تازہ ترین خبریںدلی این سی آر

’بھارت ماتا‘ کو گالی دینے والے جائیں گے جیل: امت شاہ

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے آج واضح کیا کہ ’بھارت ماتا‘ کو جو بھی گالی دے گا وہ براہ راست جیل جائے گا۔

مسٹر شاہ نے ہریانہ میں اسمبلی انتخابات کے سلسلے میں بھیوانی، لوهارو اور کیتھل میں پارٹی امیدواروں جےپي دلال اور ششی رنجن پرمار کے حق میں عوامی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس پر حملہ بولتے ہوئے کہا کہ اس کے لیڈر راہل گاندھی بی جے پی، وزیر اعظم نریندر مودی اور امت شاہ کو کتنی بھی گالیاں دیں لیکن اگر کوئی ملک کو گالی دے گا تو اسے براہ راست جیل بھیجا جائے گا۔ انہوں نے کانگریس کو کنبہ پروری کی پارٹی بتاتے ہوئے کہا کہ اس پارٹی میں صرف خاندان کا بھلا سوچا جاتا ہے۔ سماج اور ملک کی ترقی کی اس کے لیڈروں کو کوئی فکر نہیں ہوتی۔ کانگریس سے کنبہ پرورہی لوگ الیکشن لڑ سکتے ہیں عام آدمی کو اس پارٹی میں موقع ملنا دور کی بات ہے۔

بی جے پی صدر نے سابق وزیر اعلی بھوپندر سنگھ ہڈا اور چوٹالہ پر نشانہ لگاتے ہوئے کہاکہ دونوں کے دور حکومت میں مبینہ طور پر جم کر بدعنوانی ہوئی۔ ایک کی حکومت جاتی تھی تو دوسرے کے آ جاتی تھی۔ چوٹالہ حکومت میں جہاں غنڈہ گردی جم کر چلتی تھی وہیں ہڈا حکومت میں جم کر بدعنوانی ہوتی تھی لیکن موجودہ منوہر لال کھٹر حکومت نے جرم اور بدعنوانی کے نظام پر تالا جڑکر ہریانہ کے عوام کو انصاف دیا ہے۔

لوهارو جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ریاستی حکومت کی جم کر پیٹھ تھپتھپائی اور کہا کہ جو کام ہریانہ میں گزشتہ 48 سالوں میں نہیں ہو پائے، موجودہ حکومت نے پانچ سال میں کرکے دیکھا دیئے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی منوہر لال نے ریاست سے جرم اور بدعنوانی ختم کر کے شفاف طریقے سے نوجوانوں کو میرٹ کی بنیاد پر نوکری دینے کا کام کیا جس کی بحث دوسری ریاستوں میں بھی ہوتی ہے۔

انہوں نے الزام لگایاکہ کانگریس کے وقت میں تبادلہ اور روزگار کی کھلی منڈی لگتی تھی لیکن بی جے پی حکومت نے اس منڈی پر تالا لگانے کا کام کیا ہے۔ ریاست کی موجودہ حکومت میں اساتذہ کو تبادلہ کے لئے پیسے نہیں دینے پڑتے، صرف ایک کلک پر شفاف آن لائین طریقے سے تبادلہ ہوتا ہے۔ اس نظام کی دوسری ریاست بھی پیروی کر رہے ہیں۔

مسٹر شاہ نے کہاکہ کانگریس کو صرف مخالفت کرنا ہے اور اس میں وہ ملک کے مفاد کو بھی نظر انداز کر دیتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت تین طلاق کا بل لائی تو کانگریس نے مخالفت کی۔ آرٹیکل 370 کو ختم کیا تو کانگریس نے پارلیمنٹ میں مخالفت میں ووٹ دیا۔ ایئر سٹرايك اور سرجیکل اسٹرائک کی تو یہ پارٹی مخالفت میں کھڑی ہو گئی۔ انہوں نے عوام سے سیدھا سوال کرتے ہوئے کہا آج انتخابات کا موسم ہے آپ لوگوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان کانگریسیوں سے پوچھیں کہ یہ لوگ ملک کے مفاد کے مسائل کی مخالفت کیوں کرتے ہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close