اپنا دیشتازہ ترین خبریں

تلاوت قرآن اور ادائیگی نماز میں مصروف محبوبہ مفتی

پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی جن کا اکثر وقت سیاسی سرگرمیوں میں گزرتا تھا اب یہاں مولانا آزاد روڑ پر واقع سرکاری کوارٹر میں ایام نظر بندی تلاوت قرآن پاک، ادائیگی نماز پنجگانہ، قطری نشریاتی ادارہ الجزیرہ ٹی وی دیکھنے اور کتابیں پڑھنے میں گزار رہی ہیں۔ ساٹھ سالہ محبوبہ مفتی، جنہیں پانچ اگست 2019ء کو حراست میں لیکر چشمہ شاہی کے گیسٹ ہاؤس میں نظربند کیا گیا تھا، کو گزشتہ برس نومبر کے وسط میں مولانا آزاد روڑ پر واقع سرکاری کوارٹر منتقل کیا گیا جہاں ان کے لئے سرما کے پیش نظر گرمی کا خاطر خواہ انتظام کیا گیا تھا۔

التجا مفتی نے اپنی والدہ کی نظر بندی کے دوران مصروفیات کے بارے میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا: ‘محبوبہ جی جو ہمیشہ اپنے لوگوں کے بیچ رہنا پسند کرتی تھیں اب اپنی نظربندی کے دوران الجزیرہ ٹی وی دیکھتی ہیں، کتابیں پڑھتی ہیں، قرآن پاک کی تلاوت کرتی ہیں، پانچ وقت کی نماز پابندی سے ادا کرتی ہیں’۔ التجا، جنہوں نے اپنی والدہ کا ٹویٹر ہینڈل متحرک رکھا ہے اور اس ٹویٹر ہینڈل سے اکثر ٹویٹ کرتی رہتی ہیں، کے مطابق محبوبہ مفتی وقت گزاری اور اکتاہٹ کو دور کرنے کے لئے عالمی شہرت یافتہ مصنفین جیسے الف شفق، رضا اصلان، امیتو گھوش، نیلسن منڈیلا کی کتابیں پڑھتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ محبوبہ جی نے لکھنا بھی شروع کیا تھا لیکن وہ سلسلہ بعد میں بند ہوا۔ تاہم انہوں نے اس سوال کا جواب دینے سے انکار کیا کہ محبوبہ نے کب لکھنا شروع کیا تھا اور کیا کچھ لکھا ہے۔ التجا مفتی نے نظر بندی کے دوران محبوبہ مفتی کو دستیاب سہولیات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا: ‘محبوبہ جی کو ڈش ٹی وی کنکشن کی سہولیت دستیاب ہے لیکن ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی خدمات دستیاب نہیں ہیں’۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی والدہ کو لوگوں کے بارے میں فیڈ بیک دیتی رہتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ‘لوگ کس حال میں ہیں میری محبوبہ جی کے ساتھ اس پر بات ہوتی ہے۔ انہیں یہ بات سمجھ آتی ہے کہ حکومت عبداللہ اور مفتی خانوادے کی اہمیت و افادیت ختم کرنا چاہتی ہے، اس کا معنی ہے کہ حکومت ہم سے گھبرائی ہوئی ہے’۔ التجا مفتی جو محبوبہ مفتی پر پی ایس اے کے اطلاق کے بعد ان سے ملاقی نہیں ہوئی ہے، نے کہا کہ میری والدہ کو سات ماہ سے نظربند رکھا گیا ہے اور مجھے ان سے ملاقات کا پورا حق ہے۔

بتادیں کہ محبوبہ مفتی سال 2016 میں پہلی مسلم خاتون وزیر اعلیٰ کے بطور تختہ پر براجمان ہوئی تھیں لیکن یہ عہدہ ان کے لئے نیک شگون ثابت نہیں ہوا تھا کیونکہ وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے روز اول سے ہی نہ صرف ہر گزرتے دن کے ساتھ محبوبہ مفتی کی سیاسی ساکھ تنزل پذیر ہوئی تھی بلکہ پارٹی میں اندورنی خلفشار آہستہ آہستہ آتش فشاں کی صورت اختیار کرتا گیا تھا جو بعد میں بی جے پی اور پی ڈی پی کی مخلوط حکومت کے پاش پاش ہونے کے ساتھ ہی پھٹ گیا تھا۔

