تازہ ترین خبریںرمضان کی بہاریں

بادام کی گیریاں بھگو کر، چھلکا اتار کر دودھ کے ساتھ استعمال کریں: ڈاکٹر عامر صدیقی

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
رحمتوں اور برکتوں والے با فضیلت ماہ صیام کے بابرکت ایام جاری ہیں۔ رمضان الکریم کے پہلے عشرے کے اختتام کے ساتھ ننھے روزہ داروں کے بھی پہلا روزہ رکھنے اور روزہ کشائی تقریبات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ جس میں روزہ دار مختلف اقسام و انواع کے کھانوں کے ذائقے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔سخت گرمی اور امس کے اس موسم میں سحر و افطار میں کھانے میں لاپروائی روزہ داروں کو مختلف پریشانیوں میں مبتلہ کر دیتی ہے۔ روزہ دار کھانے پینے میں کیا استعمال کریں کہ وہ کسی بھی طرح کی پریشانیوں سے بچیں رہیں۔ اس سلسلے میں ڈاکتر محمد عامر صدیقی (بی یو ایم ایس جا معہ ہمدرد) نے کہاکہ ننھے رو زہ دار وں کیلئے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ اگر بچہ پہلی مرتبہ رو زہ رکھ رہا ہے یا صلوٰۃ التراویح میں قرآن سنا رہا ہے تو کھجور اور دودھ کے شیک کا استعمال کریں یا بادام کی کچھ گیریاں پانی میں بھگو کر چھوڑ دیں اور سحری میں ان کا چھلکا اتار کر دودھ کے ساتھ استعمال کریں یا اسے چورا کرکے دودھ میں ملا کر پئیں۔

ڈاکٹر عامر صدیقی نے کہاکہ جو بچے پہلی مرتبہ روزہ رکھ رہے ہیں انہیں سحری میں پہلے ہی اٹھا کر تھوڑا تھوڑا کچھ کھلا دیں کیوں کہ اگر عین سحری کے وقت اٹھایا جائے گا تو بچے سے پیٹ بھر کھا یا نہیں جائے گا۔ سحری میں بچے کا من پسند کھانا بنائیں تاکہ وہ شوق سے پیٹ بھر کر کھا سکے۔ لیکن یاد رکھیں یہ تلی بھنی، مصالے دار اور بادی چیزیں نہ ہوں۔ ہلکا اور تازہ کھانا ہی بچے کو دیں۔ کھجلہ اور فینی کے بجائے سیوئیاں اور رمضان کی ڈبل ورٹی دودھ کے ساتھ بچے دیں، لیکن دودھ زیادہ پلائیں۔ دودھ سئے جسم میں توانائی آئے گی وہیں ڈبل روٹی میں کاربوہائٹیڈ ہوتا ہے اس سے جسم میں طاقت آتی ہے اور معدے کو زیادہ کام ہاضمے کیلئے نہیں کرنا پڑتا۔ روزہ دارسحر و افطار میں تازہ پھلوں کے رس، دودھ کھجور کا شیک، موسمی رسیلے پھل، قدرتی مشروبات یا اچھے فلیورس کے مشروبات، دودھ دہی، چھاچھ، لیموں کی شکنجی وغیرہ کا استعمال کریں، لیکن یاد رکھیں کہ یہ تیز ٹھنڈے نہ ہوں، کیوں کہ تیز تھنڈہ پانی یا مشروبات کے افطار میں استعمال سے سر درد وغیرہ کی پریشانی ہوتی ہے۔ اگر بدہضمی، جلن، کھٹی ڈکاروں کی شکایت ہو تو روزہ دار بغیر چینی کا پھیکا دودھ استعمال کریں۔ انہوں نے کہاکہ رو زہ دار بچے کو کھجور سے روزہ افطار کرا کر پھلوں کا جوس پینے کو دیں، پیٹ بھر نہ کھلائیں اور نہ ہی پیٹ بھر کر پانی دیں۔ اس سے پریشانی پیدا ہو گی۔

ڈاکٹر عامر صدیقی نے کہاکہ گرمی کے موسم میں پانی کی کمی نہ ہو اس کے لئے ضروری ہے افطار سے سحری تک تھوڑا تھوڑا کرکے تقریباً 10لیٹر پانی پئیں۔ جسم میں نمکیات کی کمی نہ ہو اس کیلئے بہتر ہے جو پانی پئیں اس میں نمک چینی اور لیموں ملا کر شکنجی بنالیں یا پانی میں گلو کوز، الیکٹرول پاؤڈر ملا لیں۔ اکثر یہ عام چلن ہو گیا ہے کہ روزہ افطار کے وقت یا تقریبات میں کو لڈڈرنک کا کثرت سے استعمال کیا جانے لگا ہے۔ لوگ ہاضمے کی غرض سے کولڈ ڈرنک کا کثرت سے استعمال کرتے ہیں جبکہ یہ غلط ہے، چو نکہ کولڈ درنک میں گیس ہوتی ہے اس لئے لمبے وقت بھوکے پیاسے رہنے کے بعد کولڈ ڈرنک سیدھا کڈنی اور جسم کے دیگر اندرونی اعضاء پر اٹیک کرتے ہیں۔ جبکہ اس کے بر عکس قدرتی مشروبات جسم میں قوت و توانائی لاتے ہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close