اپنا دیشتازہ ترین خبریں

بنگال کے مدرسوں کو بدنام کرنا چاہتی ہے بی جے پی: ممتا بنرجی

مغربی بنگال کے مدارس سے متعلق بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت کی پارلیمنٹ میں پیش کردہ رپورٹ کی سخت تنقید کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ بی جے پی نے سیاسی ایجنڈے کے تحت بنگال کے مدرسوں سے متعلق رپورٹ مرتب کیا گیا ہے کہ بنگال کے دو اضلاع میں مدرسوں کے ذریعہ دہشت گردوں کی بحالی کی جارہی ہے۔

وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ریاستی حکومت کی رپورٹ کو نظر انداز کرکے اپنے طور پر رپورٹ پیش کی ہے۔ جب پارلیمنٹ میں پوچھا گیا کہ ریاستی حکومت نے اس سے متعلق کیا کہا ہے۔ ممتا بنرجی نے اسمبلی میں کہا کہ جب 28جون کو سرحدی اضلاع میں مدرسوں سے متعلق سوالات پوچھے گئے تو مرکزی حکومت نے ہماری رپورٹ کو پیش نہیں کیا اور اپنے طور پر جواب دیا۔ اس موقع پر ممتا بنرجی نے ریاستی اسمبلی میں مدرسوں سے متعلق رپورٹ پیش کی۔

ممتابنرجی نے کہا کہ سماج دشمن وہ بہر صورت میں سماج دشمن ہی ہوتا ہے اس کو کسی بھی مذہب سے نہیں جوڑا جاسکتا ہے۔ چور چور ہی ہوتا ہے۔اگر کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو حکومت کو کارروائی کرنی چاہیے۔ بی جے پی ہر ایک چیز پر سیاست کرتی ہیں۔بی جے پی مرکزی ایجنسیوں کے خطوط ہر ایک کو بھیجے جارہے ہیں۔ہر ایک کو خوف زدہ کیا جارہا ہے۔مغربی بنگال میں سیاسی تشدد کے واقعات پر مرکزی وزیر مملکت جی کرشن ریڈی نے کہا کہ ہم نے بنگال حکومت سے اس سے متعقل رپورٹ مانگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات سے قبل اور بعد میں ہوئے تشدد کے واقعات سے متعلق ہمیں رپورٹ ملی ہے کہ مغربی بنگال میں سیاست کی بنیاد پر کئی افرادکی موت اور کئی زخمی ہوگئے ہیں۔ اور 9جون کو ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو لا اینڈ آرڈر کو برقرار رکھنے کو کہا گیا تھا۔

مرکزی وزیر مملکت نے یہ بھی کہا تھا کہ ممنوعہ جماعت المجاہدین بنگلہ دیش بردوان اور مرشدآباد کے ضلعوں کے مدرسوں میں دہشت گردی کیلئے نوجوانوں کی بحالی کر رہے ہیں۔ مرکزی وزیر کے بیان کے بعد بنگال اسمبلی میں بی جے پی کو چھوڑ کر بایاں محاذ، کانگریس اور ترنمول کانگریس تینوں نے اس مسئلے پر بحث کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔ دو دن قبل اپوزیشن لیڈر و سینئر کانگریسی رہنما عبد المنان نے ریاستی حکومت سے مرکزی حکومت کی پیش کردہ رپورٹ جواب طلب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب تک اس معاملے میں کارروائی کیوں نہیں ہوئی اور اگر یہ صرف سیاست کیلئے کیا جارہا ہے تو ہم یہ نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سے اتفاق و عدم اتفاق ہوسکتا ہے مگر بنگال کے کلچر، تہذیب و تمدن پر حملے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

عبدالمنان نے کہا تھا کہ بی جے پی حکومت کو بنگال کے مدرسوں سے متعلق علم نہیں ہے یہاں بڑی تعداد میں غیر مسلم بچے اورغیر مسلم اساتذہ پڑھاتے ہیں۔ ریاستی وزیرصدیق اللہ چودھری نے کہا تھا کہ ایک دو افراد کی غلطیوں کو پوری قوم سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔ تاہم جہاں تک مدرسوں کا سوال ہے کہ بنگال کے مدارس کی ایک تاریخ ہے اور ملک کی ترقی میں مدرسوں کے فاضل و تعلیم یافتہ نوجوانوں نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا مدرسوں کے خلاف بی جے پی ثبوت پیش نہیں کرسکے گی۔

سی پی ایم کے پولٹ بیورو کے رکن وسابق ممبر پارلیمنٹ محمد سلیم نے مرکزی حکومت کی رپورٹ کو سیاست قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ این آئی اے ان کے پاس ہے اب تک کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جب مرکز کے پاس رپورٹ تھی ایسے مدرسوں کو نشاندہی کی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا کوئی بھی ایک شہری دہشت گردی کی حمایت نہیں کرتا ہے۔ تاہم صرف سیاسی فاید ے کیلئے اس طرح کی رپورٹ پیش کرنے سے کچھ بھی حاصل نہیں ہونے والا ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close