اپنا دیشتازہ ترین خبریں

این آر سی: آسام سے متصل بنگال کے اضلاع میں خوف وہراس کا ماحول

آسام میں این آرسی کی حتمی فہرست کی اشاعت کے بعد آسام سے متصل بنگال کے اضلاع کوچ بہار، جلپائی گوڑی اور علی پوردوار خوف و ہراس کا ماحول ہے۔

این آر سی میں جن 19لاکھ افراد کے نام شامل نہیں ہیں ان میں 11 سے 12 لاکھ افراد ہندو ہیں۔ اس کے علاوہ دارجلنگ میں آباد گورکھا آبادی بھی این آر سی سے ناراض ہیں۔ چوںکہ آسام میں آباد ایک لاکھ گورکھاؤں کے نام این آرسی میں شامل نہیں ہیں۔ آسام میں بنگالیوں کی فلاح وبہود کیلئے کام کرنے والی آرگنائزیشن ”بنگالی جنم مکتی باہنی کے چیرمین راجن سرکار نے کہا کہ ہم بنگالی ہندوؤں سے کہا گیا تھا کہ این آر سی سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔مگر آسام میں آباد بنگالی ہندؤں بڑی تعداد میں متاثر ہوگئے ہیں۔ 19لاکھ میں سے 12لاکھ بنگالی ہندو ہیں۔ ہم جلد ہی ریاستی حکومت سے بات چیت کریں گے۔

کوکراجھاڑ کے سیمولتا پور کے رہنے والے رابوبندرا سرکار نے کہاکہ وہ 7 ستمبر تک انتظار کریں گے۔جس میں 21لاکھ ناموں کا اندراج ہونے والا ہے۔ جلد ہی فارن ٹربیونل میں اپیل کی جائے گی۔ گورکھا جن مکتی مورچہ کلے صدر بمل گورنگ نے ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک لاکھ سے زاید گورکھا جو آسام میں رہتے تھے کے نام این آر سی میں شامل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ٹیم اس کی جانچ کررہی ہے۔ دراجلنگ سے ممبر پارلیمنٹ راجو بستا نے کہا کہ ہم اس مسئلے کو اعلیٰ قیادت کے سامنے پیش کریں گے۔

بنگال اسمبلی میں سی پی ایم کے ممبر اسمبلی سوجن چکرورتی نے این آر سی کے مسئلے کو اٹھایا تھا جس کی ترنمول کانگریس کے وزیر شوبھن چٹوپادھیائے نے حمایت کی۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close