مسلمانوں کاعالمی منظر نامہ

آزمائش سے گزرنا ہے مسلماں ہونا

اسلام ایک آفاقی مذہب ہے، جو پوری دنیا کو درس انسانیت اور مساوات کا پیغام دیتا ہے۔ یہ وہ درس ہے جو ڈیڑھ سو صدی گزرنے کے بعد بھی اپنی اہمیت اور افادیت کی خوشبو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ قرآنی پیغامات اور رسول اکرمؐ کی ہدایات نہ صرف مسلمانوں کے لئے سرچشمۂ حیات ہیں بلکہ بنی نوع انسانی کے لئے بھی فلاح و بہبود کی ضامن ہیں۔ اسلام کی اسی افادیت کی وجہ سے دوسرے مذاہب کے لوگ اسلام کی طرف نہ صرف رخ کر رہے ہیں بلکہ بڑی تعداد میں مشرف بہ اسلام بھی ہو رہے ہیں۔ اسلام کی یہی عظمت اسلام دشمنوں کی حزیمت کا سبب بنتی جا رہی ہے لہذا اسلام، قرآن اور سنت رسولؐ ہر دور میں نشانے پر رہے ہیں۔ اسلام کو ختم کرنے کے لئے نہ جانے کتنی کوششیں ہوئیں، مسلمانوں کو بد دل اور مطعون کرنے کی نہ جانے کتنی سازشیں ہوئیں مگر تمام تر مصائب و مسائل اور پر آشوب دور کے باوجود اسلام کا پرچم بلند ہے اور مسلمان دنیا کے ہر گوشے میں اپنے دین کا پر چم بلند کئے ہوئے ہیں۔ یہ قدرت کا کرشمہ ہی ہے کہ مسلم دور اقتدار میں اسلام کے فروغ میں اتنی ترقی نہیں ہوئی جتنا نامساعد حالات میں اسلام کو فروغ حاصل ہوا ۔خاص کر مغرب میں اسلام کے فروغ کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہاں کے عوام مطالعہ اور تحقیق کی روشنی، قرآنی تعلیمات سے متاثر ہوکر اسلام کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ برطانیہ، فرانس، جرمنی سے لے کر امریکہ تک اسلام کا دائرہ دن بہ دن وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ یوروپ اور امریکہ میں مسجدوں اور اسلامک سینٹر اسلامی تعلیمات کے فروغ کے سب سے بڑے مرکز بنے ہوئے ہیں اور اسلام کی خدمت کر رہے ہیں۔ نیوزی لینڈ بھی ایک ایسا مغربی ملک ہے، جہاں آج اسلام کی اہمیت و افادیت کو وہاں کے مسلمانوں نے جس منصوبہ بندی سے اجاگر کیا ہے وہ مشرق کے مسلمانوں کے لئے ایک ہدایت ہے۔ نیوزی لینڈ کی حکومت نے بھی ایک سیکولر نظریے کے تحت جو آزادی وہاں کے مسلمانوں کو دے رکھی ہے اس کی خوشبو دیگر مغربی ممالک تک پہنچ رہی ہے۔ نیوزی لینڈ ایسا ملک ہے، جہاں 50-60 برسوں میں مسلمانوں نے جس طرح اپنی سیاسی، اقتصادی و تعلیمی جڑیں مضبوط کی ہیں، وہیں دین کے فروغ کے لئے بھی کئی اسلامک سینٹر، تعلیمی ادارے اور مسجدوں کو قائم کیا وہ بھی اہل مشرق کے لئے مثال ہے۔ نیوزی لینڈ کی دو مسجدوں میں 15 مارچ 2019 میں فائرنگ کے بعد وہاں کی وزیر اعظم نے جو رول ادا کیا وہ اسلام کی افادیت اور درس انسانیت کی بھی تقلید ہے۔ زیر نظر خصوصی ضمیمہ نیوزی لینڈ میں اسلام اور مسلمانوں کی جد وجہد کا ایسا آئینہ ہے جو دوسرے ملکوں کو بھی درس دیتا ہے کہ اسلام کو دبانے سے وہ مزید قوت کے ساتھ ابھرتا ہے۔:

