اپنا دیشتازہ ترین خبریں

بابری مسجد تنازعہ: رام للا کے وکیل کا دعویٰ، ’بھگوان‘ نابالغ ہوتے ہیں

سپریم کورٹ میں اجودھیا میں واقع رام جنم بھومی۔ بابری مسجد زمین تنازعہ کے نویں دن کی سماعت آج پوری ہوئی، جس میں رام للا وراجمان نے جہاں اپنی بحث پوری کی، وہیں جنم بھومی پونرودار سمیتی کے وکیل نے بھی اپنی دلیلیں پیش کیں۔

رام للا وراجمان کے وکیل سی ایس ویدناتھ نے چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی پانچ رکنی آئینی بنچ کے سامنے دلیل پیش کی کہ قانون کی طے صورت حال میں بھگوان ہمیشہ نابالغ ہوتے ہیں اور نابالغ کی جائیداد نہ تو چھینی جاسکتی ہے، نہ ہی اس پر قبضہ کا دعوی کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ“متنازعہ زمین صرف بھگوان کی ہے۔ وہ بھگوان رام کی جائے پیدائش ہے اس لئے کوئی وہاں مسجد بنا کر اس پر قبضے کا دعوی نہیں کرسکتا۔
“آئینی بنچ میں جسٹس ایس اے بوبڈے، جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس عبدالنظیر بھی شامل ہیں۔ مسٹر ویدناتھ نے دلیل دی کہ قبضہ کرکے ایشور کا حق نہیں چھینا جاسکتا ہے۔ جنم بھومی کے تئیں لوگوں کی عقیدت ہی کافی ہے۔ مورتی رکھنا اس مقام کو متبرک بنا دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘اجودھیا کے بھگوان رام للا نابالغ ہیں۔ ایسے میں نابالغ کی جائیداد کو نہ تو بیچا جاسکتا ہے اور نہ ہی چھینا جاسکتا ہے۔” مسٹر ویدناتھ نے اپنی دلیل پور کی، اس کے بعد رام جنم بھوم پن ردوار سمیتی کے وکیل پی این مشرا نے دلیل پیش کی۔ اعلی ترین عدالت نے پوچھا کہ وہ کس جانب سے پیش ہورہے ہیں۔ مسٹر شرما نے کہا کہ“میں مقدمہ نمبر چار میں مدعاعلیہ نمبر 20 ہوں۔” انہوں نے ارتھ وید سے اپنی دلیل دینی شروع کی۔ انہوں نے کہا کہ“متنازعہ مقام ہمارے اصول، عقیدت اور یقین کی بنیاد پر ایک مندر ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ بابرنے وہاں کبھی کوئی مسجد نہیں بنائی اور ہندو اس مقام پر ہمیشہ سے پوجا کرتے رہے ہیں۔ ہم اسے جنم بھومی کہتے ہیں جبکہ ان کا (بابری مسجد کے حامیوں کا) کہنا ہے کہ وہ جگہ جنم بھومی نہیں ہے۔

اس پر اعلی ترین عدالت نے پوچھا کہ“ہم عقیدت کے سلسلے میں مسلسل دلیلیں سن رہے ہیں۔ جن پر اعلی عدالت نے یقین کا بھی اظہار کیا ہے اس پر جو بھی واضح ثبوت ہیں وہ بتائیں۔”جسٹس گوگوئی نے مسٹر مشرا سے کہا کہ“تصویر میں یہ صاف بتائیے کہ مورتیاں کہاں ہیں۔” سمیتی کے بعد ہندو مہاسبھا کے وکیل نے دلیلیں پیش کیں۔ عدلات نے مہاسبھا سے مندر کے لئے دستاویزی ثبوت پیش کرنے کو کہا۔ عدالت نے کہا کہ“ہندو گرنتھوں میں عقیدت کی بنیاد متنازعہ نہیں ہے، لیکن ہمیں (رام جنم بھومی) مندر کے لئے دستاویزی ثبوت پیش کیجئے۔ سماعت کل بھی جاری رہے گی۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close