اپنا دیشتازہ ترین خبریں

’بھارت بچاؤ ریلی‘ میں کانگریس کی بی جے پی کو للکار

میرا نام راہل ساورکر نہیں، راہل گاندھی ہے، معافی مودی اور شاہ مانگیں: راہل گاندھی....... شہریت ترمیمی ایکٹ بھارت کے عقیدے کو تار تار کردیگا.....شہریت ترمیمی ایکٹ بھارت کی روح پر حملہ: سونیا گاندھی

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
دہلی کے تاریخی رام لیلال میدان میں منعقدہ ’بھارت بچاؤ ریلی‘ میں آج کانگریس نے عوامی جم غفیر کی ایک اور تاریخ رقم کرتے ہوئے مرکزی بی جے پی کو للکارا اور زبردست حملہ کیا۔ ریلی کو کانگریس کی عبوری صدر سونیا گاندھی، سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ، راہل گاندھی، پرینکا گاندھی پی چدمبرم، وپیندر سنگھ ہڈّا، سچن پائلٹ، جیوتی آدتیہ سندھیا، راجیو ساتو، بھوپیش بگھیل، کمل ناتھ اور دہلی کے صدر سبھاش چوپڑا نے خطاب کرتے ہوئے مرکزی بی جے پی حکومت پر جم کر حملہ بولا۔

ریلی میں ملک میں موجودہ حالات کی ذمہ دار مرکزی بی جے پی حکومت کو بتاتے ہوئے پارلیمنٹ میں پاس کرائے گئے شہریت ترمیمی ایکٹ بن چکے سی اے بی کی جم کر مخالفت کی گئی۔ کانگریس کی عبوری صدر سونیا گاندھی نے بی جے پی پر حملہ بولتے ہوئے کہاکہ مو دی اور شاہ کو اس بات کی پرواہ نہیں ہے کہ شہریت ترمیمی ایکٹ بھارت کی آستھا کو تار تار کر دیگا۔ جیسا کہ آسام میں ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ نا انصافی کو سہنا سب سے بڑا جرم ہے، یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم گھروں سے باہر نکلیں، کبھی ایسا وقت زندگی میں آتا ہے جب آر پار کا فیصلہ لینا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم یقین دلاتے ہیں جس کسی کے ساتھ بھی نا انصافی ہو گی اس کے ساتھ پوری کانگریس کھڑی ہے۔ سونیا گاندھی نے کہاکہ کا ہم مودی اور شاہ کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہم سب ملک کیلئے جد وجہد کرنے کو تیار ہیں، آج بھی کانگریس کسی بھی قربانی سے پیچھے نہیں ہے۔

راہل گاندھی نے بی جے پی کو للکارتے ہوئے ہوئے کہا کہ میرا نام راہل ساورکر نہیں، راہل گاندھی ہے، میں سچائی کیلئے مر جاؤں گا لیکن سچ بولنے کیلئے کبھی معافی نہیں مانگوں گا اور نہ ہی کوئی کانگریسی معافی مانگے گا۔ معافی مودی اور ان کے اسسٹنٹ امت شاہ کو مانگنی چاہئے۔ راہل گاندھی نے اپنے بیباک انداز میں کہاکہ شیر کے بچے ہیں کانگریسی، کانگریسی کارکنان کسی سے نہیں ڈرتے، ملک کیلئے جان دینے کو تیار رہتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ دنیا کا مستقبل انڈیا اور چین کو کہا جاتا تھا لیکن ملک کی معیشت کو مودی نے برباد کر دیا ہے۔ سب سے کمزور معیشت آج ملک کی ہے، آسام اور میزورم کو آگ لگا دی ہے، یہ ملک کو تقسیم کرنے کا کام کر رہے ہیں، یہ اقتدار کیلئے کچھ بھی کر دیں گے بس ان کی مارکیٹنگ ہونی چاہئے۔ راہل گاندھی نے میڈیا سے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب ہماری حکومت تھی تو میڈیا حکومت پر تنقید کرکے بیدار کرنے کا کام کرتی تھی لیکن آج میڈیا اپنی ذمہ داری بھول گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ادارے میں بیٹھے افسران اور میڈیا یہ یاد رکھیں کہ یہ آپ کی بھی ذمہ داری ہے،جب آپ پر حملہ ہوتا ہے تو وہ آپ پر نہیں بلکہ ملک کی روح پر حملہ ہوتا ہے۔ راہل گاندھی نے کہاکہ جو سرکاری دفاتر اور میڈیا میں ہیں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ ڈرو مت آپ کے ساتھ کانگریس ہے، سب مل کر اس نفرت کو مٹا ڈالیں گے۔

سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا کہ مودی نے عوام کو سبز باغ دکھائے تھے مگر وعدے پورے کرنے میں پوری طرح ناکام رہے ہیں۔ ہمارا فرض ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے ہاتھ مضبوط کریں تاکہ ملک کو صحیح طور پر اور صحیح سمت میں لے جایا جائے۔ بھوپیندر سنگھ ہڈّا نے کسانوں کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسان بچے گا تو بھارت بچے گا، اگر کسان بچانا ہے اور اس دھرتی کو بچانا ہے تو کانگریس کو اقتدار میں لانا پڑے گا۔

سچن پائلٹ نے کہاکہ آئین پر حملہ بی جے پی کر رہی ہے اس کا جواب سب کو مل کر دینا ضروری ہے، یہاں سے جاکر لوگوں کو جوڑیں اور بی جے پی کی عوامی مخالف سوچ سے لوگوں کو واقف کرائیں۔ جیوتی آدتیہ سندھیا نے کہاکہ بدلا نہیں ہے لیکن بدلاؤ ضروری ہے آج ملک کی جو خراب حالت ہے اگر وہ ایک فلم ہے تو س کا عنوان ’آل از ویل‘ ہے۔ سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کی قیادت میں ملک کے آئین کی حفاظت کرنی ہے۔ روجیو ساتو نے کہاکہ مودی حکومت نے اس ملک کو اور اقتصادی معیشت کو ڈوبو دیا ہے بھارت بچانے کا یہاں سے عزم لیکر ملک بھر میں اس کو پھیلائیں گے۔ بھوپیش بگھیل نے کہاکہ بی جے پی نے نوٹ بندی، جی ایس ٹی، 370 کو لاگو کیا اور اب این آر سی کو لاگو کرکے یہ ملک میں آگ لگانا چاہتے ہیں، اس کا ایک ہی حل اور متبادل صرف کانگریس ہے جو ملک کو بچا سکتی ہے۔

مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی کمل ناتھ نے کہاکہ ہم پوچھنا چاہتے ہیں بی جے پی میں کتنے مجاہد آزادی تھے جو آج یہ کانگریس کو حب الوطنی کا پاٹھ پڑھانے آئے ہیں یہ صرف لوگوں کا دھیان بھٹکانا چاہتے ہیں۔ دہلی کے صدر سبھاش چو پڑا نے کہاکہ یہ ریلی کرکے سونیا گاندھی اور راہل گاندھی نے بتا دیا کہ کانگریس ملک اور آئین کو بچانے کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں جو وعدہ کانگریس نے کیا تھا تینوں ریاستوں میں اقتدار میں آتتے ہی کسانوں کے قرض معاف کئے گئے۔ اب دہلی میں چناؤ ہے، دہلی کی آواز ملک کی آواز ہے۔ ایک مداری دہلی میں اور ایک مداری مرکز میں ہیں جو ملک کو گمراہ کر رہے ہیں۔

آخر میں دہلی کے انچارج پی سی چاکو نے اظہار تشکر کیا۔ اس موقع پر کانگریس کے سینئر لیڈران سابق ایم پی جے پی اگروال، پرویز ہاشمی، دہلی کے سابق وزیر ہارون یوسف، سابق ایم ایل اے حسن احمد، چو دھری متین احمد، شعیب اقبال، دہلی مہیلا کانگریس کی صدر شرمشٹھا مکھرجی اور تمام کونسلر، ضلع صدور اور عہدیداران موجود تھے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close