آج پوری دنیا میں اہل اسلام کو مطعون کیا جا رہا ہے۔ ہمارے ملک میں بھی مسلمانوں کا دائرہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے۔ مغربی ممالک نے تو مسلمانوں کو دہشت گردی سے منسوب کر دیا ہے جبکہ اسلام تو امن و امان رواداری اور بقائے باہم کا درس دیتا ہے لیکن امن و آشتی کا نقیب اسلام آج کبر وعناد کا شکار ہو گیا۔ تعصب کی انتہا تو یہ ہے کہ مغربی ممالک کے علاوہ بہت سے ملکوں نے نقاب تک پر پابندی عائد کر دی اور ہمارے ملک میں بھی خواتین کے ذریعہ نقاب زیب تن کرنے پر اعتراض کیا جا رہا ہے اور طرح طرح کے بہانوں سے اسلام کی شبیہ کو مسخ کیا جا رہا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ انہیں مسلمانوں سے خوف نہیں ہے بلکہ وہ اسلام سے خوفزدہ ہیں جوکہ پوری دنیا میں تیزی کے ساتھ فروغ حاصل کر رہا ہے۔ ایک زمانہ وہ تھا جب نصف دنیا میں مسلمانوں کی حکمرانی تھی لیکن تاریخ کی کسی بھی کتاب میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا ہے کہ مسلم حکمرانوں نے کسی دیگر اقوام پر جبر کیا تھا۔ یہ تمام فتنے آج کے مؤرخین نے نہ صرف پھیلائے ہیں بلکہ انہوں نے تاریخ کی کتابوں میں تحریف بھی کر دی ہے جبکہ پیغمبر اسلامؐ پر نازل ہونے والے قرآن کریم میں قیامت تک کسی بھی قسم کی تحریف نہیں کی جاسکتی ہے۔ چنانچہ اس کی حقانیت کا ہی ثمرہ ہے کہ لوگ اس کی جانب متوجہ ہو کر مشرف بہ اسلام ہونے لگے۔ عرب کے دوردراز علاقوں جنہیں عجمی کہا جاتا ہے، انہوں نے اسلام کے فروغ میں قابل قدر تعاون دیا تھا۔ انہیں میں سے ایک ملک نیوزی لینڈ ہے، جہاں پر چند افراد کی کوششوں سے اس ملک میں اسلام کی روشنی پھیل گئی تھی۔

