تازہ ترین خبریںدلی نامہ

ایس سی نہیں، مسلمان ہیں ہنس راج ہنس

2014 میں اسلام قبول کر چکے ہیں ہنس، عدالت جائے گی ’آپ‘

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
عام آدمی پارٹی نے دہلی کی سات لوک سبھا سیٹوں میں ایس سی ایس ٹی کےلئے مختص سیٹ پر بی جے پی کی جانب سے غیر ایس سی امیدوار اتارے جانے کا الزام لگاتے ہوئے ہنس کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کی بات کہی ہے۔ ’آپ‘ کا الزام ہے کہ ہنس اب ایس سی نہیں بلکہ مسلمان ہیں۔

آج پارٹی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں دہلی حکومت کے وزیر راجند پال گوتم نے بتایاکہ دہلی کی شمالی مغربی لوک سبھا سیٹ جوکہ مختص سیٹ ہے، وہاں سے بی جے پی نے جو اپنا امیدوار کھڑا کیا ہے، دراصل وہ ایس سی طبقہ کا ہے ہی نہیں، وہ مسلمان ہے۔ انہوں نے کہاکہ نامزدگی پرچہ میں بی جے پی کے امیدوار کے ذریعہ کچھ جانکاریاں چھپائی گئی ہیں۔ راجندر پال گوتم نے بتایا کہ بی جے پی کے امیدوار ہنس راج ہنس 20 فروری 2014 کو مذہب تبدیل کر اسلام قبول کرچکے ہیں۔ اس تعلق سے ملک کے کئی اخباروں میں خبر چھپی تھی اور کئی میڈیا چینل پر اس کی نیوز بھی چلائی گئی تھی۔

گوتم نے کہاکہ مذہب تبدیل کرکے ہنس راج ہنس نے اپنا نام ’محمد یوسف ‘رکھ لیا تھا۔ حالانکہ انھوں نے کہا تھا کہ میں نے مذہب تبدیل کرلیا ہے، لیکن میں فلم انڈسٹری میں اپنے پرانے نام سے ہی کام کرتا رہوں گا۔ راجندر پال نے کہاکہ کیونکہ بی جے پی کے امیدوار پہلے ہی مذہب تبدیل کرچکے ہیں تو اس لحاظ سے اب وہ ایس سی طبقہ کے مانے نہیں جاسکتے۔ کیوں کہ مسلمانوں میں شیڈول کاسٹ نہیں ہوتے۔ اس لئے وہ اس سیٹ سے الیکشن نہیں لڑ سکتے۔

دہلی کے وزیر راجندر پال گوتم نے کہا کہ بی جے پی کے امیدوار اپنے تعلق سے اہم معلومات چھپا کر جو الیکشن کمیشن کے قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس کے خلاف عام آدمی پارٹی کی لیگل سیل کورٹ میں عرضی داخل کرے گی اور کورٹ سے اپیل کرے گی کہ فورا ہنس راج ہنس عرف محمد یوسف کا پرچہ منسوخ کیا جائے اور ان کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close