اپنا دیشتازہ ترین خبریں

اگر اچھی سڑکیں چاہئیں تو ٹول دینا پڑے گا

روڈ ٹرانسپورٹ اور شاہراہ کے وزیر نتن گڈکری نے کہا کہ ٹول پلازہ نظام کو بند نہیں کیا جائے گا اور قومی شاہراہوں پر ٹول پلازہ پر لگنے والے جام سے نجات پانے کیلئے تمام گاڑیوں کو چار مہینہ کے اندر لازمی طورپر فاسٹ ٹیگ سے جوڑ دیا جائے گا۔
مسٹر گڈکری نے لوک سبھا میں روڈ ٹرانسپورٹ اور شاہراہ کی وزارت سے متعلق مطالبات زر پر ہوئی بحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ فاسٹ ٹیگ لگانے سے ٹول پلازہ پر ٹول ٹیکس دینے والی گاڑیوں کی قطار ختم ہوجائے گی اس لئے چار مہینہ میں تمام گاڑیوں کو لازمی طورپر یہ ٹیگ لگانے کے لئے کہا گیا ہے۔ نئی گاڑیوں پر فروخت
کے وقت ہی یہ ٹیگ لازمی کردیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی لوک سبھا نے صوتی ووٹ سے وزارت سے وابستہ مطالبات زر کو منظور کردیا۔

انہوں نے کہاکہ اب تک 58لاکھ فاسٹ ٹیگ تقسیم کئے جاچکے ہیں۔ اس ٹیگ کو لگانے سے گاڑیوں کو ڈیجیٹل طریقہ سے ٹول ٹیکس کی ادائیگی کرنی پڑتی ہے اور اس کی رقم پہلے ہی لی جاتی ہے اس لئے اس ٹیگ سے وابستہ گاڑیوں کو ٹول پلازہ پر رکنے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ قومی شاہراہوں پر واقع ٹول پلازہ پر ٹول دینے کے لئے گاڑیوں کی لمبی قطار نہیں لگے اس کے لئے نئی اور بہتر تکنیک کا استعمال کیا جارہا ہے۔
مرکزی وزیر نے کہاکہ ٹول پلازہ پر چھوٹ دینے کے بارے میں مانگیں آتی ہیں لیکن یہ نظام ختم نہیں ہوگا کیونکہ اسی آمدنی سے شاہراہوں کو بہتر دیکھ بھال کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اسکول بسوں اور اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بسوں کو ٹول ٹیکس سے مستثنی رکھنے پر غور کیا جارہا ہے۔ ٹریکٹر، دو پہیہ گاڑیاں اور آٹو رکشہ کو پہلے ہی اس سے مستثنی رکھا گیا ہے۔

مسٹر گڈکری نے کہا کہ بہار اور اترپردیش سے سب سے کم ٹول ملتا ہے لیکن اگر اچھی سڑکیں چاہئیں تو ٹول دینا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں 22گرین پروجیکٹوں پر کام چل رہا ہے۔ ان پروجیکٹوں میں دہلی ممبئی ایکسپریس وے اور دہلی کٹرہ ایکسپریس وے بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہاکہ ان منصوبوں کے مکمل ہونے سے سڑک کی دوری کم ہوجائے گی اور لوگوں کا ایندھن بچے گا لیکن سڑکوں کی بہتر دیکھ بھال کے لئے گاڑیوں سے ٹول پلازہ کے ذریعہ ٹیکس وصول کیا جائے گا۔
مرکزی وزیر نے کہاکہ ان کی وزارت کو 8300ہزار کروڑ روپے کا بجٹ دیا گیا ہے جبکہ انکی ضرورت دس ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کسی پروجیکٹ کو بجٹ کی وجہ سے متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا اور اس کے لئے مسالا بونڈ کے ذریعہ پیسہ جمع کیا جائے گا۔

قومی شاہراہوں کی تعمیر نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یہ نہایت اہل تنظیم ہے۔ اس کی تعریف بیرون ملک میں بھی کی جارہی ہے۔ امریکہ میں این ایچ اے آئی اور اس کے کام کے طریقوں پر تحقیق کی جارہی ہے۔ اس تنظیم کا کام کرنے کا طریقہ سب سے کامیاب ہے اور پوری دنیا میں اس کی اس کامیابی کی ستائش کی جارہی ہے۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ جب انہوں نے سابقہ حکومت میں وزارت کا کام سنبھالا تھا تو 403منصوبے زیرالتوا تھے۔ تقریباََ تین لاکھ 85کروڑ روپے کے زیرالتوا پروجیکٹوں پر بینکوں کا پیسہ بھی ڈوب رہا تھا۔ انہوں نے کہاکہ اب ان میں سے 95فیصد منصوبوں کا مسئلہ حل کرلیا گیا ہے اور ان پر کام چالو ہوگیا ہے۔ اس سے بینکوں کا تین لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا این پی اے بچ گیا ہے۔

روڈ سیفٹی کو حکومت کی ترجیح قرار دیتے ہوئے مسٹر گڈکری نے کہا کہ ہر برس پانچ لاکھ سڑک حادثات ہوتے ہیں اور ان میں ڈیڑھ لاکھ لوگوں کی جان چلی جاتی ہے۔ یہ نہایت تشویش کی بات ہے لیکن اس کو کم کرنے کے لئے بلیک اسپاٹ کی پہچان کی گئی ہے اور بلیک اسپاٹ کو محفوظ بنایا گیا ہے۔ اب تک 780بلیک اسپاٹ کی پہچان کی گئی ہے اور ان میں سے 300کو ٹھیک کیا جاچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نصف حادثات سڑک انجینئرنگ، آٹو موبائل انجینئرنگ میں خامیوں اور اچھے ڈرائیوروں کی کمی کی وجہ ہورہے ہیں۔ کچھ دیگر ریاستیں اس سمت میں اچھا کام کررہی ہیں۔ تملناڈو کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تملناڈو حکومت کی کوششوں سے وہاں سڑک حادثات میں پندرہ فیصد کی کمی آئی ہے جبکہ قومی شاہراہ پر وہ اس سمت میں چار فیصدی کامیابی حاصل کرسکے ہیں۔
مرکزی وزیر نے کہاکہ ملک میں اچھے ڈرائیوروں کی کمی ہے۔اس کے لئے انہوں نے حکومت کی دیکھ بھال میں آپریٹنگ ڈرائیونگ اسکول کھولنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close