اپنا دیشتازہ ترین خبریں

بابری مسجد معاملہ: زمین قبول کرنے سے بورڈ کا انکار، فیصلہ کو چیلنج کرنے کا اعلان

بابری مسجد معاملہ میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اتوار کو آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اس معاملہ پر میٹنگ طلب کی تھی۔ یہ میٹنگ لکھنؤ کے ممتازپی جی کالج میں منعقد ہوئی، میٹنگ کے ختم ہونے کے بعد پریس کانفرنس میں مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا جائے گا اور انہیں کسی اور جگہ مسجد منظور نہیں ہے۔

بورڈکے رکن قاسم رسول الیاس نے کہا کہ مسجد کی زمین کے بدلے میں مسلمان کوئی دوسری زمین کو قبول نہیں کرسکتے ہیں اور انصاف کے تحت مسلمانوں کو بابری مسجد کی زمین دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان کسی دوسری جگہ پر حق لینے کیلئے سپریم کورٹ نہیں گئے تھے، بلکہ مسجد کی زمین پانے کیلئے سپریم کورٹ گئے تھے۔ قاسم رسول نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مانا کہ متنازعہ زمین پر نماز پڑھی جاتی تھی اور گنبدکی جگہ جائے پیدائش ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی معاملہ میں یہ فیصلہ سمجھ سے باہر ہے۔ بورڈ نے کہا کہ ہم نے متنازعہ زمین کے لئے جنگ لڑی تھی، وہی زمین چاہئے، کسی اور زمین کے لئے ہم نے جنگ نہیں لڑی تھی۔

سنی سنٹرل وقف بورڈ کے وکیل ظفریاب جیلانی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کی ورکنگ کمیٹی نے فیصلہ لیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی عرضی داخل کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلہ میں کئی خامیاں ہیں جس کی وجہ سے ہم ریویوپٹیشن داخل کریں گے۔ ظفریاب جیلانی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جو پانچ ایکڑ زمین دفعہ 142کے تحت وقف بورڈ کو دیا ہے اس کا شرعی پہلو کیا ہے اس پر بھی گفتگو ہوئی۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے یہ بھی کہا کہ اس کیس کی بھی ڈاکٹر راجیو دھون ہی کریں گے۔

میٹنگ میں بورڈ کے چیئرمین رابع حسنی ندوی سمیت اسد الدین اویسی اور ظفریاب جیلانی بھی موجود رہے۔ اجلاس کے دو اہم ایجنڈے تھے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست لگائی جائے یا نہیں اور مسجد کے لئے پانچ ایکڑ زمین قبول کی جائے یا نہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close