تازہ ترین خبریںدلی این سی آر

باشندگان ہند بحیثیت ہندوستانی ایک قوم ہیں: قاری عثمان منصور پوری

مظلوم بن کر مر جانا ظالم بن کر زنددہ رہنے سے بہتر ہے: مولانا ارشد مدنی...........مرکز ی اور صوبائی حکومت ماب لنچنگ کے خلاف فوری موثر قانون بنائے: مولانا محمود مدنی.........جمعۃ علماء ہند کی جانب سے تالکٹورہ اسٹیڈیم میں ’امن وایکتا سمیلن‘ کا انعقاد ٭مختلف مذاہب کے رہنماؤں سمیت مختلف مسالک کے علماء کرام نے دیا امن، اتحاد و یکجہتی کا دیا پیغام

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
ملک میں مذہب کے نام پر پھیلائی جا رہی نفرت سے پیدا ہو رہے حالات میں مسلسل جاری ماب لنچنگ کے انسانیت سوز واقعات اور فرقہ پرستی پر قدغن لگانے کیلئے 100سال سے مسلمانوں کی رہنمائی کر رہی جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے دہلی کے تالکٹورہ اسٹیڈیم میں ’امن ایکتا سمّیلن‘ کا انعقاد کیا گیا۔ جس کی صدارت جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا قاری محمد عثمان منصور پوری نے کی۔ سمیلن میں مختلف مذاہب کے رہنماؤں اور علماء کرام نے شرکت کرکے امن اور یکجہتی کا پیغام دیا۔

اس موقع پر جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولاناسید محمود اسعد مدنی نے اعلامیہ پڑھا گیا جس کی تائید جمعیۃ علماء ہند کے صدر مو لانا سید ارشد مدنی، قاری عثمان منصور پوری کے ساتھ تمام مسلم رہنماؤں، علماء کرام اور مختلف مذاہب کے رہنماؤں سمیت اجلاس میں شریک ہزاروں عوام نے ہاتھ اٹھا کر کی۔ اعلامیہ میں مولانا محمود مدنی نے مذہب یا راشٹرواد کے نام پرنہتے اور کمزور لوگوں کو یکا دکاّ گھیر کر مارنے، جلانے، موت کے گھاٹ اتارنے اور سوشل میڈیا کے ذریعہ اس کی تشہیر کرنے اور عوام میں خوف وہراس پیدا کرنے کو نہایت گھناؤنا اور قابل نفرت عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب کسی بھی مہذب سماج میں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ یہ سمیلن مرکزی اور صوبائی سرکاروں سے ماب لنچنگ کے خلاف فوری طور سے موثر قانون بنانے کا مطالبہ کرتا ہے۔ جس میں مجرمین کو سخت سزا دینے کے ساتھ پولیس اور انتظامیہ کے اعلی عہدیداروں کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے انھیں بھی سزا دی جائے۔

مولانا محمود مدنی نے کہاکہ ملک کے ماحول کو ساز گار بنائے رکھنے کیلئے ہر ضلع، شہر اور گاؤں میں ’جمعیۃ سدبھاؤنا منچ‘ قائم کئے جائیں گے۔ یہ دیش ہمارا ہے، اس کو نفرت کی آندھیوں سے بچانے کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔ اس منچ میں ہر طبقہ اور ہر مذہب کے امن پسند شہریوں کو شامل کیا جائے اور اس منچ کی طرف سے موقع پر مشترکہ میٹنگیں اور پروگرام منعقد کیے جائیں تاکہ آپس میں اعتماد کی بحالی میں مدد مل سکے۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر اور معروف عالم دین مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ مظلوم بن کر مر جانا ظالم بن کر زندہ رہنے سے بہتر ہے۔ جمعۃ علماء ہند کے قیام کا مقصد ملک کے مختلف مذاہب کے درمیان امن و امان کا قیام ہے، ستر سال گزر جانے کے بعد بھی جمعۃ اپنے اکابر کی راہ پر قائم ہے اور حالات چاہے جیسے بھی ہوں، ہم اس سے نہیں ہٹیں گے۔ مسلمان صبر کا دامن ہرگز نہ چھوڑیں، اگر کوئی برا کہتا ہے تو بھی ماتھے پر شکن نہ آنے دو، اگر ایسا نہیں کرو گے تو فرقہ پرست اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے اگر ملک میں آگ لگ گئی تو یہ ملک نہ اکثریت کا ملک رہے گا اور نہ ہی اقلیت کا ملک رہے گا۔

