اپنا دیشتازہ ترین خبریں

’این پی آر کی موجودہ شکل ہمیں منظور نہیں‘

جب تک یہ قانون واپس نہیں ہوگا ہم خاموش بیٹھنے والے نہیں، ممبئی میں منعقد تحفظ جمہوریت کانفرنس میں مولانا سید ارشد مدنی کا اعلان

مذہب کی بنیاد پر تفریق کرنے والے قانون سی اے اے، این آرسی اور این پی آرکی موجودہ شکل کو ہم مسترد کرتے ہیں، ہمیں ایسا کوئی قانون منظور نہیں جو آئین کی بنیاد کو زد پہنچاتا اور شہریوں کے حقوق کو صلب کرتا ہو، ہندو مسلم اتحاد جمعیۃ علماء ہند کی بنیاد ہے اور آج انسانوں کے اس ٹھاٹھیں مارتے سمندر میں بھی ہندومسلم اتحاد کا عملی مظاہرہ ہو رہا ہے، جمعیۃ علماء ہند اسی اتحاد کے سہارے ان قوانین کے خلاف پورے ملک میں تحریک چلائے گی ہم اب رکنے والے نہیں جب تک حکومت ان تینوں کو واپس نہیں لیتی ہماری تحریک جاری رہے گی ہم جھکنے والے نہیں، جس طرح ملک کے ہندو اور مسلمانوں نے متحد ہوکر انگریزوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا تھا ہم اس حکومت کو بھی جھکنے پر مجبور کردیں گے یہ الفاظ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشدمدنی کی اس تقریر کا ابتدائیہ ہیں جو انہوں نے مجلس منتظمہ کے اجلاس کے اختتام پر ممبئی کے تاریخی آزاد میدان میں منعقد تحفظ جمہوریت کانفرنس میں لاکھوں کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہی، تقریر کیا تھی ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ سامعین کے دلوں کی آواز تھی اور لوگ ہمہ تن گوش تھے، انہوں نے اس پس منظر میں آسام کا حوالہ دیا اور کہا کہ وہاں کے ہندو اور مسلمان اس امتحان سے گزر چکے ہیں.

جمعیۃ علماء ہند پچھلے پچاس برس سے اس مسئلہ میں ان لوگوں کے ساتھ عملی طور پر شریک رہی ہے، نشانہ وہاں کے 70۔80 لاکھ مسلمانوں کو ریاست سے در بدر کر دینے کا تھا چنانچہ شہریت کے حصول کے عمل میں ان کی راہ میں مسلسل روڑے اٹکائے گئے، جمعیۃ علماء ہند نے اس کو لیکر مسلسل قانونی جدوجہد کی یہاں تک کہ گوہاٹی ہائی کورٹ کے فیصلہ سے جب 48 لاکھ خواتین کے سروں پر شہریت کھونے کی تلوار لٹکی تو یہ جمعیۃ علماء ہند ہی تھی جو سپریم کورٹ گئی اور اس فیصلہ کے خلاف کامیابی حاصل کی، پنچایت سرٹیفیکٹ کو قانونی دستاویز تسلیم کر لیا گیا ان 48 لاکھ میں تقریبا 20 لاکھ ہندو خواتین تھیں، جمعیۃ علماء ہند نے یہ کام اس لئے کیا کیونکہ وہ ہندو اور مسلمان میں کوئی تفریق نہیں کرتی اپنے قیام سے لیکر اب تک وہ ہندو مسلم اتحاد کے راستہ پر چل رہی ہے.

