اپنا دیشتازہ ترین خبریں

بنگال: وشوبھارتیہ یونیورسٹی کے ہاسٹل میں اے بی وی پی کا حملہ، دو طالب علم زخمی

جامعہ ملیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جواہر لعل یونیورسٹی میں حملے کے بعد بنگال کے شانتی نیکتن میں واقع وشو بھارتی یونیورسٹی میں طلباء حملے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔

یونیورسٹی کے ذرائع کے مطابق کل رات مبینہ طور پر اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے مبینہ کارکنان یونیورسٹی کے بوائے ہاسٹل میں داخل ہوکر طلبہ کے ساتھ مارپیٹ کی ہے۔ دو زخمی طالب علموں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا اور اور آل انڈیا اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن نے الزام لگایا ہے کہ یہ حملہ اکھل بھارتی و دھارتھی پریشد کے کارکنان نے کیا ہے۔

گزشتہ ہفتے بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ سواپن داس گپتا یونیورسٹی کی دعوت پرشہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی کی حمایت میں لیکچر دینے کیلئے آئے تھے مگر طلباء کے احتجاج کی وجہ سے وہ لیکچر نہیں دے سکے اور انہیں کئی گھنٹوں تک محاصر ہ کا سامنا کرنا پڑا۔ گورنر نے اس واقعے پر سخت رد عمل ظاہر کیا تھا۔ یونیورسٹی کے طلباء نے شوشل میڈیا پر حملے کی کئی ویڈیو پوسٹ کیا ہے۔ طلباء نے دعویٰ کیا ہے کہ ہاسٹل کے باہر بھی شاہرہ عام پر کچھ شرپسند عناصر جن کا بی جے پی سے تعلق ہے نے طلبا پر حملہ کیا ہے۔

ترنمول کانگریس نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرامن احتجاج کرنے والے طلبا پر حملہ کیا جانا انتہائی افسوسناک عمل ہے۔ پارٹی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی نے طلباء حملے کی کھلی چھوٹ دے دی ہے ترنمول کانگریس نے پولیس انتظامیہ اوریونورسٹی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ قصورواروں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔ اس حملے میں دو طالب علم شدید طور پر زخمی ہوگئے ہیں زخمی ہونے والے طالب علم کی شناخت سواپن مکھرجی اور سبھرا ناتھ کے طور کی گئی ہے ان دونوں کے جسم پر زخم کے کئی نشانات پائے گئے ہیں۔

یونیورسٹی کے طلباء نے الزام عاید کیا کہ اکھل بھارتیہ ودریارتھی پریشد کے لیڈر اچنتاباگدی جو یونیور سٹی کے سابق طالب علم ہیں کی قیادت میں ایک گروپ شبیر علی اور سلبھ کامگار شامل تھے کل رات یونیورسٹی میں داخل ہوتے حملہ شروع کردیا۔ہاسٹل میں رکھے گئے گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا ہے۔طلباء نے الزام عاید کیا ہے یونیورسٹی کے سیکورٹی آفیسر سپریہ گانگولی موقع پر پہنچنے کے باوجود بھی کوئی کاروائی نہیں کی۔

ایس ایف آئی کے لیڈرسرنجن بھٹاچاریہ نے کہا کہ یہ حملہ منصوبے بند تھا۔ حملہ آور کی شناخت ہورہی ہے۔ ان کے ہاتھوں میں لوہے کے رڈ اور وکٹ تھے۔ بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ گھوش نے کہاکہ یہ حملہ بی جے پی نہیں بلکہ ترنمول کانگریس سے وابستہ طلبانے کیا ہے۔ وشو بھارتی یونیورسٹی کے فیکلٹی ایسوسی ایشن کے صدر سدپتا بھٹاچاریہ نے کہا کہ یہ بہت ہی افسوس ناک اور قابل تنقید واقعہ ہے اور ہم انتظامیہ سے کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے اب تک اس پر کوئی رد عمل نہیں دیا ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close