اپنا دیشتازہ ترین خبریں

ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانے سے قبل سیاسی جماعتیں خود کا محاسبہ کریں: کملیشور مکھرجی

بنگلہ فلموں کے مشہور ڈائریکٹر کملیشور مکھرجی نے بنگال کے رخصت پذیر گورنر کیسری ناتھ ترپاٹھی کے ممتا بنرجی حکومت سے متعلق بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جو کچھ کہا ہے اور جس کی طرف اشارہ کیا ہے وہ درست ہیں مگر کیسری ناتھ ترپاٹھی جو مرکز کے نمائندے کی حیثیت سے یہاں مقیم تھے کیا وہ اپنی حکومت کے رویے سے متعلق کچھ بول سکتے ہیں۔ کملیشور مکھرجی نے کہا کہ کیسر ی ناتھ ترپاٹھی اور اس سے قبل ترنمول کانگریس کی ممبر پارلیمنٹ مہوا مترا نے پارلیمنٹ میں اپنی پہلی تقریر مرکزی حکومت کے رویہ سے متعلق جس کی نشاندہی کی ہے وہ صد فیصد درست ہیں مگر کیا دونوں اپنی پارٹی کے نظریات، آئیڈیولوجی اور طریقے کار پر توجہ دیں گے۔

خیال رہے کہ کیسری ناتھ ترپاٹھی جو بنگال میں 5سالوں تک گورنر کے عہدہ پر فائز رہنے کے بعد رخصت ہو رہے ہیں نے اپنی وداعی انٹرویو میں کہا کہ ممتا بنرجی کے پاس ویژن ہے مگر ان کی خوشامدانہ پالیسی کی وجہ سے بنگال میں لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے اور ریاست میں فرقہ وارانہ کشیدگی کیلئے ممتا بنرجی کی پالیسی ذمہ دار ہے۔ کیسری ناتھ ترپاٹھی نے اپنے دوسرے انٹرویو میں کہا کہ ممتا بنرجی کا دراندازوں کے تئیں رویہ نرم ہے اس کی وجہ سے ریاست میں لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے۔ اسی طرح کرشنا نگر سے منتخب ترنمول کانگریس کی ممبر پارلیمنٹ نے مہوا مترا نے ملک میں فسطائی نظام کی چند علامتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ مرکز میں جس طریقے سے حکمرانی کی جارہی ہے وہ فسطائیت کی علامتوں سے مماثل ہیں۔ روپے کی طاقت کے ذریعہ عوام کی رائے عامہ کو متاثر کیا جا رہا ہے۔ میڈیا کو مکمل طور پر کنٹرول کر لیا گیا ہے۔

بنگلہ فلموں کے ڈائریکٹر کملیشور نے ان دونوں لیڈروں کے بیان سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ کیسری ناتھ ترپاٹھی اور مہوا مترا نے جو کچھ کہا ہے کہ وہ صد فیصد درست ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیسری ناتھ ترپاٹھی جو بی جے پی کے لیڈر ہیں کیا وہ اس کا جواب دیں گے کہ بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں کیا ہو رہا ہے۔ کیا وہاں اکثریت نوازی کی پالیسی نہیں اپنائی ہے گئی ہے۔ اسی طرح مہوا مترا کو ابس بات کو جواب دینا چاہیے کہ کیا بنگال حکومت میں فسطائیت کے علامات نہیں پائے جاتے ہیں۔ تو پھر تنقید کرنے سے قبل اپنی اصلاح کی بھی کوشش کرنی چاہیے۔

خیال رہے کہ جے شری رام کے نام پر تشدد کے واقعات پر مختلف شعبہ زندگی سے وابستہ 49 افراد نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیرا عظم مودی کے نام کھلا خط لکھتے ہوئے جے شری رام کے نعرے کے نام پر ہو رہے تشدد کے واقعات پر قابو پانے کیلئے اقدمات کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ اس خط کے عام ہونے کے بعد مخالفت اور حمایت میں آوازیں بلند ہونے لگیں بعد میں مودی حامی فلمی شخصیات نے خط لکھ پہلے لکھے گئے خط کی سخت تنقید کی اور الزام عاید کیا کہ یہ ملک کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔ ساتھ یہ بھی کہا کہ جب پنچایت انتخابات کے دوران تشدد کے واقعات رونما ہو رہے تھے اس وقت یہ لوگ آواز کیوں نہیں بلند کرتے ہیں۔ تاہم اب خطوط کے تبادلے کے دوران کملیشور مکھرجی نے ایک نئی بحث شروع کردی ہے۔

کملیشور نے لکھا ہے کہ پریشانیاں سیاسی لیڈروں کے درمیان میں ہی ہے۔ ایک دوسرے کی تنقید کرتے ہیں مگر اپنے ضمیر اور رویے کی تنقید کرتے ہیں مگر خود کا محاسبہ نہیں کرتے ہیں ان کی پارٹی رویہ جمہوری ہے؟ کیا پارٹی کی آئیڈیو لوجی، طریقے کار سے ملک میں جمہوریت محفوظ رہ سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ دائیں بازوں کے لوگ دوسروں کو ملک مخالف کہنے سے نہیں گریز نہیں کرتے ہیں مگر خود ہی نفرت اور انتہاپسندی کی مارکیٹنگ کرتے ہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close