تازہ ترین خبریںمحاسبہ

اِک قہر ہے، محشر ہے، قیامت کی گھڑی ہے

محاسبہ…………….سید فیصل علی

ہر ذی نفس کورونا کے ایسے نرغے میں ہے کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ زندگی کب پٹری پر لوٹے گی؟ دنیا میں کووڈ-19 متاثرین کی تعداد ایک کروڑ 42 لاکھ ہوچکی ہے، بھارت میں یہ تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔ تشویش کی بات تو یہ ہے کہ بھارت میں کورونا کی رفتار حد درجہ تیز ہے اور اسی تیز رفتاری کا نتیجہ ہے کہ کورونا کے معاملے میں بھارت دنیا کا تیسرا ملک بن چکا ہے، حالانکہ 23 مارچ کو جب پورے لک میں لاک ڈاؤن کا آغاز ہوا تو اس سے ایک دن قبل 22 مارچ کو وزیراعظم نے قوم کے نام اپنے خصوصی خطاب میں کورونا کو بھگانے کے لئے تھالی پیٹنے اور تالی بجانے کی تلقین کی۔اسی دوران بی جے پی حکومت نے عوام کا حوصلہ بڑھانے کے بجائے مدھیہ پردیش کی سرکار گرانے میں دلچسپی لی اور 23 مارچ کو مدھیہ پردیش کی سرکار گر گئی۔ کاش ابتدائی دور میں ہی کورونا کے خلاف ٹھوس حکمت عملی بن گئی ہوتی تو اتنی تیز رفتاری سے یہ وبا نہیں پھیلتی اور مزدوروں کو بھی نقل مکانی پر مجبور نہیں ہونا پڑتا۔ حد تو تب ہو گئی، جب کورونا کی یلغار کو دیکھتے ہوئے پی ایم نے ٹھوس حکمت عملی اپنانے کے بجائے 5 اپریل کو دیئے جلانے، موبائل ٹارچ جلانے کی تلقین کی، لیکن حسب دستور تالی پیٹنے، تھالی بجانے کے بعد دیئے جلانے کا عمل بھی بے سود ثابت ہوا۔ 21 مارچ کو ملک میں متاثرین کی تعداد 181 تھی، لیکن 23 مارچ کو 453 ہوگئی، 3 مئی کو تو ہیلی کاپٹروں سے ڈاکٹروں، پولیس اہلکاروں اور دیگر کورونا واریئرس پر پھول برسائے گئے، ان پھولوں کی بارش کے باوجود ممبئی، دہلی اور ملک کے کئی بڑے اسپتالوں کے ڈاکٹرس، نرسز اور پیرا میڈیکل اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد خود کورونا وائرس کی زد میں آ گئی، یعنی ’مرض بڑھتاگیاجوں جوں دوا کی‘۔

ستم تو یہ ہے کہ گزشتہ 2 ماہ یعنی جون اور جولائی میں بھارت میں کورونا مریضوں کی رفتار دوگنی ہوگئی ہے اور بہار اس معاملے میں سب سے نازک موڑ پر ہے۔ بہار کورونا اور سیلاب کی دوہری مار جھیل رہا ہے، یہاں مریضوں کی تعداد 25 ہزار ہونے والی ہے، 17 اضلاع سیلاب کے دہانے پر ہیں، شمالی بہار میں کئی ندیوں کے اندر طغیانی آچکی ہے۔ ارریا، کشن گنج اور پورنیہ وغیرہ کے لوگ انتہائی خوف زدہ ہیں کہ کب نیپال کے بیراج کھول دیئے جائیں کب پشتے ٹوٹ جائیں اور ان کا علاقہ سیلاب میں غرق آب ہو جائے، کیونکہ نیپال کا جو رویہ ہے، پشتوں کی جو خستہ حالی ہے، اس سے شمالی بہار کے لوگ انتہائی خوف کے عالم میں ہیں۔ کورونا اور بارش کے پانی نے بہار کو بے حال کر رکھا ہے۔ گوپال گنج میں 267 کروڑ کی لاگت سے بنا پل جس کا 29 دنوں قبل افتتاح ہوا تھا، اس پروجیکٹ کا ایک حصہ مہندم ہو گیا ہے، گوپال گنج میں گنڈک کے کٹاؤ سے درجنوں گاؤں غرق آب ہیں۔

