اپنا دیشتازہ ترین خبریں

بنگال: ”این آر سی“ کے پیچ میں پھنسی بی جے پی

تین اسمبلی حلقوں کریم پور، کھڑکپور صدر اور کالیا گنج میں ضمنی انتخابات کے نتائج بنگال میں این آرسی کے نفاذ کی پرزور وکالت کرنے والی بی جے پی کیلئے پریشانی کا سبب بنتا جا رہا ہے۔ بی جے پی لیڈران کے ہی مختلف آراء سامنے آنے لگے ہیں۔ بی جے پی کے کئی لیڈروں نے اس کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ”بنگال میں این آرسی کہیں سیلف گول“ ثابت نہ ہوجائے اور انتخابی مدد پہنچانے کے بجائے یہ نقصان کی وجہ بھی ثابت ہوسکتی ہے۔

خیال رہے کہ چند مہینے قبل ہی بی جے پی کو کالیا گنج اور کھڑکپور صدر اسمبلی حلقے میں ہزاروں ووٹ کی سبقت ملی تھی مگر چند مہینے کے بعد ہی ووٹ فیصد کم ہوگیا۔کریم پور میں تو ترنمول کانگریس نے 50 فیصد ووٹ حاصل کیا ہے۔ جبکہ کریم پور اور کالیا گنج میں بڑی تعداد میں بنگلہ دیشی ہندو رفیوجی آباد ہیں جسے بی جے پی نے شہری ترمیمی بل اور این آرسی کے نام پر لبھانے کی بھر پور کوشش کی تھی مگر داؤ الٹا ہی پڑگیا۔

بنگال بی جے پی کے نائب صدر چندر کمار بوس نے پارٹی اعلیٰ قیادت کو این آرسی کے نفاذ از سر نو غور کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”پان انڈیا اسٹریجی وی ویکانند اور نیتاجی سبھاش چندر بوس کی سرزمین پر نافذ نہیں ہوسکتی ہے۔ نیتاجی سبھاش چندر بوس کے خاندان کے فرد چندر کمار بوس نے کہاکہ بی جے پی کو ریاست میں تنظیمی طور پر مضبوطی لانے پر توجہ دینی چاہیے اور یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ پان انڈیا اسٹریجی سوامی وی ویکانند اور نیتاجی سبھاش چندر بوس کی سرزمین پر نافذ نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہاکہ سیاسی جماعتوں کو ریاست میں انفراسٹکچر کو بہتر بنانے کی طرف توجہ دینی چاہیے نہ ووٹ بینک کیلئے پولرائزیشن پر زور دینا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ بنگال کے عوام سیاسی طور پر بہت ہی سمجھدار ہیں۔ ہماری پارٹی نے این آرسی کو اصل ایشو نہیں بنایا تھا مگر اس پر کنفیوژن پھیلایا گیا ہے۔ ہم نے کئی دیگر ایشو بھی اٹھائے ہیں۔ خیال رہے کہ اس سے قبل کالیا گنج سے بی جے پی کے امیدوار کمل چندر سرکار نے بھی اپنی شکست کیلئے این آرسی کے نفاذ کے اعلان کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا تھا کہ این آر سی پر بہت ہی زیادہ کنفیوزن پھیلا ہے۔

خیال رہے کہ 2019 کے لوک سبھا انتخاب میں بی جے پی نے این آر سی کو ایک بڑا ایشو بنایا تھاکہ اور وعدہ کیا تھاکہ مرکز میں حکومت قائم ہونے کے بعد بنگال میں بہر صورت این آرسی کو نافذ کیا جائے گا۔ تاہم ترنمول کانگریس نے این آر سی کے ایشو کو آسام کے نکتہ نظر پرچار کیا۔ جس میں 12 سے 13 لاکھ ہندو بنگالی بھی جگہ پانے میں ناکام رہے ہیں۔ جبکہ بی جے پی نے یہ باورکرانے کی کوشش کی کہ این آرسی کا ہدف مسلم درانداز ہیں تاہم ترنمول کانگریس نے آسام این آر سی کی روشنی میں عوام کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ مسلمانوں سے کہیں زیادہ ہندو بنگالی اس فہرست میں جگہ پانے میں ناکام رہے ہیں اس لیے این آر سی کا مقصد ہی بنگالیوں کو نشانہ بنانا ہے۔

تاہم لوک سبھا انتخاب کی مہم کے دوران بی جے پی نے کہا تھا کہ این آرسی کے نفاذ سے قبل پارلیمنٹ کے ذریعہ شہری ترمیمی بل پاس کرایا جائے گا جس میں بنگلہ دیش، پاکستان، افغانستان سے آنے والے ہندو، جین، بدھشٹ اور عیسائی رفیوجیوں کو ہندوستانی شہریت دی جائے گی۔ اس کے بعد ہی این آر سی نافذ ہوگا۔ ظاہر ہے کہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ این آر سی کا مقصد مسلمانوں کو ٹارگیٹ کرنا ہے۔ اگست میں کلکتہ میں منعقد ایک سمینار میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ تھاکہ”این آر سی کے ایشو پر بنگال کے عوام کو گمراہ کیا گیا ہے۔ میں یہاں غلط فہمیوں کو دور کرنے کیلئے آیا ہوں۔ ممتا دیدی کہتی ہیں کہ لاکھوں ہندو بنگالیوں کو نکال دیا جائے گا اس سے بڑا جھوٹ نہیں ہوسکتا ہے۔ میں بنگال کے عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ این آر سی نافذ ہوگا مگر ہندو، بدھشٹ، سکھ، جین اورعیسائی رفیوجیوں کو خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے انہیں شہری ترمیمی بل کے ذریعہ ہندوستانی شہریت دی جائے گی۔

ضمنی انتخاب کے نتائج آنے کے بعد بنگال بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ گھوش نے کہاکہ بنگال میں این آرسی زیادہ دنوں تک ایشو نہیں رہے گا۔ ہم نے کبھی بھی اس کو بڑا ایشو نہیں بنایا ہے۔ ستمبر گھوش نے کہا تھاکہ ترنمول کانگریس این آرسی کو ایشو بنا رہی ہے۔ خیال رہے کہ 2019 عام انتخابات میں بی جے پی کے انتخابی منشور میں تھا کہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی این آرسی کو مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔ تاہم اب یہ کہناکہ بنگال میں بی جے پی نے کبھی بھی این آرسی کو ایشو نہیں بنایا ہے یہ ثابت کرتا ہے کہ ترنمول کانگریس کی مہم اور ضمنی انتخاب کے نتائج نے بی جے پی کے اس ایشو کو متاثر کردیا ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close