تازہ ترین خبریںدلی نامہ

ایورڈ ادیبوں کے ادب کی خدمات کا اعتراف ہے: منیش سسودیا

دہلی اردو اکادمی کی سالانہ ایوارڈ تقریب برائے 2017-18 کا انعقاد

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
دہلی اردو اکادمی کی جانب سے سالانہ ایوارڈ 2017-18 تقریب کا انعقاد دہلی سکریٹریٹ میں عمل میں آیا۔ جس میں دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے شرکت کرکے ادب کے خدمت داروں کو ایوارڈ سے نوازا۔ اس موقع پر دہلی اردو اکادمی کے وائس چیئرمین پروفیسر شہپر رسول نے نائب و زیراعلی کا استقبال گلدستہ سے کیا جبکہ نائب وزیراعلی نے تمام ایوارڈ یافتگان کو پھولوں کا گلدستہ پیش کیا۔

دہلی اردو اکادمی کی سالانہ ایوارڈ تقریب میں کل ہند بہادر شاہ ظفر ایوارڈ معروف ادیب مجتبی حسین کو دیا گیا۔ اس ایوارڈ کی رقم ڈیڑھ لاکھ روپے ہے۔پنڈت برجموہن دتاتریہ کیفی ایوارڈ سے ڈاکٹر فیروز دہلوی کو سر فراز کیا گیا۔ اس ایوارڈ کی رقم بھی رقم ڈیڑھ لاکھ روپے ہے۔ ایوارڈ برائے تحقیق وتنقید پروفیسر حنیف کیفی کو، ایوارڈ برائے تخلیقی نثر ڈاکٹر خالد جاوید کو، ایوارڈ برائے شاعری پروفیسر خالد محمود، ایوارڈ برائے صحافت منصور آغا، ایوارڈ برائے ترجمہ نگاری عبدالنصیب خان اور ایوارڈ برائے ڈراما ڈاکٹر ایم سعید عالم کو پیش کیا گیا۔ ان ایوارڈز کی رقم 50-50 ہزار روپے ہے۔ تمام ایوارڈ یافتگان کو نائب و زیراعلی منیش سسودیا نے شال، سند، مومنٹو اور نقد انعامات سے نوازا۔

پروگرام میں استقبالیہ تقریر کرتے ہوئے اردو اکادمی کے وائس چیئرمین پروفیسر شہپر رسول نے کہا کہ اردو اکادمی ادیبوں کی حوصلہ افزائی کرتی رہی ہے۔ اردو اکادمی ہرسال ادیبوں کی خدمت میں ایوارڈ پیش کرتی ہے۔ ’قلم گویدکہ من شاہ جہانم‘۔ یہ پروگرام قلم کاروں کا جشن ہے، ادیبوں نے اپنی عمر کا بڑا حصہ ادب کی بیش بہا خدمات میں صرف کی ہیں۔ ادب کی مختلف شاخیں ہیں، ان کی خدمات کا اعتراف کرنا اردو اکادمی کا فرض ہے۔ وزیراعلی اور نائب وزیراعلی اردو تہذیب وادب اور زبان کی پذیرائی کرتے رہتے ہیں اور ہمیشہ اردو اکادمی کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ پروگرام کے مہمان خصوصی اور دہلی کے نائب وزیراعلی منیش سسودیا نے کہا کہ دراصل یہ ایوارڈ ادیبوں کی خدمات کا اعتراف ہے۔ میں تمام ایوارڈ یافتگان ادیبوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ سب نے اردو اکادمی کا ایوارڈ قبول کیا۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ تمام زبانوں بشمول اردو کے فروغ کو یقینی بنایا جائے۔ اسکولوں اور مدرسوں میں اسناد کے حصول کےلئے تعلیم دی جاتی ہے، مگر ادب زندگی کا سلیقہ سکھاتا ہے۔ آپ سب نے اردو کی ناقابل فراموش خدمات انجام دی ہیں، جس کا اعتراف کرنا ہمارا فرض ہے۔ وزیر موصوف نے کہا کہ دہلی حکومت نے 15زبانوں کی اکادمیاں قائم کی ہیں۔ ملک کی تمام زبانوں کی اکادمیاں ہمیں قائم کرنی ہیں۔مجھے امید ہے کہ تمام اکادمیاں عنقریب اردو اکادمی کی طرح متحرک وفعال ہو جائیں گی۔ جو کام شاعر، تخلیق کار اور ڈرامہ نگار کرتے ہیں وہ بہت اہم ہیں۔ ملک کی تاریخ میں اردو ثقافت میلہ اردو اکادمی کا بڑا کارنامہ ہے۔ دہلی حکومت نے نئی نسل تک اردو کو پہنچانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ اس طرح کے مزید پروگرام ہم کرتے رہیں گے۔ ہم ان تمام لوگوں کی قدر کرتے ہیں جو اردو کی خدمات انجام دے رہے ہیں اور اردو کے فروغ کو یقینی بنا رہے ہیں۔

اس موقع پر اردو اکادمی کے سکریٹری ایس ایم علی نے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ دہلی کے وزیراعلی اور نائب وزیراعلی کے شکر گذار ہیں کہ وہ اردو کے فروغ کےلئے کو شاں ہیں۔ پروگرام کی نظامت اطہر سعید اور ریشما فاروقی نے کی۔ اس موقع پر دہلی اردو اکادمی کے افسران اور اسٹاف سمیت ایوارڈ یافتہ گان کے اہل خانہ نے بھی اس پر مسرت تقریب میں شرکت کی۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close