اپنا دیشتازہ ترین خبریں

بابری مسجد تنازعہ: سنی وقف بورڈ کے اعتراض کے باوجود پانچوں دن سماعت

سپریم کورٹ نے آج واضح کیا کہ اجودھیا میں بابری مسجد رام جنم بھومی اراضی تنازع کی سماعت پانچوں دن ہوگی۔ عدالت کے اس فیصلے کی سنی وقف بورڈ نے مخالفت کی تھی لیکن اس کے دلائل مسترد کرتے ہوئے پانچوں دن سماعت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

سپریم کورٹ میں عام طورپر پیر اور جمعہ کو نئے معاملوں کی سماعت ہوتی ہے۔ عدالت عظمی نے بھی اس سے پہلے اجودھیا تنازع کی سماعت منگل، بدھ اور جمعرات کو کرنے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن کل کی سماعت کے دوران اس نے اسے جمعہ اور پیر کو بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ، جسٹ ایس اے بوبڑے،جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس عبدالنظیر کی آئینی بینچ نے جیسے ہی آج سماعت شروع کی ویسے ہی وقف بورڈ کے وکیل راجیو دھون نے اس کی مخالفت کی۔

مسٹر دھون نے کہا،”اگر ہفتے کے پانچ دن اس معاملے کی سماعت چلتی ہے تو تیاری کا موقع فریقوں کو نہیں ملے گا۔ یہ فیصلہ غیر انسانی ہے اور اس سے عدالت کو کوئی مدد نہیں ملے گی۔ مجھ پر مقدمہ چھوڑنے کا دباؤ بھی بڑھیگا۔“ ان کی اس مخالفت پر جسٹس گوگوئی نے کہا،”ہم نے آپ تشویش کو درج کرلیا ہے،ہم آپ کو جلد اطلاع دیں گے۔“ جب آج معاملے کی سماعت ختم ہونے والی تھی تو جسٹس گوگوئی نے واضح کیا کہ آئینی بنچ پانچوں دن اس کی سماعت کرے گی۔ اگر مسٹر دھون کو ضروری ہوا تو انہیں درمیان میں کسی دن چھٹی دی جاسکتی ہے۔

واضح رہے کہ جمعہ کو ہوئی سماعت کے دوران آئینی بینچ نے کہا تھا، ”ہم اس معاملے کی روزانہ سماعت کریں گے۔ آئینی بینچ اس معاملے کو ترجیح دے رہی ہے۔ ججوں کو مقدمے پر اپنی توجہ مرکوز رکھنی ہوگی، کیونکہ اس کا ریکارڈ 20ہزار صفحات میں درج ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ اس سے دونوں فریقوں کے وکیلوں کو اپنی دلیلیں پیش کرنے کا وقت ملے گا اور جلد ہی اس پر فیصلہ آ سکے گا۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close