آغاز میں یہاں مسلمانوں کا طبقہ بہت چھوٹا تھا اور اہل ایمان دور دراز علاقوں میں رہتے تھے اور وہاں پر وہ نسبتاً نئے تھے لیکن گزشتہ چوتھائی صدی میں وہ منظم ہو گئے تھے۔ کینٹربری کرائسٹ چرچ یو نیورسٹی (University of Canterbury Christ Church) میں مذہبی اسٹڈیز کے ایسو شیئٹ پروفیسر ڈاکٹر ولیم شیپرڈ (Dr. William Shephard) کے مطابق ان کی آبادی میں زبردست اضافہ ہوگیا تھا۔ نیوزی لینڈ میں قدم رنجا ہونے والا مسلمان چین سے تعلق رکھتا تھا جوکہ یہاں پر 1870کی دہائی میں وہ او ٹاگا (Otaga) کی ڈنسٹن سونے کی کان میں سونا کھودنے کا کام کرتا تھا۔ 1900 کے ابتدائی دور میں تین نہایت اہم گجراتی مسلمانوں کے خاندان ہندوستان سے یہاں آئے تھے۔ اس کے بعد 1950 میں نیوزی لینڈ میں ’نیوزی لینڈ مسلم ایسو سی ایشن‘ کے نام سے اولین اسلامک آرگنائزیشن (NZMA ) قائم کی گئی تھا جوکہ آکلینڈ (Auckland) میں تعمیر کرایا گیا تھا۔ پھر اگلے سال پناہ گزینوں کی ایک کشتی ایس ایس گو یا (S.S Goya) کے ذریعہ مشرقی یوروپ سے مسلم افراد یہاں آئے تھے۔ گجراتی اور یوروپی تارکین وطن نے 1950 کی دہائی میں ایک ساتھ کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ مشترکہ طور پر کام کرنے کی وجہ سے جب ان میں قربت ہوگئی تو انہوں نے مل جل کر ایک مکان خرید لیا اور 1995 میں اسے اسلامک سینٹر میں منتقل کر دیا۔ ایک سال کے بعد گجرات کے ایک اولین امام مولانا سعید موسیٰ نیوزی لینڈ میں پہنچ گئے تھے۔ ان کی کاوشوں سے جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے تعاون سے 1960 کی دہائی میں کسی دوسری جگہ پر عبادت خانہ اور اسلامک سینٹر قائم کیا گیا۔ اپریل1997 میں کینٹر بری، ویلنگٹن اور آکلینڈ تین علاقائی آرگنائزیشنوں نے مشترکہ طور پر قومی سطح کا ایک آرگنائزیشن فیڈریشن آف اسلامک ایسو ایشن آف نیوزی لینڈ (ایف آئی اے این زیڈ) نام سے ایک ادارہ قائم کیا ،جسے نیوزی لینڈ مسلم ایسو سی ایشن (NZMA) کے تحت تشکیل دیا گیا تھا۔ اس کا مقصد انفرادی ایسو سی ایشن کی کارگزاریوں کو ایک دوسرے سے تال میل رکھنا تھا تاکہ نیوزی لینڈ کے مسلمانوں کا ایک دوسرے سے رابطہ قائم ہو سکے۔اس کے دفاتر اب ویلنگٹن میں ہیں اور سات مقامی تنظیمیں اس کی ممبر ہیں۔ ان کے مقاصد ایک ایسا نظام وضع کرنا تھا تاکہ قرآن کریم اور حدیث شریف کی روشنی میں اسلامی تعلیمات کے اعلی پیمانہ پر دیکھ بھال کر سکے۔ علاوہ ازیں اسلامی کارگزاریوں اور اس کی بہبود کو فروغ دے سکے اور دیگر امور کے علاوہ یہ فنڈ میں اضافہ کرنے کے لئے دیگر ایسو سی ایشنوں کی بھی معاونت کر سکے۔ اسی لئے مبلغین کے غیر ملکی اسفار کا نہ صرف اہتمام کیا گیا بلکہ اس کے ذریعہ کتابوں اور دیگر لٹریچر کی اشاعت کرنے کے علاوہ اسلام سے تعلق رکھنے والی ویڈیوز بھی تیار کی گئیں۔ ان سب کے علاوہ قرآن کریم کی قرأت کے مقابلے بھی منعقد کئے گئے۔ اس تنظیم کی ایک ایسی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی جو عید سعید منانے کے لئے چاند کی تاریخ کا اعلان کرتی تھی۔

بڑے پیمانے پر مسلمانوں کے امیگریشن کا سلسلہ 1970 کی دہائی میں اس وقت شروع ہوا تھا جب فجی اور ہندوستان کے لوگ کام کی تلاش میں یہاں آئے تھے۔ 1990 کی ابتدائی دہائی میں بہت سے تارکین وطن کو نیوزی لینڈ کے پناہ گزین کوٹہ کے تحت تسلیم کرلیا گیا تھا جو کہ وہ جنگ زدہ ممالک جیسے صومالیہ، بوسینا، افغانستان، کوسووا اور عراق سے آئے تھے لیکن اس میں چینی افراد کا سب سے بڑا گروپ تھا جن کی آبادی اس ملک میں تقریباً 2.3 فیصد تھی جبکہ ہندوستانی تارکین کی آبادی 1.2 فیصد تھی۔ نیوزی لینڈ میں زیادہ تر مسلم طبقہ کا تعلق جنوبی ایشیا (ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش اور فجی ہندوستانیوں ) سے تھا لیکن ان تارکین وطن میں فجی ہندوستانی خصوصی طور پر اہمیت کے حامل تھے۔ تاہم یہاں پر تقریباً 35 ممالک کے تارکین وطن بھی ہیں جن میں عرب، ملیشیا، انڈونیشیا، ایران، صومالیہ اور پا کستان کے لوگ بھی شامل ہیں۔ گزشتہ مردم شماری جوکہ 1996 میں کی گئی تھی اس کے مطابق نیوزی لینڈ میں تقریباً 13545 مسلمان تھے جوکہ نیوزی لینڈ کی کل آبادی میں 0.37 فی صد کی نمائندگی کرتے تھے۔

