بہار- جھارکھنڈتازہ ترین خبریں

بہار اسمبلی انتخابات: سی پی آئی مالے نے بھی پکڑی الگ راہ

پٹنہ، ( یواین آئی )
بہار میں حزب اقتدار قومی جمہوری اتحاد ( این ڈی اے ) کے خلاف اپوزیشن کے کارگر اتحاد کے مقصد سے مہا گٹھ بندھن میں بایاں محاذ کو جوڑنے کی کوشش کو آج اس وقت جھٹکا لگا جب کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسوادی۔ لینن وادی ( سی پی آئی ۔مالے ) نے بھی اپنی الگ راہ پکڑلی اور 30 سیٹوں کی پہلی فہرست جاری کر دی۔

سی پی آئی۔ مالے کے ریاستی سکریٹری کنال نے بدھ کو یہاں بتایاکہ اسمبلی انتخاب کیلئے سیٹوں کے تال میل پر راشٹریہ جنتادل ( آرجے ڈی ) کے مابین ریاستی سطح پر کئی دور کی بات چیت ہوئی۔ اس کے بعد سی پی آئی۔ مالے نے اپنے دعوے والی سیٹوں کی تعداد گھٹاکر 30 کرلی تھی۔ مکمل تال میل کی صورت میں ان اہم 30 سیٹوں میں سے بھی 10 سیٹیں اور کم کرتے ہوئے ان کی پارٹی نے 20 سیٹوں کی دعویداری کو منظور کرنے کی تجویز رکھی تھی۔ لیکن آرجے ڈی کی جانب سے مالے کیلئے جو سیٹیں تجویز کی گئی ہیں ان میں پارٹی کے کام کاج ، تحریک اور پہچان والے پٹنہ، اورنگ آباد، جہان آباد، گیا، بکسر، نالندہ ضلع کی ایک بھی سیٹ شامل نہیں ہے۔ انہوںنے کہاکہ ایسے میں جب پہلے مرحلہ کے نامزدگی کا دور شروع ہی ہونے والا ہے پارٹی سیٹوں کی پہلی فہرست جاری کر رہی ہے ۔

مسٹر کنال نے کہاکہ پارٹی کی پہلی فہرست کے 30 اسمبلی سیٹوں میں تراری ، اگیاﺅں ، سندیش ، جگدیش پور ، آرہ ، درولی ، زیرہ دئی ، رگھوناتھ پور ، بلرام پور ، پالی گنج ، مسوڑھی ، پھلواری شریف ، کاراکاٹ ، اوبرا ، ارول ، گھوسی ، سکٹا ، بھورے ، کرتھا ، جہان آباد ، ہلسا ، اسلام پور ، حیا گھاٹ ، وارث نگر ، اورائی ، گائے گھاٹ ، بینی پٹی ، شیر گھاٹی ، ڈمراﺅں اور چین پور شامل ہیں۔

سی پی آئی مالے کے ریاستی سکریٹری نے کہاکہ لاک ڈاﺅن کے دوران تارکین وطن مزدوروں کی تباہی ، سب کو تعلیم اور اطمینان بخش روزگار دینے میں حکومت کی ناکامی اور مودی حکومت کے کسان مخالف زرعی قانون سے بہار کی عوام میں شدید ناراضگی ہے ۔ بہار کی عوام جنتاد ل یونائٹیڈ ( جے ڈی یو) اور بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) کی ڈبل انجن حکومت سے چھٹکارہ چاہتی ہے ۔

مسٹر کنال نے کہاکہ اس عوامی جذبے کی قدر کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوںکے مابین کارگر اتحاد اور سمجھوتا اور این ڈی اے مخالف ووٹوں کو سمیٹنے کی پرزور کوشش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے لیکن اب تک ایسا نہیں ہوپانا بیحد افسوس ناک ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اب بھی اگر مکمل تال میل کا کوئی امکان بنتا ہے تو سی پی آئی۔ مالے اس پر غور کرے گی۔

واضح رہے کہ سابق وزیراعلیٰ جیتن رام مانجھی کی پارٹی ہندوستانی عوام مورچہ ( ہم ) اور سابق مرکزی وزیر اپندر کشواہا کی راشٹریہ لوک سمتا پارٹی ( آر ایل ایس پی ) کے آرجے ڈی زیر قیادت مہا گٹھ بندھن سے ناطہ توڑنے کے بعد سیٹوں کے مناسب تال میل نہ ہوپانے سے حال ہی میں اتحاد میں شامل ہوئے بایاں محاذ میںسے ایک سی پی آئی۔ مالے نے بھی اپنے تیور سخت کرلئے ہیں۔ اس مسئلے پر کانگریس بھی اپنی ناراضگی دکھا رہی ہے۔

ذرائع کی مانیں تو مہا گٹھ بندھن میں سیٹ تقسیم کیلئے طے کئے گئے فارمولے کے تحت آرجے ڈی 135 سے 140 ، کانگریس کو 60 سے 65 ، بایاں محاذ کو 20 سے 25 ، ویکاس شیل انسان پارٹی( وی آئی پی ) کو پانچ سے آٹھ، جھارکھنڈ مکتی مورچہ ( جے ایم ایم ) کو تین اور سماجوادی پارٹی ( ایس پی ) کو دو سیٹوں پر انتخاب لڑاسکتی ہے۔

نیوز ایجنسی (یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close