اپنا دیشتازہ ترین خبریں

آدھار پرعدالت کا فیصلہ ہماری جیت، ضرورت پڑی تو پھر کورٹ جائیں گے: کانگریس

کانگریس نے آدھار کارڈ کے تعلق سے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے اپنی جیت قرار دیا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر کپل سبل نے آج یہاں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت کی من مانی اور غلط پالیسی کی وجہ سے آدھار کا ڈاٹا نجی کمپنیوں کے ہاتھوں میں جا رہا تھا۔ عدالت کے فیصلے سے اب یہ رک تو جائے گا لیکن عوام کی پرائیویسی جو پرائیویٹ ہاتھوں میں چلی گئی ہے اس کے زیاں کا کیا طریقہ ہوگا اور یہ کام کیسے ہوگا ۔ یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے۔

مسٹر سبل نے کہا کہ آدھار کی یجی تفصیلات کو نجی کمپنیوں کو دینا غیر آئینی تھاجس پر کانگریس سراپا احتجاج تھی اور اسے اس بات کی خوشی ہے کہ عدالت نے اس کی اس بات کو مان لیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کے نام پر لوگوں کا ذاتی ڈاٹا اس طرح حاصل نہیں کیا جانا چاہئے تھااورنہ ہی اُس تک پرائیویٹ اداروں کی رسائی ہونی چاہئے تھی۔ عدالت نے کانگریس کے اس منطق کو درست مانتے ہوئے چھ ماہ کے بعد ڈاٹا تباہ کرنے کو کہا ہے لیکن اس کو تباہ کس طرح کیا جائے گا اس بارے میں کوئی ہدایات نہیں دی گئی ہے

انہوں نے کہا کہ منی بل کے بارے میں بھی سپریم کورٹ کا فیصلہ اہم ہے اور حکومت اب اس کی آڑ میں من مانی حرکتیں نہیں کر سکتی۔ لوک سبھا اسپیکر اگر کسی بل کو منی بل قرار دے کر اسے راجیہ سبھا میں جانے سے روکنے کی کوشش کرتا ہے تو کانگریس اب اس معاملے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی۔ واضح ر ہے کہ سپریم کورٹ کی آئین بنچ نے آج کی اکثریت کے فیصلے میں کچھ شرائط کے ساتھ آدھار کارڈ کی آئینی موزونیت برقرار رکھی لیکن بینک اکاؤنٹ کھولنے، موبائل سم حاصل کرنے اور بچوں کےاسکولوں میں داخلے کے لئے آدھار کے لازمی ہونے کی شرط ختم کر دی ہے۔

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close