آج مسلم لیڈروں نے یہاں پر مسلمانوں کی آبادی کا جو تخمینہ لگایا ہے وہ تقریباً 40,000 سے زیادہ ہے، جس کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ آبادی کا یہ اضافہ صرف حالیہ دور میں ہی نہیں ہوا ہے بلکہ بتدریج اس میں اضافہ ہوا۔ حالیہ انکشاف یہ ہوا ہے کہ نیوزی لینڈ میں مسلمانوں کی آبادی 46,149 سے تجاوز کر گئی ہے۔ مسلمانوں کی اکثریت آکلینڈ کے علاقے میں ہے جبکہ دیگر مسلمان ویلنگٹن، ملک کی راجدھانی اور دیگر بڑے شہروں میں رہائش پذیر ہیں۔ مردم شماری کی رپورٹ کے مطابق 1874 سے آگے لیکن 20 ویں صدی کے ابتدائی دور کے کچھ مسلمانوں کے بارے میں کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں ہے۔ 1980 کی دہائی سے اب تک ڈرامائی انداز میں مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ آسٹریلیا کے کچھ تاریک وطن بھی یہاں پر رہائش پذیر ہیں جوکہ مشرف بہ اسلام ہو گئے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ ایسے تھے جنہوں نے مسلم خاندانوں میں شادیاں کی تھیں۔ حالانکہ وہ اس معاشرہ میں محض فیصد رہے ہوں گے لیکن انہوں نے اسلام کے فروغ میں قابل قدر تعاون دیا تھا لیکن یہ بھی ایک المیہ ہے کہ نیوزی لینڈ کے تمام مسلمان ان منظم اسلامی تنظیموں سے سرگرمی کے ساتھ وابستہ نہیں ہوئے تھے لیکن بذات خود تنظیموں اور کچھ ٹرسٹوں نے اسکول قائم کرکے اس ملک میں خصوصی وجود حاصل کر لیا تھا۔ ابتدائی طور پر کچھ گجراتی خاندانوں نے این زیڈ ایم اے (NZMA) کی رکنیت حاصل کی تھی۔ اس کے بعد ترکی اور بلقان سے آنے والے لوگ اس تنظیم کے رکن بن گئے تھے۔ فجی ہندوستانی لوگ 1960کی دہائی سے ہی اس تنظیم سے وابستہ ہو گئے تھے۔ شروعاتی برسوں میں ان کی میٹنگ کسی گھر میں یا کسی دکان کے احاطے میں منعقد ہوا کرتی تھی، اس کے بعد ایسوسی ایشن نے اپنے گھر خرید لئے تھے جن میں عید سعید کی بڑی بڑی تقریبات کا انعقاد کیا جا تا تھا۔ ان میں سے ضرورت پڑنے پر ایک ہال کو کرائے پر بھی دے دیا جاتا تھا۔ 1970 کی وسطی دہائی میں تین دیگر مسلم گروپ آکلینڈ میں بنائے گئے تھے جسے’ انجمن حمایت ال اسلام‘ کے نام سے منسوب کیا گیا تھا۔ یہ گروپ بنیادی طور پر فجی ہندوستانیوں پر مشتمل تھا۔ البانیہ کے تجارتی لوگوں کی قیادت اور نگرانی میں ’دی نیوزی لینڈ کونسل آف دی ورلڈ مسلم کانگریس‘ وجود میں آئی تھی۔ ایسا خیال کیا جاتا ہے کہ اس نے زیادہ تر توجہ مسلم معاشرہ کی اشاعت اور بین الاقوامی سیاسی امور پر توجہ مرکوز کی تھی۔