بہار میں کورونا بے لگام ہو چکا ہے، یہ وبائی وائرس دوگنی رفتار اختیار کر چکا ہے، صرف پانچ دنوں میں پانچ ہزار مریضوں کا اضافہ ہو چکا ہے، بہار میں نہ ٹیسٹنگ ہو رہی ہے، نہ کوارنٹائن سینٹروں کا معقول نظم ہے، نہ وہاں متاثرین کے تحفظ اور رکھ رکھاؤ پردھیان ہے، سپول اور کئی علاقوں کے کوارنٹائن سینٹروں میں پانی داخل ہو چکا ہے، وہاں ڈاکٹر ٹھیلے پر جا رہے ہیں۔ ڈاکٹروں اور مریضوں کی اس حالت پر بہار کے سابق وزیراعلیٰ لالو پرساد یادو نے بھی رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا ہے کہ’’یہ بہار کی 15 سالہ سشاسن حکومت کی تصویر ہے‘‘۔ بہار میں کورونا کی گھس پیٹھ عام لوگوں تک ہی نہیں ہے، بلکہ اب تو ایوان و اقتدار وسیاست تک پہنچ چکی ہے۔ بی جے پی اور جنتادل یو کے بڑے بڑے لیڈر کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں۔ سی ایم ہاؤس سے لے کر راج بھون تک کے کئی اہلکار کورونا زدہ ہوگئے ہیں۔ بہار میں بی جے پی صدر، جے ڈی یو کے ترجمان آلوک، مدھوبنی اور بیتیا کے بی جے پی صدر سمیت ڈیڑھ سو سے زائد افراد کوورنا پوزیٹیو پائے گئے ہیں۔ بہار کے کئی وزراء اور کئی سینئر آئی اے ایس وغیرہ بھی کورونا کی چپیٹ میں ہیں،چنانچہ بہار میں کورونا کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے 16 جولائی سے 31 جولائی تک مکمل لاک ڈاؤن کردیا گیا ہے۔

بہار میں کورونا کے حالات پر گلوبل ہیلتھ رپورٹ میں بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ کورونا کے معاملے میں بہار ملک کی دوسری پیچیدہ ریاست بن چکا ہے، یہاں کے حالات نہایت سنگین ہیں، مگر ستم تو یہ ہے کہ بہار میں حالات کی سنگینی کا مقابلہ کرنے کے بجائے اسمبلی چناؤ کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ بی جے پی بڑے طمطراق سے تال ٹھونک رہی ہے اور وہ بہار میں147کروڑ کے صرفے سے ورچوئل انتخابی جلسے وغیرہ کا خاکہ بنا چکی ہے۔ وزیراعلیٰ نتیش کمار بھی اپنی 3 ماہ کی گوشہ نشینی ختم کرکے کورونا کا مقابلہ کرنے کے بجائے اقتدار کو بچانے کی بساط بچھا رہے ہیں۔ کیا کورونا اور سیلاب کی گھڑی میں چناؤ کرانا ایک نئی مصیبت کو دعوت دینا نہیں ہے؟ اسی خدشے کا اظہار آرجے ڈی کے قائد تیجسوی یادو سمیت ملک کی 9 اپوزیشن جماعتوں نے الیکشن کمیشن کو مکتوب بھیج کر کیا ہے۔ بہار میں اب سب کچھ رام بھروسے ہے۔ 17جولائی کو پی ایم نے اقوام متحدہ کی 75ویں سالگرہ کے موقع پرکہا کہ ہم نے کورونا کی جنگ میں ڈیڑھ سو سے زائد ملکوں کی مدد کی ہے، مگر سوال تو یہ ہے کہ اپنے ہی گھر کو اندھیرا چھوڑ کر پرائے گھروں کو روشن کرنا کہاں تک درست ہے؟ یہی سوال ہرذی شعور کر رہا ہے۔

