اپنا دیشتازہ ترین خبریں

بلڈکینسر کے مریضوں کی عمر میں اضافہ: ماہرین

ڈاکٹروں کا دعوی ہے کہ شعبہ ادویہ میں نئی ایجادات کی بدولت بلڈ کینسر کے کرانک مائیلائڈ لکیمیا(سی ایم ایل) نامی بیماری سے لڑنے والے مریضوں کے عمر میں اضافہ ہوا ہے۔

الہ آباد میڈیکل اسوسی ایشن کے بینر تلے اتوار کو منعقد ایک ورکشاپ میں ملیٹری اسپتال کے کلینکل ہمیٹالوجی ڈپارٹمنٹ کے صلاح کار کمانڈنٹ ڈاکٹر ستیہ رنجن داس اور کملا نہرو اسپتال میں کینسر کے ماہر ڈاکٹر رادھا رانی نے خون کی خرابی، اس کی پہچان اور حل کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

ڈاکٹر داس نے بتایا کہ وقت پر اگر خون سے متعلق بیماریوں کی پہچان ہوجائے تو اس کا علاج کامیاب رہتا ہے۔ علا ج میں روکاوٹیں اس وقت پیدا ہوتی ہیں جب خون میں انفکشن ہوجاتا ہے۔ اگر مریض ایسی دواؤں کا استعمال کرتا ہے جس میں دھات کی مقدار زیادہ ہوتی ہے تو وہ کینسر کی وجہ بن سکتا ہے۔ موجودہ دور میں وقت پر اگر کینسر کی شناخت ہوجاتی ہے تو کیموتھریپی، بون میرو ٹرانسپلانٹ کے ذریعہ اس کا 60 فیصدسے 90 فیصد تک کامیاب علاج کیا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر رادھا گھوش نے بتایا کہ سی ایم ایل(کرانک مائلائٹ لکومیا) ایک لاکھ افراد میں سے ایک دو لوگوں کو ہی ہوتا ہے۔ یہ بیماری عمردراز لوگوں میں زیادہ ہوتی ہے اور اس کی اہم وجہ فلاڈیل فیا کرومو سیم ہے۔ابھی تک اس بیماری سے متأثر لوگوں کی زندگی 5۔6 سال ہوا کرتی تھی جو کہ جدید طریقہ علاج سے بڑھ کر 15 سے 20 سال ہوگئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں مہنگے ہونے کی وجہ سے غریبوں کا علاج ممکن نہیں تھا لیکن اب اس کی قیمت میں گراوٹ آنے کے بعدیہی ہر طبقے کے لئے اہم علاج ہے۔ سی ایم ایل ایک قسم کا خون کا کینسر ہے جس کا موجودہ وقت میں مثبت علاج موجود ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close