تازہ ترین خبریںدلی این سی آر

ایک کنبہ بن گئے ہیں شاہین باغ کے مظاہرین

شاہین باغ میں لگا دیا گیا ’نو کیش، نو پے ٹی ایم، نو اکاؤنٹ‘ کا بینر ٭مظاہرہ گاہ پر ہر مذہب اور مکتب فکر کے لوگ جمع

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف دہلی کے شاہین باغ اور جامعہ ملیہ میں گزشتہ 36 روز سے جاری احتجاج وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ لیکن جہاں حکومت اور پولیس کی یہ کوشش ہے کہ مظاہرین کو یہاں سے ہٹا دیا جائے وہیں خواتین کو بدنام کرنے کی بھی اس احتجاج کے مخالفین کی جانب سے بھر پور کوشش کی جا رہی ہیں۔ خاتون مظاہرین کو بدنام اور اس دھرنے کو ’پری پیڈ‘ ثابت کرنے کیلئے ایک نام نہاد ویڈیو جس کی کوئی صداقت ظاہر نہیں ہے، کی بنیاد پر خواتین کو پیسے لیکر بیٹھنا بتایا جا رہا ہے۔ جس پر خواتین نے ان بدنام کرنے والوں کو جواب تو دیا ہی ہے، ساتھ الزام کے جواب میں وہاں ایک بینر بھی لگا دیا گیا ہے، جس پر واضح طور پر موٹے موٹے حرفوں میں لکھا گیا ہے کہ’نو کیش، نو پے ٹی ایم، نو اکاؤنٹ‘ کسی بھی وولینٹر کو کوئی پیسہ نہ دیں‘۔ خواتین نے اپنے بیانات میں اس الزام کو سرے سے خارج کرتے ہوئے الزام لگانے والوں سے کہا ہے کہ ہم انہیں پیسے دیتے ہیں وہ 36 روز تو کیا صرف ایک دن کیلئے اپنی ماؤں بہنوں کو لیکر یہاں اس موسم میں آکر بیٹھیں۔

شاہین باغ کی خواتون مظاہرین اور جامعہ کے طلبہ کی حوصلہ افزائی اورکا لے قانون کے خلاف ملک بھر سے مختلف شعبوں سے وابستہ نامور شخصیات اور عام عوام پہنچ رہے ہیں، خواتین اور طلبا یہاں پہنچ رہے ہیں، پنجاب سے آئے سکھوں کے ایک جتھے کے ساتھ تو خواتین بھی یہاں خاتون مظاہرین کی حمایت میں آئی ہیں جو یہاں کھانا پکا نا بھی کر رہی ہیں اور مظا ہرین کو کھلا رہی ہیں۔ ان کی مدد کیلئے اوکھلا کی خواتین بھی موجود ہیں۔ ایس لگتا ہے کہ جیسے شاہین باغ کوئی مظاہرہ یا دھرنا گاہ نہیں اور یہاں موجود خواتین اور لوگ مظا ہرین نہیں بلکہ کوئی بڑا کنبہ اور اس کے لوگ ہوں۔ سب کا ایک ہی مقصد اور ہدف ہے کہ سی اے اے، این آر سی، این پی آر کو ختم کیا جائے۔ حالانکہ حکومت اور پولیس انتظامیہ کیلئے سر درد بن چکے اس دھر نے کو یوم جمہوریہ سے قبل کسی بھی طرح ختم کرانے کی کوشش جاری ہے۔ جس کیلئے وہ مقامی لوگوں سے گفتگو بھی کر رہے ہیں اور مظاہرین کو دھرنا دوسری جگہ منتقل کر نے پر ہر ممکن تحفظ فراہم کرانے کی یقین دہانی بھی کرا رہے ہیں، لیکن ہر عمر کی خواتین، جن میں دودھ پیتے بچوں کی مائیں بھی شامل ہیں، بزرگ معمر خواتین بھی شامل ہیں، اپنے قدم پیچھے ہٹانے کو تیار نہیں ہیں اور اس کالے قانون کے خلاف آر پار کی لڑا ئی کیلئے تیار ہیں۔شاہین باغ میں موم بتیا ں جلا کر، مختلف نعرے اور سلوگن لکھ کر، انڈیا گیٹ کا ماڈل بنا کر اور اس پرشہیدوں کے نام لکھ اورلو ہے کا ہندوستان کا نقشہ تیار کر کے یکجہتی اور گنگا جمنی تہذیب کی مثالیں بھی پیش کی جا رہی ہیں، ہر مذہب کے لوگ یہاں جمع ہیں۔

وہیں جامعہ ملیہ اسلامیہ پر دھرنا دے رہے طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کیلئے دہلی کے مختلف کالج اور یو نیورسٹیوں، میڈیکل کالج، اے ایم یو اور ممبئی تک کے طلبا پہنچ رہے ہیں۔ ممبئی کے داکٹرو ں اور میڈیکل کے طلبا بھی یہاں موجود ہیں۔فلم اداکار سوشانت سنگھ اور مو ہت شرما بھی آج جامعہ پہنچے، اس کے قبل معروف فلم اداکار نفیسہ علی اور دیگر سیاسی سماجی لیڈران بھی جامعہ آ چکے ہیں۔ جامعہ کی دیواریں فوتوں گیلری میں تبدیل ہو چکی ہے، جہاں طلباء پر پولیس کی بربریت کی تصاویر اور نعرے لکھے ہوئے ہیں۔فلم اداکاراور ساودھان انڈیا کے اینکر سوشانت سنگھ نے جا معہ ملیہ کے طلباء اور شاہین باغ کی خاتون مظا ہرین کو ان کے حوصلے اور آ ئین کے تحفظ کے جذبے کو سلام پیش کیا۔

انہوں نے کہاکہ یہ قانون آئین کی روح پر حملہ ہے۔ وہیں موہت شرما نے اپنے منفرد انداز میں مو دی حکومت پر حملہ بولتے ہوئے سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے باریکی سے نقصانات اور اس کے آئین مخالف ہو نے پر لوگوں کو بتا یا۔ موہت شرما نے وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو چیلنج بھی کیا ہے کہ وہ ان سے سی اے اے، این آر سی اور این پی آر پر کھلے منچ پر بحث کریں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close