خاص بات تو یہ ہے کہ آج بہار کو بچانے کے بجائے سیاسی بازی گری ہو رہی ہے، صحت عامہ پر دھیان دینے کے بجائے چناؤ کی بساط بچھائی جا رہی ہے، جبکہ بہار کا المیہ یہ ہے کہ یہاں میڈیکل سینٹر انتہائی خستہ حالی سے دوچار ہے، گوکہ یہاں سرکاری اسپتالوں کی تعداد 390 ہے، جہاں 469 جنرل فیزیشین اور 566 نرسوں کے سہارے اسپتال چل رہے ہیں، اس طرح 28,391 کی آبادی پر صرف ایک ڈاکٹر ہے۔ علاوہ ازیں بہار میں 9 میڈیکل کالج واسپتال ہیں، 536 پرائمری ہیلتھ سینٹر، 1,359 ایڈیشنل پرائمری ہیلتھ سینٹر، 9,949 سب ہیلتھ سینٹر، 37 ضلع اسپتال، 55 سب ڈویزنل اسپتال، 70 ریفرل اسپتال بھی ہیں، مگر کورونا ٹیسٹنگ کے معاملے میں بھی بہار فسڈی ہو چکا ہے، دہلی میں 10 لاکھ پر 32,863 ٹیسٹنگ ہو چکی ہے۔ آندھرپردیش میں18,597، تمل ناڈوں میں 16,663حتیٰ کہ جھارکھنڈ جیسی ریاست میں 4,416 ٹیسٹ ہوچکے ہیں، مگر بہار کا ٹیسٹنگ ’آنکڑا‘ صرف 2,637 تک پہنچا ہے، کیونکہ جب ٹیسٹنگ نہیں ہورہی ہے تو پھر علاج کیسے ہوگا یہ بڑا سوال ہے۔

آج سوال صرف بہار کو بچانے کا ہے، چناوی تال ٹھونکنے کا نہیں۔ کمرے میں لاش رکھی ہو تو دیوالی منانا اعلیٰ ظرفی نہیں ہے، چناؤ میں 65 سال کی عمر والے بھی لائن میں کھڑے ہوں گے، ان کی زندگی کی ضمانت کون دے گا؟ کورونا کے اس دور میں انتخاب لڑنا عوام کو سولی پر لٹکانے کے مترادف ہے۔ مجھے تو نہیں معلوم کہ بہار میں کتنے کورونا کیئر سینٹر ہیں؟ کاغذی طور پر تو بہت سارے ہوں گے، مگر سپول کے کورونا کیئر سینٹر کا حال زار یہ ہے کہ وہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے اور ڈاکٹر ٹھیلے کے ذریعہ سینٹر جا رہا ہے، جب ایک ڈاکٹر کی یہ ’دوردشا‘ ہے تو پھر کورونا مریض کس بے بسی کا شکار ہو گا یہ بھی فکر کا موضوع ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جب بہار کے 17 اضلاع سیلاب کے نرغے میں ہوں، پورا بہار کورونا کے شکنجے میں ہو، ہر روز مریضوں کی تعداد دوگنی ہو رہی ہو، ہرگھنٹہ 8 مریض بڑھ رہے ہوں، بہار کورونا کے معاملے میں ہاٹ اسپاٹ کی طرف گامزن ہو تو ایسی مصیبت کی گھڑی میں کیا بہار میں چناؤ کرانا ضروری ہے؟ یا کورونا ٹیسٹ کی رفتار بڑھانا ضروری ہے یا اس محشر کی گھڑی میں کورونا اور سیلاب کے ماروں کو پولنگ بوتھ کے آگے لائن میں لگانا ضروری ہے، یا ان کی راحت کاری اور ان کا دکھ درد سمیٹنا حکومت کا فرض ہے، لیکن کیا کہا جائے۔ آج کے اقتدار و سیاست کے سینے میں شاید دل ہی نہیں ہوتا، بقول طالب رامپوری:

اک قہر ہے، محشر ہے، قیامت کی گھڑی ہے
سرکار کو بس کرسی بچانے کی پڑی ہے

([email protected])

محاسبہ………………………………………………………………………………………سید فیصل علی

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close