اپنا دیشتازہ ترین خبریں

ایئر انڈیا کو 7635 کروڑ روپیے کا نقصان

ہوا بازی کی خدمات فراہم کرنے والی سرکاری کمپنی ایئر انڈیا کا نقصان 31 مارچ 2019 کو ختم ہونے والے مالی سال میں 42.77 فیصد بڑھ کر 7635.46 کروڑ روپیے ہو گیا جو پانچ سال میں سب سے زیادہ ہے۔

شہری ہوابازی کے وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے لوک سبھا میں جمعرات کو ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ ایئر انڈیا کو مالی سال 2018۔19 میں 7635.46 کروڑ روپیے کا نقصان ہوا ہے۔ اس سے پہلے مالی سال 2017۔18 میں کمپنی کو 5348.18 کروڑ روپیے اور 2016۔17 میں 6452.59 کروڑ روپیے کا نقصان ہو اتھا۔ مالی سال 2015۔16 میں ایئر انڈیا نے 3836.78 کروڑ روپیے اور 2014۔15 میں 5859.91کروڑ روپیے کا نقصان ہوا تھا۔

مسٹر پوری نے اپنے جواب میں کہا کہ حکومت ایئر انڈیا میں سرمایہ کشی کے لیے اب بھی پابند عہد ہے لیکن خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اتار۔چڑھاؤ اور ایکسچینج ریٹ میں عدم استحکام کی وجہ سے ایئر انڈیا کے سرمایہ کشی کے تئیں مستقبل قریب میں سرمایہ کاروں کی ترغیب کے لیے موجودہ حالات مناسب نہیں ہیں۔ تیل کی قیمتوں اور غیر ملکی کیرنسی ایکسچینج سمیت عالمی مالی انڈیکس میں استحکام آنے کے بعد اس موضوع پر دوبارہ غوروخوض کیا جائے گا۔حکومت نے ایئر انڈیا کا آپریشن بلا روک ٹوک جاری رکھنے کے لیے گذشتہ پانچ برس میں کمپنی کو 17311.21 کروڑ روپیے کی مدد دی ہے۔

مالی سال 2018۔19 میں کمپنی کو 3975 کروڑ روپیے حکومت سے ملے جو 2014۔15(5780 کروڑ روپیے) کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ مالی سال 2017۔18 میں مرکز ی حکو مت نے ایئر انڈیا میں 1800 کروڑ روپیے لگائے تھے۔مسلسل نقصان اٹھانے کی وجہ سے ایئر انڈیا کی سرمایہ کشی کو 28 جون 2017 کو مرکزی کابینہ کی منظوری ملی تھی۔

گذشتہ برس 28 مارچ کو سرمایہ کشی کے لیے ابتدائی اطلاعاتی اشتہار جاری کیا گیا لیکن لیٹر آف انٹریسٹ داخل کرنے کی آخری تاریخ 31 مئی 2018 تک کسی بھی سرمایہ کار کے سامنے نہ آنے کی وجہ سے سرمایہ کشی پروان نہ چڑھ سکی۔ اب حکومت نے ایئرانڈیا کی معاون یونٹس کو پہلے بیچنے کا فیصلہ کیاہے۔ اس کے تحت ایئر انڈیا ایئر ٹرانسپورٹ سروسز لمیٹیڈ کی سرمایہ کشی کا عمل جاری ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close