اپنا دیشتازہ ترین خبریں

بابری مسجد کے لئے دی گئی 5 ایکڑ زمین منظور: سنی وقف بورڈ

اترپردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں پیر کو سنی سنٹرل وقف بورڈ کی ہوئی میٹنگ میں بورڈ نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر حکومت کی جانب سے بابری مسجد کے لئے دی گئی پانچ ایکڑ زمین کو لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے جلد ہی اس ضمن میں ٹرسٹ قائم کئے جانے کا اعلان کیا ہے۔ گذشتہ 9 نومبر کو سپریم کورٹ نے بابری مسجد۔رام مندر متنازع اراضی ملکیت معاملے میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے متنازع زمین پر رام مندر کی تعمیر اور بابری مسجد کی تعمیر کے لئے اجودھیا میں ہی کسی نمایاں مقام پر 5 ایکڑ زمین فراہم کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔

وقف بورڈ کی پیر کو یہاں ہوئی میٹنگ میں زمین لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ لیکن زمین لینے کے معاملے میں بورڈ کے اراکین مختلف فیہ نظر آئے۔ میٹنگ کے میں ہی حکومت کی جانب سے دی گئی زمین پر مسجد۔انڈو۔اسلامک سنٹر کے قیام و دیگر سرگرمیوں کو بروئے کار لانے کے لئے جلد ہی ایک ٹرسٹ قائم کئے جانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

بورڈ نے یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ حکومت کی جانب سے فراہم کی گئی زمین پر قائم کئے جانے والے انڈو۔اسلامک سنٹر کے تحت اسلامی تہذیب و ثقافت کا ریسرچ سنٹرکے ساتھ چیریٹیبل اسپتال، پبلک لائبریری اور سماج کے فلاح کی دیگر سہولیات کا نظم ہوگا۔ ٹرسٹ ہی مسجد سمیت دیگر چیزوں کی تعمیر اپنے وسائل سے کرے گا۔

اس سے قبل میٹنگ میں شرکت کے لئے 6 اراکین پہنچے تھے۔ میٹنگ کی صدارت سنی وقف بورڈ کے چیئر مین زفر فاروقی نے کی۔ میٹنگ میں عدنان فاروق شاہ، جنید صدیقی، سید احمد علی، ابرار احمد، جنید احمد میٹنگ میں موجود رہے جبکہ عبدالرزاق خان اور عمران معبود نے میٹنگ کا بائیکاٹ کر دیا۔

سنی وقف بورڈ کی جانب سے حکومت کے ذریعہ دی گئی زمین کو لینے کے فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے بورڈ کے چیئر مین نے مسٹر فاروقی نے بتایا کہ بورڈ نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے زمین لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب زمین کے استعمال کا فیصلہ ٹرسٹ کرے گا۔ جو جلد ہی تشکیل دیا جائےگا۔ حکومت کی جانب سے دی گئی زمین پر تعمیرات کے لئے سنی وقف بورڈ ایک بھی پیسہ نہیں خرچ کرے گا۔ نیز مسجد کا نام کیا ہوگا یہ بعد میں طے کیا جائے گا۔

سپریم کورٹ کے حکم پر عملد رآمد کرتے ہوئے یوپی حکومت نے پانچ فروری کو لکھنؤ۔ایودھیا ہائی وے پر سوہاول تحصیل کے روناہی پولیس اسٹیشن کے تحت دھنی پور گاؤں میں بابری مسجد کی تعمیر کے لئے 5 ایکڑ زمین فراہم کرنے کی تجویز مرکز کو بھیجی تھی جسے مرکز نے قبول کرلیا بابری مسجد کے متبادل کے طور پر فراہم کی گئی زمین ضلع ہیڈکوارٹر سے تقربیا 22 کلو میٹر دور ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close