اپنا دیشتازہ ترین خبریں

بھوپیش حکومت نے پاکستانی ہندوؤں کی شہریت پر لگائی روک

ملک بھر میں شہریت ترمیم قانون (سی اے اے) پر ہنگامے کے درمیان چھتیس گڑھ میں بھوپیش بگھیل کی حکومت نے پاکستان اور بنگلہ دیش سے آئے پناہ گزینوں کی شہریت کی کارروائی پر روک لگا دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابھی تک 130 لوگوں کو شہریت دی گئی ہے لیکن اسی سلسلے میں 67 پاکستانی ہندوؤں کی شہریت اب ‘پلمبنگ’ میں اٹکی ہوئی ہے۔ انتظامیہ کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ ان تمام افراد کے لئے ابھی قانونی کارروائی جاری ہے۔

رائے پور اے ڈی ایم ونیت ندنوار نے بتایا کہ ابھی تک 130 لوگوں کو شہریت دی گئی ہے لیکن اسی سلسلے میں 67 پاکستانی ہندوؤں کی شہریت ابھی ‘پلمبنگ’ میں اٹکی ہوئی ہے۔ اے ڈی ایم نے بتایا کہ جنہیں شہریت دی جا چکی ہے، وہ باہر کے ملک سے آئے ایسے لوگ ہیں جو ویزا اور پاسپورٹ ہولڈر ہیں۔ چھتیس گڑھ میں آئے پاسپورٹ اور ویزا ہولڈر 67 پاکستانی شہریوں کے بارے میں انٹیلی جنس ایجنسیاں اور مقامی پولیس کی جانب سے جانچ رپورٹ نہیں ملی ہے۔ اس کی وجہ سے 67 لوگوں کی شہریت لٹکی ہوئی ہے۔ اے ڈی ایم نے بتایا کہ جن غیر ملکی شہریوں کو بھارتی شہریت دینے کا عمل مکمل ہوچکا ہے یا چل رہی ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو پرانے شہری قوانین کے مطابق 12 سال ملک میں گزار چکے ہیں۔

جب اس سلسلے میں ہندوستان سماچار نے اے ڈی ایم سے یہ جاننا چاہا کہ شہریت قانون 10 جنوری کو لاگو ہو چکا ہے اور نئے قانون کے مطابق اب 6 سال بعد ہی شہریت دینے کا قانون ہے تو انہوں نے کہا کہ نئے شہریت قانون کا نوٹیفکیشن انہیں ابھی تک نہیں ملا ہے۔ سوال ہے کہ جب ضلع کلکٹر دفتر میں نئے شہریت قانون کا گزٹ پہنچا ہی نہیں ہے تو نئے قانون کے مطابق پاکستان سے آئے شہریوں کو بھارتی شہریت کس طرح دی جائے گی۔ سوال یہ بھی ہے کہ مرکزی حکومت کی طرف سے قانون لاگو کر دیئے جانے کے بعد بھی اگر ریاست میں ضلع افسروں کو اس قانون کی بارے میں اہم اطلاع نہیں دی گئی ہے تو اس کا مطلب کیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ریاست کے وزیر اعلی بھوپیش بگھیل شہریت ترمیم قانون اور این آر سی کی مخالفت کرچکے ہیں۔ انہوں نے کئی بار بیان دیا ہے کہ وہ چھتیس گڑھ میں شہریت قانون نافذ نہیں ہونے دیں گے۔ ان درمیان سب سے بڑا سوال ہے کہ پاسپورٹ اور ویزا جیسے دستاویزات کے بغیر چھتیس گڑھ آنے والے پاکستانی اور بنگلہ دیشی پناہ گزینوں کے بارے میں چھتیس گڑھ انتظامیہ کے پاس کوئی رپورٹ نہیں ہے اور نہ ہی انہیں شہریت دینے کی ابھی تک کوئی پہل کی جا سکی ہے۔ چھتیس گڑھ میں تقریبا 6 لاکھ غیر ملکی پناہ گزینوں کا سرکاری اعداد و شمار موجود ہے۔ ان میں سب سے زیادہ بنگلہ دیشی پناہ گزین ہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close