مولانا مدنی نے آگے کہا کہ اس جماعت کو قائم کرتے ہوئے ہمارے اکابرین نے اس کے منشور میں ہندو مسلم اتحاد کو ہی اولیت دی تھی تب سے یہ جماعت ہندو مسلم اتحاد کی راہ پر گامزن ہے اور آئندہ بھی وہ اسی راہ پر چلتی رہے گی انہوں نے کہا کہ اگر حکومت سی اے اے کے ذریعہ کسی کو شہریت دیتی ہے تو ہمیں کوئی پریشانی نہیں لیکن مذہب کی بنیاد پر آپ اس ملک میں صدیو ں سے آباد لوگوں کی شہریت چھین لیں یہ ہمیں منظور نہیں، جمعیۃ علماء ہند ایسا کبھی نہیں ہونے دے گی، انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض صوبائی حکومتوں نے اسمبلی میں تجویز پاس کرکے کہا ہے کہ وہ این پی آر کو لاگو نہیں کریں گی اس میں وہ کامیاب ہوں گی یا نہیں یہ سوال بعد کا ہے، اہم بات یہ ہے کہ عوام نے بی جے پی کی نفرت کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے، پہلے جھارکھنڈ اور اب دہلی میں اسے دھول چاٹنی پڑی ہے، یہ تنہا مسلمانوں کا کارنامہ نہیں ہے اگر ہندو مسلم اتحاد نہ ہوتا تو اس طرح کا نتیجہ کبھی نہیں آ سکتا تھا ہم اسے اس لئے خوش آئند سمجھتے ہیں کہ ملک کے موجودہ حالات میں یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے، بی جے پی نے ان دونوں ریاستوں میں جیتنے کے لئے اپنی پوری طاقت جھونک دی تھی انہوں نے جو کچھ مسلم مخالف فیصلے کئے تھے اسے الیکشن میں ہر طرح سے کیش کرنے کی کوشش بھی کی دہلی میں تو ملک کے وزیر داخلہ نے سڑکوں سڑکوں گلیوں گلیوں گھوم کر ووٹ کی بھیک بھی مانگی، لیکن انہیں نہ تو ہندووں نے ووٹ کی بھیک دی اور نہ مسلمانوں نے.

مولانا مدنی نے کہا کہ اسی لئے میں کہا کرتا ہوں کہ ہندو مسلم اتحاد ہی ہندوستان کی اصل طاقت ہے، اللہ نے چاہا تو بہار اور بنگال میں بھی ان کا یہی حشر ہونے والا ہے اس کے لئے ہندومسلم اتحاد بہت ضروری ہے آپ تنہا اس لڑائی کو جیت نہیں سکتے اس اتحاد کو مضبوط کرنے کے لئے ہم پورے ملک میں کام کریں گے کیونکہ ہمارا یہ یقین ہے کہ اگر ہندومسلم اتحاد رہے گا تو یہ ملک چلے گا اور اگر یہ ٹوٹا تو ملک ٹوٹ جائے گا، انہوں نے حکومت سے اس قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جس طرح 1951 سے 2010 تک مردم شماری ہوتی رہی ہے اگر اسی طرز پر مردم شماری کراؤ گے تو ہم تمہارے ساتھ ہیں مگر موجودہ شکل میں این پی آر کو ہم کسی صورت قبول نہیں کریں گے، انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں عوام کی طاقت سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے ہمارا ووٹ حکومت بناتا ہے اور یہی ووٹ حکومت گرا بھی سکتا ہے.

حکومت کو چیلنج کرتے ہوئے مولانامدنی نے کہا کہ تمہیں ہماری طاقت کے آگے جھکنا پڑے گا، یہ طاقت ہندو مسلم اتحادکی طاقت ہے، سی اے اے، این پی آر اور این آرسی کے خلاف پورے ملک میں ہو رہے تاریخی احتجاج کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے مظاہرہ کر رہی خواتین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہماری پردہ دار مائیں، بہنیں اور بیٹیاں سڑکوں پر سخت سردی میں کھلے آسمان کے نیچے کئی مہینوں سے سراپا احتجاج ہیں ہم ان کے جذبے اور حوصلہ کو سلام کرتے ہیں، وزیراعظم نریندرمودی کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مودی جی دیکھ لو یہ وہی خواتین ہیں جنہیں کل آپ اپنی بہن کہتے تھے اور جن کو انصاف دینے کے نام پر آپ نے ہماری شریعت میں مداخلت کی، طلاق کا قانون لائے اور تب آپ نے کہا تھا کہ ہم نے صدیوں سے ظلم کا شکار مسلم بہنوں کو انصاف دیا ہے آج وہی بہنیں آپ کے ذریعہ لائے گئے سیاہ قانون کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کر رہی ہیں اور آپ ان کی آواز تک سننے کو تیار نہیں ہیں اس سے ثابت ہوا کہ آپ مسلم خواتین کے ہمدرد نہیں بلکہ مسلم دشمنی میں آپ نے طلاق کو قابل سزا جرم بنایا ہے انہوں نے احتجاج کرنے والوں کو تلقین کی کہ وہ اپنے احتجاج کو مسلم احتجاج کا رنگ ہرگز نہ دیں بلکہ اسے ہندو مسلم ملا جلا احتجاج بنائیں.

