تازہ ترین خبریںکھیل کھلاڑی

انل کمبلے کو بنانا چاہئے ٹیم انڈیا کا چیف سلیکٹر: سہواگ

ہندوستان کے سرکردہ سلامی بلے بازوں میں سے ایک وریندر سہواگ کا خیال ہے کہ اگر ان کے وقت میں ’سلیکٹر ایپ‘ جیسی کوئی چیز ہوتی تو وہ کبھی سلامی بلے باز نہ بن پاتے۔

ہندوستان کی طرف سے پہلی مرتبہ ٹرپل سنچری بنانے والے اور ملتان کے سلطان کے نام سے مشہور سہواگ نے آج یہاں سلیکٹر ایپ لانچ کرنے کے بعد پریس کانفرنس میں کہا، "اگر میرے وقت پر اس طرح کا کوئی’ایپ‘ ہوتا تو میں کبھی سلامی بلے باز نہیں بن پاتا۔ اس ایپ کے ذریعے کرکٹ شائقین کو اپنی ٹیم منتخب کرنے کا موقع ملتا ہے اور اگر میرے وقت یہ ایپ ہوتا تو ہر کوئی سوربھ گانگولی کو ہی سلامی بلے باز منتخب کرتا اور میں مڈل آرڈر میں ہی کھیلتا اور کبھی سلامی بلے باز نہیں بن پاتا۔ ”

سہواگ نے کہا، "جب آپ ہندوستانی ٹیم میں ہوتے ہیں کپتان اور کوچ ہی ٹیم منتخب کرتے ہیں۔ اس ایپ کے ذریعے شائقین کو اپنی ٹیم منتخب کرنے کا موقع مل سکتا ہے اور وہ دیکھ سکتے ہیں کہ ان کی پسند کی ٹیم کیا ہو سکتی ہے۔ یہ پوچھنے پر کہ کیا وہ ہندوستانی ٹیم کا کوچ بننا چاہتے ہیں، سہواگ نے ہنستے ہوئے کہا، "2017 میں میں نے کوچ کے عہدے کے لئے درخواست دی تھی جب مجھ سے کہا گیا تھا. لیکن اس بار مجھ سے کسی نے ایسا نہیں کہا اور میں نے کوچ بننے کے لئے درخواست نہیں دی۔ ”

سلیکٹر ایپ کے برانڈ ایمبیسیڈر سہواگ سے یہ پوچھنے پرکہ کیا وہ 2021 میں روی شاستری کی مدت ختم ہونے کے بعد کوچ کے لئے درخواست دینا چاہتے ہیں، انہوں نے کہا، "دو سال میں بہت کچھ بدل جاتا ہے۔ میں بی سی سی آئی کا صدر بھی بن سکتا ہوں۔ تب مجھے کوچ کے لئے درخواست دینے کی کوئی ضرورت نہیں پڑے گی۔” انہوں نے زور دے کر کہاکہ سابق ہندوستانی کپتان اور لیگ اسپنر انیل کمبلے کو مستقبل میں چیف سلیکٹر بنایا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا، "جب کمبلے کپتان تھے تو ایک دن وہ میرے کمرے میں آئے اور انہوں نے کہا کہ تم اگلی دو سیریز کھیلنے جا رہے ہو اور تمہیں ہٹایا نہیں جائے گا۔ وہ اس طرح کا حوصلہ کھلاڑیوں کو دیتے تھے۔ ”

دلچسپ بات یہ ہے کہ بی سی سی آئی نے 2017 میں کمبلے کی کوچ کے عہدے کی مدت نہیں بڑھائی تھی اور ان کی جگہ روی شاستری کو کوچ مقرر کیا تھا۔ انہوں نے کہا، "کمبلے سچن، سوربھ اور راہل جیسے سینئر کھلاڑیوں سے بات کرتے تھے اور نوجوان کھلاڑیوں کی رہنمائی بھی کرتے تھے۔ ایسے کھلاڑی کو چیف سلیکٹر بنایا جا سکتا ہے جو ٹیم کے لئے صحیح انتخاب کرے۔ ہندوستان کی ویسٹ انڈیز میں جمعرات سے شروع ہو رہی ٹیسٹ سیریز میں روہت شرما اور اجنکیا رہانے میں سے کسی ایک کو ٹیم میں شامل کئے جانے کے سوال پر سہواگ نے کہا، "روہت ٹیسٹ ٹیم میں تبھی فٹ ہوں گے جب ٹیم چار گیند بازوں کے ساتھ کھیلے ورنہ میں رہانے کو ہی الیون میں كھلانے کی حمایت کروں گا۔ ”

سہواگ نے کہا کہ ورلڈ کپ سیمی فائنل میں مہندر سنگھ دھونی کو پانچ نمبر پر اتارنا چاہیے تھا کیونکہ وہ ایک سرے پر مورچہ سنبھالے رہتے ہیں اور ہاردک پانڈیا اور رشبھ پنت جیسے جارح بلے باز نچلے آرڈر میں رنوں کی رفتار کو کر بڑھا سکتے ہیں۔ سہواگ نے بھی تسلیم کیا کہ انہیں چھٹے نمبر پر بھیجنے کا فیصلہ درست نہیں تھا۔ انہوں نے بی سی سی آئی کے مفادات کے تصادم کے ضابطے کو بھی سمجھ سے باہر بتایا اور تیز گیند باز ایس سری سنت پر عائد پابندی کو کم کرکے سات سال کرنے اور ان پابندیوں کو اگلے سال ختم ہو جانے پر خوشی ظاہر کی۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close