1976 میں سعودی عرب سے ایک وفد یہاں آیا تھا جس نے انہیں متحد ہونے کا مشورہ دیا تھا۔ اس کے نتیجے میں انجمن اور این زیڈ ایم اے نے متحد ہوکر ایک نئی ایسو سی ایشن نیوزی لینڈ مسلم ایسو سی ایشن‘ کی نئے سرے سے بنیاد ڈالی تھی، جس کے قائم ہونے کے فوراً بعد ہی مسجد تعمیر کرانے کے لئے فنڈ جمع کرنے کا کام شروع کر دیا گیا تھا۔ اس مسجد کا سنگ بنیاد 30 مارچ 1979کو رکھا گیا تھا اور 1983 تک اس مسجد میں نماز ادا کرنے کا ہال تیار ہوگیا تھا جس میں 400 نمازیوں کے لئے نماز ادا کرنے کی گنجائش رکھی گئی تھی اور ایک شاندار وضوخانہ کی تعمیر بھی اسی دوران مکمل ہو گئی تھی۔ اس مسجد میں ایک میٹنگ ہال تعمیر کرانے کے ساتھ ہی 1990میں امام کے رہنے کے لئے ایک فلیٹ بھی تیار ہو گیا تھا۔ ابھی حالیہ برسوں میں این زیڈ ایم اے (NZMA) نے قابل قدر ترقی حاصل کر لی ہے اور اب اوسطاً جمعہ کی نماز میں اوسطاً 500سے زیادہ نمازی شرکت کرتے ہیں۔ آکلینڈ کے علاقے میں دیگر مقامات پر بھی کچھ گروپ اور ایسوسی ایشن وجود میں آگئی ہیں۔ جیسے جیسے اس ملک میں مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اسی تناسب میں وہ شہر کے مختلف علاقوں میں آباد ہوتے جا رہے ہیں۔

انٹرنیشنل مسلم ایسو سی ایشن آف نیوزی لینڈ(IMAN) 1966 میں ویلنگٹن میں قائم کی گئی تھی۔ بنیادی طور پر کثیر تعداد میں یونیورسٹی کے طلبا نے اسے قائم کیا تھا۔ انہوں نے ہی اس کار خیر میں زبردست تعاون دیا تھا لیکن یہ معمول دیر پا ثابت نہیں ہوا لیکن آئی ایم اے این اپنی راہ پر گامزن رہا۔ اس کا ایک اسلامک سینٹر بھی ہے اور آئندہ دنوں میں اس کا ایک ایسی مسجد تعمیر کرانے کا ارادہ بھی ہے۔ معاشرہ میں فروغ ہونے کی وجہ سے گریٹر آکلینڈ میں دو تین طرح کی سہولتیں دستیاب ہو گئی ہیں۔ آئی ایم اے این کے زیر اہتمام ایک ایسی مسجد قائم ہو گئی ہے، جہاں پر آزادانہ طور پر نماز جمعہ ادا کی جا سکے۔ موجودہ وقت میں اس کے زیر اہتمام قائم کر دہ سینٹر میں بہ یک وقت 500 سے 600 افراد نماز ادا کر سکتے ہیں۔

جنوبی جزیرہ میں مسلم طبقات کرائسٹ چرچ (Christ Church) اور دونیدین (Dunedin) میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ آبادی اور ذرائع کے تناسب کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ تمام ایسو سی ایشن اہم مذہبی خدمات انجام دیتی ہیں۔ ماہ رمضان میں افطار و طعام، عید الفطر اور عید الاضحی کے موقع پر تقریبات کا اہتمام کرنے کے علاوہ یہ مقامی مسلم باشندوں کو عربی کی تعلیم اور دیگر مذہبی تعلیمات سے آراستہ کرتی ہیں۔ ان میں سے کچھ تنظیمیں ایسی ہیں جوکہ ہلال گوشت فراہم کرنے کی خدمات بھی انجام دیتی ہیں۔ شادی کی تقریبات منعقد کرانے کے علاوہ یہ نہ صرف میت کو غسل کرانے کا اہتمام کرتی ہیں بلکہ میت کی تدفین کے لئے جگہ بھی فراہم کراتی ہیں۔ آکلینڈ کے بہت سے سینٹروں میں بالکل اسی طرح کا وقتی امام مامور کئے گئے ہیں جیسے کہ ویلنگٹن میں کئے گئے ہیں۔ یہاں پر ایسے اسکول بھی قائم کئے گئے ہیں جہاں پر نماز ادا کرنے کے لئے جگہ متعین کردی گئی ہے۔ کچھ اسکولوں میں طلبا کے لئے ظہرانہ کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے لیکن وہاں پر خصوصی طور پر اسلامی تعلیم نہیں دی جا تی ہے۔ آکلینڈ میں مسلمانوں کے لئے ’’اسکول ڈے ‘‘ کا آغاز بھی کیا گیا تھا۔ اسلامک ایجوکیشن اور دعوۃ ٹرسٹ کی معاونت سے مدینہ اسکول میں ’’ہوم اسکولنگ‘‘(Home Schooling) کی1989 میں بنیاد ڈالی گئی تھی اور اسے 1992 میں وزارت برائے تعلیم کی جانب سے منظوری مل گئی تھی اور 1995 میں یہ اسکول اپنی عمارت میں منتقل ہو گیا تھا۔ 1999 میں اس اسکول میں طلبا کی تعداد 300 سے زائد ہوگئی تھی۔ اس کے علاوہ چھوٹے طلبا کے لئے ایک دیگر اسکول بھی شروع کیا گیا تھا مگر وہ کچھ دنوں میں بند ہو گیا تھا، اس کی اصل وجہ معاشی حالت کمزور ہونا تھی۔ اب کسی دوسری جگہ پر اسے دوبارہ شروع کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے۔ یہاں کے مسلمانوں نے نہ صرف لڑکوں کی تعلیم پر اپنی توجہ مرکوز کی تھی بلکہ انہوں نے 2001 میں لڑکیوں کی تعلیم کے لئے ’’زائد کالج‘‘ بھی قائم کیا تھا۔

