھارکھنڈتازہ ترین خبریں

بہار شیلٹر ہوم معاملہ: سی بی آئی کا انکشاف، برجیش ٹھاکر نے 11 لڑکیوں کا قتل کرکے دفنا دیا تھا

بہار کے مظفر پور شیلٹر ہوم معاملہ میں ایک نیا موڑ سامنے آیا ہے جس نے ریاست میں پی جے پی حکومت کی شبیہ مزید خراب کردی ہے۔ سی بی آئی نے 3 مئی کو سپریم کورٹ میں سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ شیلٹر ہوم معاملہ کے اہم ملزم برجیش ٹھاکر اور ان کے ساتھیوں نے مل کر مبینہ طور پر 11 لڑکیوں کا قتل کیا اور انھیں ٹھکانے لگا دیا۔ جس کے ہڈیوں کی ایک پوٹلی شمشان گھاٹ سے برآمد ہوئی ہے جو انہیں ہلاک شدہ 11 لڑکیوں کی ہیں.

آپ کی جانکاری کے لئے بتا دیں کہ اس تعلق سے سی بی آئی نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کیا ہے جس میں سی بی آئی نے بتایا کہ جانچ کے دوران متاثرین کے درج بیانات میں 11 لڑکیوں کے نام سامنے آئے ہیں جن کا مبینہ طور پر برجیش ٹھاکر اور ان کے ساتھیوں نے قتل کر دیا تھا۔ سی بی آئی نے یہ بھی بتایا ایک ملزم کی نشاندہی پر ایک شمشان گھاٹ کے ایک خاص مقام کی کھدائی کی گئی جہاں سے ہڈیوں کی پوٹلی برآمد ہوئی۔

سی بی آئی کے اس انکشاف کے بعد آر جے ڈی لیڈر اور بہار کے سابق نائب وزیراعلیٰ تیجسوی یادو نے یکے بعد دیگرے کئی ٹویٹ کیے ہیں. جس میں انھوں نے نتیش حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’نریندر مودی جی آج پھر بہار آ رہے ہیں، لیکن اس گھناؤنے عمل پر ان کی زبان نہیں کھلے گی کیونکہ ان کے دوست نتیش کمار اور بی جے پی کے کئی وزراء اس عصمت دری واقعہ میں ملوث ہیں۔‘‘ اس کے علاوہ تیجسوی نے دوسرے ٹویٹ میں یہ لکھا کہ ’’سی بی آئی کے عبوری ڈائریکٹر کو ان عصمت دری کرنے والوں کو بچانے کے لیے ہی سزا ملی تھی۔‘‘

تیجسوی یادو نے اپنے ایک اور ٹویٹ نتیش کمار کو نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ ’’نتیش کمار میں شرم بچی ہے تو مظفر پور شیلٹر ہوم عصمت دری واقعہ میں ثبوت ملنے کے بعد معافی مانگ لینی چاہیے۔‘‘ اس کے علاوہ یہ سوال بھی کیاکہ ’’نتیش کمار برجیش ٹھاکر کے مظفر پور والے گھر کیا کرنے جاتے تھے؟ انھوں نے اس درندے پر ایف آئی آر کیوں نہیں کی۔ بعد میں کی تو پوکسو ایکٹ کی دفعہ کیوں نہیں لگائی۔‘‘ اس کے علاوہ انہوں نے دوسرے ٹویٹ میں گورنر سے گزارش کی کہ ’’مظفر نگر عصمت دری واقعہ میں نتیش حکومت کی مکمل ملی بھگت پائے جانے کے بعد اس غیر اخلاقی حکومت کو فوری اثر سے برخاست کیا جائے تبھی بہار کی مائیں اور بہن-بیٹی محفوظ رہ سکیں گی۔‘‘

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close