اترپردیشتازہ ترین خبریں

اے ایم یو: شہریت قانون کے خلاف طالبات اور خواتین کا پیدل مارچ

شہریت ترمیم قانون کے خلاف آج علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی سڑکوں پر طالبات اور خواتین نے ایک احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد کیا جس کے بعد ایک عرضداشت صدر جمہوریہ ہند کے نام بھی پیش کی گئی جس میں شہریت قانون کے فیصلہ کو واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ڈک پوائنٹ پر آج طالبات نے ایک پروگرام کا انعقاد کیا تھا جس کو خطاب کرنے کے لئے اے آئی ایس اے (آئیسا) کی صدر کنول پریت کور آئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ طلباء پر جو مظالم کئے جارہے ہیں اسکے خلاف اب ملک گیر تحریک شروع ہوگئی ہے اور اے ایم یو کی آواز کو دہلی تک پہنچ رہی ہے۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں طالبات اور ان کے سرپرستوں نے شرکت کی جو صرف خواتین تھیں۔

خطاب کرتے ہوئے صدر آئیسا دہلی کنول پریت کور نے کہاکہ آج ہم نے علی گڑھ آکر یہ پیغام عام کیا ہے، اترپردیش میں جمہوریت پوری طرح سے ختم ہوچکی ہے یہاں کے وزیر اعلی بھی جمہوری طرز کے قائل نہیں ہیں،اے ایم یو میں ایک طالب علم کا پولس بربریت میں ہاتھ تک چلا گیا، یوگی آدتیہ ناتھ پوری طرح سے ناکام ثابت ہوئے ہیں ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ وزیر اعلی فوری استعفیٰ دیں۔ انھوں نے کہا کہ اترپردیش میں جو لوگ بھی احتجاج کررہے ہیں انکی آواز دہلی تک پہنچ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئی آئی ٹی اور آئی آئی ایم بھی انکے ساتھ کھڑے ہوگئے۔

انھوں نے کہاکہ حکومت کہہ رہی ہے کہ طلبہ سمجھنے کو تیار نہیں ہیں لیکن ہم بتا دینا چاہتے ہیں کہ یہ ایکٹ سمجھنے لائق ہی نہیں ہے کہ میں خود لاء کی طالبہ ہوں اس لئے میں بتا دینا چاہتی ہوں کہ 1950 ہندوستان میں ایک ایکٹ پر پوری طرح سے بحث ہوچکی ہے جب بابا بھیم راؤ امبیڈکر اور کانسٹی ٹیوشن اسمبلی نے یہ مانا تھا کہ ہندوستان جمہوری ملک ہے یہاں شہریت مذہب کے نام پر نہیں دی جائے گی لیکن انھوں نے 70 سال بعد اس مسئلہ کو دوبارہ شروع کردیا ہے کہ کس طرح سے مسلمانوں کی شہریت چھینی جائیں اسی لئے شہریت ترمیم قانون لایا گیا ہے، اگر آپ کی نیت صاف تھی تو آپکو روہنگیا مسلمانوں سے کیا پریشانی تھی میانمار میں ان کے ساتھ جو ہوا انھیں دینا چاہیے، تمل ناڈو کے ہندوؤں کو بھی آپ شہریت دے نہیں رہے آپ نیپال کے ہندؤں کو شہریت نہیں دے رہے اس لئے آپ نے ہی خود ہمیں سمجھا دیا ہے کہ آپ پوری طرح سے مسلمانوں کے خلاف ہیں۔

طلباء لیڈرمریم نے کہا کہ ہم نے آج جو احتجاج نکالاہے اس میں خالص خواتین اور طالبات شریک ہوئی ہیں اور یہ پیغام عام کیا ہے کہ حکومت کے ظلم کے آگے ہم کسی بھی قیمت پر نہیں جھکیں گے اور شہریت ترمیم قانون کی مخالفت کرتے رہیں گے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close