تازہ ترین خبریںمسلم دنیا

ایران: سپریم کمانڈر سے استعفے کا مطالبہ، دوسرے روز بھی جاری ہیں مظاہرے

ایران نے ایسے وقت میں دارالحکومت تہران میں بلوہ پولیس تعینات کر دی ہے جب ایرانی فوج کی طرف سے یوکرین کا طیارہ نادانستگی میں مار گرانے کے اعتراف کے بعد ملک میں دوسرے روز بھی مظاہرے جاری ہیں۔

یاد رہے کہ طیارے میں سوار تمام 176 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ایرانی شہری یوکرین کے طیارے میں ہلاک ہونے والے افراد کی یاد میں امیر کبیر یونیورسٹی کے دروازے پر جمع ہوئے اور موم بتیاں روشن کیں۔ ہلاک ہونے والوں میں بعض اس یونیوسٹی کے سابق طالب علم تھے۔ مظاہرین نے یونیورسٹیز کے قریب جمع ہو کر نعرے لگائے اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔ وہ نعرے لگا رہے تھے کہ جھوٹوں کو اقتدار سے نکالو اور آمروں کو پھانسی دو۔

وائس آف امریکہ کی فارسی سروس کے مطابق یہ مظاہرے ملک کے دوسرے شہروں تک بھی پھیل چکے ہیں اور ایران کے تیسرے بڑے شہر اصفہان میں بھی مظاہرے ہوئے ہیں۔ ہفتے کو شروع ہونے والے ان مظاہروں سے دو ماہ قبل بھی حکومت نے نومبر میں تیل کے نرخوں میں اضافے کے خلاف ہونے والے احتجاج میں مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا تھا۔ ایران نے اس وقت ان مظاہروں کے خلاف حکومتی کارروائی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بتانے سے گریز گیا تھا۔ تاہم انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بتایا تھا کہ ان مظاہروں میں کم و بیش تین سو افراد ہلاک ہوئے تھے۔قبل ازیں ہفتے کو ایران کی پاسداران انقلاب نے تسلیم کیا ہے کہ اس نے غلطی سے یوکرین کی بین الاقوامی پرواز کو مار گرایا ہے۔

پاسداران انقلاب کے فضائیہ کے کمانڈر عامر علی حاجیزادہ نے ٹیلی وڑن پر گفتگو میں کہا، ”میں اس واقعے کی مکمل ذمہ داری قبول کرتا ہوں اور میں اس ضمن میں کسی بھی فیصلے کی تعمیل کروں گا۔“طیارہ حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں ایک نوبیاہتا جوڑا بھی شامل ہے جو شادی کی غرض سے ایران آیا تھا۔ان کے بقول، ”جب مجھے طیارے کا بتایا گیا تو میں نے کہا کاش میں مر گیا ہوتا۔ اس رات ہم فیصلہ کن جنگ کے لیے تیار تھے۔“ انہوں نے بتایا کہ پاسداران انقلاب نے کہا تھا کہ تمام کمرشل پروازیں منسوخ کر دی جائیں لیکن ان کی درخواست نہیں سنی گئی۔ یوکرین ایئر لائن کے بوئنگ 737 کو اس وقت مار گرایا گیا تھا جب ایران نے گزشتہ ہفتے قدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد عراق میں امریکہ کے زیرِ استعمال دو فوجی اڈوں پر میزائلوں سے حملہ کیا تھا۔

ایران کے طالب علموں نے یوکرین انٹرنیشنل ایئرلائن کی تباہی میں ہلاک ہونے والوں کو امیر کبیر یونیورسٹی کے باہر خراج عقیدت پیش کیا۔ پولیس نے بعد ازاں طالب علموں کو منتشر کر دیا جو شی نعرے لگا رہے تھے۔ اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق ایرانی حکام نے طیارے کی تباہی سے متعلق سچ تب بیان کیا جب بظاہر ثبوت واضح کر رہے تھے کہ طیارہ کس طرح مار گرایا گیا اور ایران کے لیے مزید غلط بیانی کی گنجائش نہیں بچی تھی۔طیارہ بدھ کے روز تباہ ہوا تھا لیکن ایران نے ہفتے کے دن تک یہ نہیں بتایا تھا کہ دراصل اس نے طیارہ مار گرایا ہے۔ یوکرین کے ایک عہدیدار نے ‘نیویارک ٹائمز’ کو بتایا کہ ان کے ماہرین نے طیارے کی تباہی کے مقام سے جو معلومات حاصل کی ہیں ان کے مطابق ایران نے واضح کوشش کی کہ تحقیقات کو الجھایا جائے۔ جہاز کا ملبہ ہٹا دیا گیا اور اس کو احتیاط سے ایک جگہ اکٹھا کیا گیا۔

یوکرین کا کہنا ہے کہ کیف جانے والے طیارے نے معمول کے مطابق اڑان بھری اور عملے کو میزائل حملوں سے متعلق کچھ بھی نہیں بتایا گیا تھا۔کینیڈین وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ اْن کی حکومت اس وقت تک خاموش نہیں بیٹھے گی جب تک معاملے کی شفاف تحقیقات، احتساب اور انصاف نہیں کیا جاتا۔اولیکسیو ڈانیلوف نے جو یوکرین کے عہدیدار ہیں اور تحقیقات کی قیادت کر رہے ہیں، نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ ایرانیوں کے پاس مزید جھوٹ بولنے کو کچھ نہیں تھا، جب طیارے کی تباہی کے عوامل میں یوکرینی تحقیقات کاروں نے دیکھ لیا کہ جہاز اوپر والے حصے میں کیبن میں سوراخ ہے، جو بظاہر میزائل میں تیز دھار جنگی مواد کے لگنے سے ہوا ہے۔ ہفتے ہی کے روز ایران نے برطانیہ کے ایران متعین سفیر رابرٹ میکئیر کو ایسے میں تحویل میں لیے رکھا جب تہران میں حکومت کے خلاف مظاہرے ہو رہے تھے۔

برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈومینیک راب نے کہا ہے کہ ان کے سفیر کی تہران میں گرفتاری وہ بھی بنا وضاحت اور ثبوتوں کے، بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس متعدد راستے ہیں۔ یہ سیاسی اور معاشی تنہائی کے ساتھ تباہی کے راستے پر بدستور سفر جاری رکھ سکتا ہے یا سفارتی کشیدگی کے خاتمے کے لیے آگے کی جانب قدم بڑھ سکتا ہے۔ امریکہ کے محکمہ خارجہ کی ترجمان مورگن آرٹاگس نے برطانوی سفیر کی گرفتاری پر ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ "یہ اقدام ویانا کنونشن کی خلاف ورزی ہے اور یہ کہ ایرانی حکومتی ٹولہ اس طرح کی خلاف ورزیوں کی ایک تاریخ رکھتا ہے۔ ہم ایرانی حکومت سے کہتے ہیں کہ وہ برطانیہ سے باضابطہ طور پر معافی مانگے اور سفیروں کے حقوق کا احترام کرے۔“

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close