محبوبہ مفتی سال 1996 میں ریاست کے سیاسی افق پر جلوہ افروز ہوئی تھیں اور اسی سال جموں وکشمیر میں منعقدہ اسمبلی انتخابات میں اپنے آبائی حلقہ انتخاب بجبہاڑہ سے کانگریس کی ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی۔ انہیں گزشتہ برس منعقد ہوئے پارلیمانی انتخابات میں اپنے پشتنی پارلیمانی حلقے سے پہلی بار شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس کے چند ماہ بعد جب مرکزی حکومت نے پانچ اگست 2019 کو جموں وکشمیر کو خصوصی پوزیشن عطا کرنے والی آئین ہند کی دفعہ 370 اور دفعہ 35 منسوخ کیں اور ریاست کو دو وفاقی حصوں میں منقسم کیا تو علاقائی جماعتوں اور کانگریس کے درجنوں سیاسی لیڈران کو بند کیا گیا۔

اگرچہ گزشتہ چند ماہ کے دوران قریب تین درجن لیڈران کو رہا کیا گیا یا ایم ایل اے ہوسٹل سے رہا کرکے اپنے اپنے گھر میں نظربند کیا گیا تاہم محبوبہ مفتی سمیت تین سابق وزرائے اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ کے علاوہ متعدد دیگر علاقائی جماعتوں کے لیڈران کو ہنوز نظربند رکھا گیا ہے۔ اب جموں وکشمیر میں یونین ٹریٹری انتظامیہ نے 6 فروری کو علاقائی جماعتوں کے لیڈران پر پی ایس اے عائد کرنا شروع کردیا اور اب تک آٹھ لیڈران پر پی ایس اے عائد کیا جاچکا ہے۔ 6 فروری کو سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ و محبوبہ مفتی، نیشنل کانفرنس جنرل سکریٹری علی محمد ساگر اور پی ڈی پی لیڈر سرتاج مدنی پر پی ایس اے کا اطلاق کیا گیا۔ پھر 8 فروری کو پی ڈی پی لیڈر اور سابق وزیر نعیم اختر پر پی ایس اے عائد کیا گیا اور انہیں سری نگر کے گپکار روڑ پر واقع ‘ایم فائیو ہٹ’ میں نظربند کیا گیا۔ چند روز قبل نیشنل کانفرنس لیڈر اور شمالی کشمیر سے رکن پارلیمان محمد اکبر لون کے بیٹے ہلال لون پر بھی پی ایس اے عائد کیا گیا۔

نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر پی ایس اے کا اطلاق گزشتہ سال کے ستمبر میں کیا گیا تھا اور اس کی مدت ختم ہونے کے بعد اس میں مزید تین ماہ کی توسیع کی گئی تھی۔ تاہم وہ اپنی رہائش گاہ، جس کو سب جیل میں تبدیل کیا گیا ہے، میں نظربند ہیں۔ پی ایس اے، جس کو نیشنل کانفرنس کے بانی شیخ محمد عبداللہ نے جنگل اسمگلروں کے لئے بنایا تھا، کو انسانی حقوق کے عالمی نگراں ادارے ‘ایمنسٹی انٹرنیشنل’ نے ایک ‘غیرقانونی قانون’ قرار دیا ہے۔

اس قانون کے تحت عدالتی پیشی کے بغیر کسی بھی شخص کو کم از کم تین ماہ تک قید کیا جاسکتا ہے۔ جموں وکشمیر میں اس قانون کا اطلاق حریت پسندوں اور آزادی حامی احتجاجی مظاہرین پر کیا جاتا ہے۔ جن پر اس ایکٹ کا اطلاق کیا جاتا ہے اُن میں سے اکثر کو کشمیر سے باہر جیلوں میں بند کیا جاتا ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close