اپنے صدارتی خطاب میں جمعۃ علماء ہند کے صدر مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری نے کہا کہ جمعۃ علماء ہند ہمیشہ سے یہ کہتی رہی ہے باشندگان ہند بحیثیت ہندستانی ایک قوم ہیں۔ جمعۃ علماء ہند کے سابق صدر حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ متحدہ قومیت کے علم بردار تھے اور انھوں نے اس نظریہ کو پیش کرکے قوموں کو جوڑنے اور ایک دھاگے میں باندھنے کی راہ دکھائی تھی۔ موجودہ حالات کے لئے حکومت ذمہ دار ہے، مگر یہ کہہ کر ہم اپنی ذمہ داری سے پلہ نہیں جھاڑ سکتے بلکہ ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اسلامی روایات کے مطابق تمام مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ حسنِ اخلاق کا رویہ اختیار کریں۔

اس موقع پر مارتھ نکیتن، رشی کیش، معاون بانی گلوبل انٹر فیتھ واش الائنس کے صدرسوامی چدانند سرسوتی، آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ کے صدر مولانا سید محمد اشرف کچھوچھوی، گیانی رنجیت سنگھ جی چیف گرنتھی گردوارہ بنگلہ صاحب، جنین مذہبہ رہنما اچاریہ لوکیش منی، بودھ رہنما لاما بزانگ انل جوسف تھومس کوٹو، آرک بشپ آف دہلی، جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، نوید حامد سید معین حسین صدر انجمن سید زادگان درگاہ اجمیر شریف، مولانا سید محمد تنویر ہاشمی صدر مسلم متحدہ کونسل وسجادہ نشین خانقاہ ہاشمیہ بیجاپور، پروفیسر اختر الواسع، ڈاکٹر سید ظفر محمود مولانا متین الحق اسامہ، مولانا صدیق اللہ چودھری، مولانا رحمت اللہ، مولانا حافظ ندیم احمد صدیقی، اشوک بھارتی، صدرنیکڈور، ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس، مولانا محمود احمد خاں دریابادی، سید سلمان چشتی صدر خواجہ غریب نواز فاؤنڈیشن اجمیر سمیت دیگر رہنماؤں اور علما کرام نے بھی اپنے خطاب میں امن اور اتحاد کا پیغام دیا۔ پروگرام میں مجتبیٰ فاروق، ڈاکٹر فادر میتھیو، فادر سوسئی سبسٹین، فادر آنند، مولانا نیاز احمد فاروقی، مولانا معزالدین سمیت کئی اہم شخصیات نے شرکت کی۔ نظامت کے فرائض مشترکہ طور سے مولانا محمود مدنی، مولانا مفتی محمد عفان منصور پوری ومولانا حکیم الدین قاسمی نے انجام دئے۔

واضح رہے کہ جمعیۃ علماء ہند کی صد سالہ تقریبات کے چلتے ملک کے موجودہ حالات پر جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے منعقدہ اس امن ایکتا سمّیلن میں اسٹیڈیم کے اندر اور باہر مجمع پچاس ہزار سے تجاوز کر گیا تھا۔ ہندوستان کے کونے کونے سے آنے والے لوگوں کے جم غفیر کے سبب اسٹیڈیم کے گیٹ بند کرنے پڑ گئے تھے۔ یہاں یہ بھی بتا دیں کہ جمعیۃ یوتھ کی جانب سے اسکاؤٹ اینڈ گائڈس کے سیکڑوں بچے اور نوجوان آئی ٹی او واقع جمعیۃ کے دفتر سے تالکٹورہ اسٹیڈیم تک لوگوں کی رہنمائی کر رہے تھے جبکہ اسٹیڈیم کے اندر اور باہر بھی اپنی خدمات انجام دے رہے تھے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close