اپنا دیشتازہ ترین خبریں

برآمدات میں 50 ہزار کروڑ کی چھوٹ، رہائشی علاقوں کے لئے 20 ہزار کروڑ کا فنڈ

ہندوستانی اقتصادی نظام پر پڑنے والے بین الاقوامی کساد بازاری کے اثر سے نمٹنے کے لئے حکومت نے آج برآمداتی اور تعمیراتی سیکٹر کو بڑا پیکیج دیتے ہوئے برآمدکاروں کو راحت دینے کے لئے 50 ہزار کروڑ روپے کی چھوٹ دینے اور رہائشی سیکٹر کے لئے تقریباً 20 ہزار کروڑ روپے کا فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اقتصادی نظام کو رفتار دینےکے لئے کئی بڑے قدم اٹھائے گئے ہیں اور اسے نافذ کرنے کا کام شروع ہو سکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات کو فروغ دینےکے لئے غیر ملکی تجارت پالیسی 2015۔20 میں معلنہ ’مارکیٹ پر مبنی برآمدات چھوٹ منصوبہ‘ (ایم آئی آئی ایس) کو واپس لے لیا گیا ہے اور اس کی جگہ پر نیا منصوبہ ریمیشن آف ڈیوٹیز ٹیکسٹس آن اکسپورٹ پروڈکٹ ‘(روڈ ٹیپ)) لاگو ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایم آئی آئی ایس اور دیگر منصوبوں سے فائدہ برآمدکاروں کو اس سال 31 دسمبر تک ملتا رہے گا۔ اگلے سال یکم جنوری سے نیا منصوبہ لاگو ہو جائے گا۔ نئے منصوبے میں دو فیصد تک کی چھوٹ کپڑا اور دست کاری کے علاوہ دیگر برآمداتی اشیاء پر ملے گی۔ اس سے حکومت پر 50 ہزار کروڑ روپے کا بوجھ پڑنے کا اندازہ ہے۔

مرکزی وزیر نے کہاکہ کفایتی اور درمیانی کلاس کے مکانوں کی تعمیر کو بڑاھاوا دینے کے لئے حکومت پابند عہد ہے۔ اس سیکٹر کے لئے ایک خاص انتظام فراہم کیا جائے گا۔ حکومت کی توجہ ادھورے تعمیراتی منصوبوں کو مکمل کرانے پر ہے۔ اس کے لئے حکومت 10 ہزار کروڑ روپے کا ایک فنڈ قائم کرے گی جس میں اتنی ہی رقم نجی شعبے سے مہیا کی جائے گی۔ اس طرح سے فنڈ میں 20 ہزار کروڑ روپے کی رقم کی فراہمی ہوگی۔

محترمہ سیتارمن نے کہا کہ برآمداتی عمل میں تیزی لانے کے لئے رقم کی واپسی کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل کیا جارہا ہے اور اسے اسی ماہ کے آخر میں لاگو کیا جائے گا۔ بینک برآمد کنندگان کو زیادہ سے زیادہ کاروباری سرمایہ فراہم کریں گے، جس کی حکومت انشورنس کرے گی۔ اس سے حکومت پر سالانہ 1700 کروڑ روپئے کا بوجھ پڑے گا۔ پرائمری سیکٹر کے لئے برآمداتی قرض کے رہنما اصولوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس سے اس سیکٹر کو 36 ہزار کروڑ روپے سے لے کر 68 ہزار کروڑ روپئے تک اضافی طور پر میسر ہوں گے۔ برآمدات کے لئے سرمایہ کی صورت حال پر نگرانی کے لئے بین وزارتی گروپ تشکیل دی جائے گی۔

انہوں نے کہاکہ بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں پر برآمداتی دوست ٹیکنالوجی نصب کی جائے گی جس سے وقت اور رقم کی بچت ہوگی۔ عالمی معیارات طے کرنے کے لئے ٹیکنالوجی پر زور دیا جائے گا۔ یہ کام دسمبر 2019 تک مکمل ہوجائے گا۔ اس کی نگرانی کے لئے بین وزارتی گروپ تشکیل دی جائے گی۔ مختلف ممالک کے ساتھ آزادانہ تجارت کے معاہدوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے ، ایک ایف ٹی اے کارآمد مشن قائم کرے گا۔ یہ گروپ انڈین ایکسپورٹ فیڈریشن کے ساتھ مل کر کام کرے گا اور تاجروں کو مختلف ممالک میں ہندوستانی مصنوعات کے فوائد سے آگاہ کرے گا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ بازار کو فروغ دینے کے لئے، چرم، کپڑا، یوگا، سیاحت اور ٹکنالوجی پر مارچ 2020 میں چار مقامات پر میگا شاپنگ فیسٹیول منعقد کئے جائیں گے۔ اس سے تاجروں کو آپسی رابطہ کا موقع ملے گا۔ جدید ترین ٹکنالوجی کے استعمال پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مقررہ وقت کے اندر تکنیکی معیار تشکیل دینی ہوگی۔ اس سے ناقص معیار کی درآمدات کو روکا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ کاریگروں کو ای کامرس سے جوڑنے کے لئے حکومت خصوصی مہم چلائے گی۔ اس کے لئے کاریگروں کو رجسٹرڈ کیا جائے گا۔

محترمہ سیتارمن نے کہاکہ حکومت نے معیشت کو رفتار عطا کرنے کے لئے رئیل مارکیٹ پر بھی توجہ دی ہے۔ حکومت متوسط ​​طبقے اور سستے مکانات کے لئے پہلے ہی متعدد اقدامات کرچکی ہے۔ نئے اقدام کے تحت غیر ملکی تجارتی قرضے کے قوانین میں نرمی کی گئی ہے۔ سرکاری ملازمین کے لئے ’ ہاؤس بلڈنگ ایڈوانس‘ کی شرح سود اب حکومت کے 10 سالہ سیکیورٹیز پر ملنے والے رٹرن پر مبنی ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ اس سے ریئلٹی سیکٹر کو فروغ ملے گا۔

انہوں نے کہاکہ سستی اور درمیانی آمدنی والے گروپ مکانات کے نامکمل منصوبوں کو مکمل کرنے کے لئے 10 ہزار کروڑ روپے کا فنڈ بنایا جائے گا۔ یہی رقم نجی شعبے سے اٹھائی جائے گی۔ اس طرح سے اس فنڈ کی قیمت 20 ہزار کروڑ ہوگی۔ یہ فنڈ ان منصوبوں کی تکمیل کرے گا جو نان این پی اے اور نان این سی ایل ٹی کے زمرے میں ہیں۔ اس فنڈ کو بنانے میں لائف کارپوریشن آف انڈیا، بینک، سیورن فنڈ وغیرہ کا تعاون ہوگا۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close