انہوں نے کہا کہ اگر آپ اپنے احتجاج کو مسلم احتجاج کا رنگ دیں گے تواس کا مطلب ہوگا کہ آپ بی جے پی کے نظریہ کو تقویت دے رہے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ آگ کو آگ سے نہیں پانی سے بجھایا جاتا ہے اس لئے منافرت کی اس آگ کو محبت کی بارش سے بجھانے کی ضرورت ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ سی اے اے، این پی آر اور این آرسی کی صورت میں جو مصیبت ملک پر مسلط کی گئی ہے یہ تنہا مسلمانوں کیلئے مصیبت نہیں بلکہ یہ سب کی لڑائی ہے کیونکہ اس سے دلت اور دوسرے کمزور طبقات بھی متاثرہوں گے انہوں نے آخرمیں ایک بارپھرحکومت سے اس قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کیا اور اعلان کیا کہ جب تک یہ قانون واپس نہیں ہوتا وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے انہوں نے کہا کہ ہم اسی طرح کے جلسے پورے ملک میں کریں گے ہندوّں اور مسلمانوں کو ایک ساتھ لاکر تحریک چلائیں گے اور حکومت کو گھٹنے ٹیک دینے پر مجبورکردیں گے۔

جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے سماج وادی پارٹی مہارشٹراکائی کے صدرممبراسمبلی ابوعاصم اعظمی نے مولانا مدنی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت آج کے اس اجلاس میں آپ ہماری رہنمائی کریں کہ اب ہمیں آگے کیا کرنا ہے ساتھ ہی انہوں نے ریاستی وزیراعلیٰ ادھوٹھاکرے سے یہ گزارش کی کہ رواں اسمبلی اجلاس میں وہ دوسری ریاستوں کی طرح سی اے اے، این پی آرکے خلاف تجویز منظور کریں۔ سابق ریاستی وزیر عارف نسیم خاں نے اپنی تقریر میں جمعیۃ علماء ہند کی کوششوں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ جمعیۃ نے ملک کے آئین کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ہندومسلم اتحاد کو لیکر نہ صرف بڑا کام کیا ہے بلکہ ملک کی تعمیر وترقی میں بھی اس نے اہم رول ادا کیا ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم اس سیاہ قانون کی مخالفت کرتے ہیں اس لئے مہاراشٹر سرکار کو بھی اس پر اپنا موقف صاف کرنا چاہئے کیونکہ ہم نے شیوسینا کو کامن مینمم پروگرام کے تحت حمایت دی ہے.

سابق جسٹس کولسے پاٹل نے کہا کہ آج سب کچھ جھوٹ پر مبنی ہے قانون توڑنے والے اب ہم سے شہریت کا ثبوت مانگ رہے ہیں انہوں نے تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو مذہب کے نام پر تقسیم کرنے کی آئیڈیالوجی ساورکر اور گوالکر کی تھی اور اب اسی نظریہ کے تحت یہ نیا قانون لایا گیا ہے اور ہمیں غلام بنانے کی سازش ہو رہی ہے انہوں نے کہا کہ اگر ملک کے دلت مسلمان اور قبائل ایک ساتھ آجائیں تو ہم ملک میں ایک نیا انقلاب لاسکتے ہیں اور محض اپنی طاقت پر ان فرقہ پرست طاقتوں کو دھول چٹا سکتے ہیں۔ اس کانفرنس سے حاجی موسی بشیر پٹیل، مولانا عبدالعلیم فاروقی، جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدرمولانا مستقیم احسن اعظمی، مولانا محمود دریابادی، مولانا عبداللہ ناصر، مولانا حلیم اللہ قاسمی، کانگریس اقلیتی شعبہ کے چیئرمین ندیم جاوید کے علاوہ دیگر کئی مذہبی، سیاسی اور ملی شخصیتوں نے خطاب کیا، پورے آزادمیدان میں کہیں تل دھرنے کو بھی جگہ نہیں تھی لوگوں کا جوش اور جذبہ دیکھنے لائق تھا وقفہ وقفہ سے پورا میدان ہندوستان زندہ باد، ہندومسلم اتحادزندہ باد، این پی آر، این آرسی کو واپس لو کے فلک شگاف نعروں سے گونج رہا تھا.

قابل ذکر ہے کہ مجلس منتظمہ کے اجلاس میں دستورکے مطابق دونائب صدر اور خازن کا انتخاب عمل میں آیا جن کے نام یہ ہیں، مفتی عبدالرزاق بھوپال، مولانا عبدالعلیم فاروقی لکھنو اور حاجی جمال مدراس۔ اس تاریخی اجلاس کے انعقاداور کامیابی میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے عہدیداران اور کارکناں کی دن رات کی محنت اور کوشش کا بطور خاص دخل رہا ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close