فیڈریشن آف اسلامک ایسو سی ایشن نیوزی لینڈ (FAINZ) نے ایک تجارتی ادارہ ’’عمانہ کارپوریشن ‘‘(AMANA CORP.) کے نام سے اس مقصد کے تحت قائم کیا تھا تاکہ مسلم طبقہ کے لئے معاشی ذرائع کشادہ کئے جا سکیں اور فیانزے (FIANZA) خود کفیل ہو جائے۔ اس کے علاوہ اس بات پر غور وخوض کیا گیا تھا کہ یہاں پر اسلامی بینکنگ کا نظام قائم کیا جائے۔ نیوزی لینڈ میں ایک اسلامی دعوۃ اور مشرف بہ اسلام ہونے کی ایک ایسوسی ایشن بھی قائم کی گئی تھی جوکہ غیر مسلموں کو اسلام قبول کرنے کی نہ صرف دعوت دیتی ہے بلکہ ان کو تعاون بھی دیتی ہے اور یہ سلسلہ بعد میں بھی جاری و ساری رہتا ہے۔ اس ایسوسی ایشن کا دعویٰ ہے کہ اس طرح کے تقریباً 100 اراکین ہیں جن میں سے زیادہ تر آکلینڈ میں رہائش پذیر ہیں۔

نیوزی لینڈ میں حالانکہ نصرانی عقیدے کے حامل لوگوں کی اکثریت ہے لیکن وہاں بھی اللہ تعالیٰ نے اسلامی ظہور پھیلنے کے اسباب پیدا کر دیئے تھے۔مذکورہ بالا سطور کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ بات قطعی طور پر واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام کے سماوی و آفاقی اثرات سے اہل یوروپ بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے ہیں۔ ابتدائی دور میں پختہ اسلامی عقیدہ رکھنے والے مسلمانوں نے زبردست مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے نہایت صبر واستقلال کا مظاہرہ کیا، جن کا ثمرہ یہ بر آمد ہوا کہ یکے بعد دیگرے بہت سے غیر مسلم افراد اسلام کی آغوش میں آگئے اور پھر انہوں نے بھی اسلام کو مزید فروغ دینے میں اپنا بیش بہا تعاون دیا۔

آج نیوزی لینڈ میں اہل اسلام کی قابل قدر تعداد ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ مشرف بہ اسلام ہونے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ آج اہل یوروپ اسلام کی حقانیت کو تسلیم تو کرتے ہیں لیکن اسے اختیار کرنے میں جھجک محسوس کرتے ہیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ یہ جھجک بھی ایک دن ختم ہوجائے گی کیونکہ رب تعالیٰ قادر مطلق ہے۔ وہ غیر مسلموں کے قلوب کو اسلام کی روشنی سے کب منور کر دے گا یہ مطلق اسی کی دسترس میں ہے۔ ان چند مسلمانوں کی سخت جد وجہد کو خداوند قدوس نے قبول کر لیا تھا اور انہیں کی مذہبی کاوشوں سے نیوزی لینڈ میں اسلامی عقیدہ جلوہ گر ہو رہا ہے، جس کو فروغ ملنے کے آثار اس ملک میں نمو دار ہو چکے ہیں۔

(syedfaisalali2001@yahoo.com)

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also

Close
Close