تازہ ترین خبریںدلی نامہ

’بابری مسجد پر عدالت کا فیصلہ سمجھ سے بالاتر‘

فتح پوری مسجد کے امام مفتی مکرم احمد نے بتایا معاوضہ میں دی جا رہی جگہ کو لینا شرعاً ناجائز

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
بابری مسجد تنازعہ پر ملک کی عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر دہلی کی شاہی فتح پوری مسجد کے امام ڈاکٹر مفتی مکرم احمدنے آج کہاکہ بابری مسجد مقدمہ میں سپریم کورٹ کے فیصلہ میں انصاف نظر نہیں آتا بلکہ’آستھا‘ ہی ’آستھا‘ نظر آتی ہے۔ جبکہ کورٹ کا کہنا تھاکہ فیصلہ آستھا کی ببنیاد پر نہیں بلکہ قانون اور شواہد کی بنیاد پر سنایا جا ئیگا۔ مفتی مکرم نے کہاکہ کورٹ سچ کو چھپا بھی نہیں سکی، لیکن فیصلہ آستھا کی بنیاد پر سنایا گیا۔ اِسے فیصلہ نہیں کہا جائے گا یہ تو تصفیہ ہے، جس پر قانون کے ماہرین نے بھی سوال اٹھائے ہیں لیکن مسلمانوں نے مجبوراً صبر و تحمل کے ساتھ اس کو تسلیم کیا ہے۔

مو لانامفتی مکرم احمد آج شاہی فتح پوری مسجد میں نماز جمعہ سے قبل خطاب کر رہے تھے۔ آج جمعہ کی نماز کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کے قاری حضرات مسجد فتح پوری میں تلاوت قرآن کریم کی اور انہوں نے اپنی قرأت سے سامعین کو منورکیا۔ اس موقع پرجامعہ المصطفیٰ کے ذمہ داران نے بھی مسجد فتح پوری میں جمعہ کی نماز ادا کی اور مولانا مفتی مکرم سے ملاقات کی۔ نماز جمعہ سے قبل خطاب کرتے ہوئے مفتی مکرم احمد نے کہا کہ بابری مسجد کے معاوضہ میں اگر جگہ دی جارہی ہے تو شرعاً اُس جگہ کو لینا جائز نہیں ہے۔ فیصلہ میں اگر معاوضہ میں زمین دینے کا ذکر نہیں ہے تو لینے میں حرج نہیں ہے اس پر اتفاق اور اتحاد کے ساتھ فیصلہ لیا جانا چاہیے۔

مفتی مکرم نے ہندو مہاسبھا کے لیڈران کے بیان پر مذمت کی، جس میں انہوں نے کار سیوکوں کے مقدمات واپس لینے اور انہیں مجاہدین کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بابری مسجد کو شہید کرنے والے قانوناً جرم کے مرتکب ہوئے ہیں ان کو سزاضرور ہونی چاہیے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایسے مجرموں کے مقدمے واپس نہ لئے جائیں اور ان مقدمات کا فیصلہ بھی جلد ہونا چاہیے۔ تاکہ وہ کیفر کردار تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے امّت سے اپیل کی کہ سیرت طیبہ کی پیروی کو یقینی بنایا جائے یہی کامیابی کا واحد راستہ ہے جِسے امت نے فراموش کر دیا ہے۔ اس کے بغیر کوئی بھی کامیابی نہیں مل سکتی۔

واضح رہے کہ بابری مسجد تنازعہ پر عدالت عظمیٰ نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ لیکن بابری مسجد انہدامی کاروائی کا معاملہ ابھی زیر غور ہے۔ حالانکہ ہندوستانی مسلمانوں کی جانب سے کو رٹ کو فیصلے کو قابل احترام تسلیم کیا جا رہا ہے لیکن کہیں نہ کہیں خلش بھی باقی ہے۔ جہاں ہندوستانی مسلمان عدالت کے فیصلے کا احترام کر رہے ہیں اور امن و امان، بھائی چا رے کی مثال پیش کر رہے ہیں وہیں شدت پسند ہندو تنظیم ہندو مہا سبھا کی جانب سے با بری مسجد کی انہدامی کاروائی میں شامل افراد کومجاہداور مجرم کا ر سیوکوں کے مقدمے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

مفتی مکرم نے غزہ میں شہریوں پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی اور یو این او سے مطالبہ کیا کہ صہیونی جارحیت پر جلد ایکشن لیا جائے فلسطینی عوام پر حملے غیر انسانی اور ظالمانہ سلوک ہے۔ اس پر پابندیاں عائد کی جائیں اور سختی کے ساتھ اس پر ایکشن لیا جائے صہیونی حملوں سے یو این او کا وقار بار بار مجروح ہوا ہے یہ اچھا نہیں ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close