تازہ ترین خبریںدلی نامہ

انقلابی نعروں سے گونج رہی ہے دہلی یونیورسٹی

سی اے اے، این آر سی کے خلاف طلبا و طالبات کا زبردست احتجاجی مظاہرہ ٭میدھا پٹکر کا حکومت پر زبردست حملہ

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کی مخالفت پورے ملک میں کی جا رہی ہے۔ جس کا مرکز راجدھانی دہلی بنی ہوئی ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ پر مسلسل 35 روز سے جاری دھرنے میں نہ صرف اے ایم یو بلکہ راجدھانی کی دہلی یونیورسٹی اور اسکول کالج کے طلباء و طالبات آزادی کے فلک شگاف نعرے لگا رہے ہیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی طرح ہی دہلی یونیورسٹی کے گیٹ نمبر چار پر گاندھی کالنگ نامی تنظیم کے زیر اہتمام اس کالے قانون کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ احتجاجی مظاہرہ میں ڈی یو کے طلباء سمیت مختلف شعبوں سے وابستہ افراد یہاں شرکت کر رہے ہیں۔ یہاں نکڑ ناٹک اور مظاہروں کے ذریعہ سی اے اے قانون کی مخالفت کی جا رہی ہے۔ ڈی یو کے طلبا کی حمایت میں آج معروف سماجی رہنما میدھا پاٹکر، توشار گاندھی، کرونا نندی، سچیتا ڈے سمیت کئی مقررین یہاں پہنچ گئے ہیں اور اس کالے قانون کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں۔ وہیں دہلی کے مختلف کالجوں کے طلبا سمیت اے ایم یو کے طلبا بھی یہان پہنچ رہے ہیں۔

احتجاجی مظاہرہ میں ڈی یو پہنچی معروف سماجی لیڈر میدھا پاٹکر نے کہا کہ این پی آر، این آر سی اور سی اے اے ایک ہی چیز ہیں۔ جو تقسیم کرنے کے ان کے ہتھیار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ’وشو گرو بننے سے پہلے بھارت کو دیش گرو بننا ہوگا‘۔ معیشت تباہ ہو رہی ہے، لیکن یہ لوگ ہمارے درمیان دیواریں کھڑی کرکے تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ میدھا پاٹکر نے کہا کہ یہ حکومت دائلاگ نہیں کرنا چاہتی، کیوںکہ یہ حکومت ہم سے ڈرتی ہے اور پولیس کو آگے کرتی ہے۔

کرونا نندی نے کہا کہ این آر سی اور این آر پی کا پروسیس نیور اینڈنگ اسٹوری ہے۔ ہمیں ٹکڑے کرنے کی سازش یہ حکومت کر رہی ہے۔ این آر سی، این پی آر اور سی اے اے کے خلاف حکومت مختلف افواہیں پھیلا رہی ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ پہلے لوگ حکومت کا انتخاب کرتے تھے لیکن اب حکومت منتخب کرے گی کون کون یہاں رہے گا۔ کون مہاجر ہے اور کون در انداز ہے۔ ہمیں اپنے شہری ہونے کا ثبوت دینا ہوگا۔ یہ تحریک آئین کو بچانے کی تحریک بن چکی ہے۔

سوچیتا ڈے نے کہا کہ ہمیں مذہب اور زبان کی بنیاد پر تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔ شاہین باغ میں شروع ہونے والا ستیہ گرہ میں سب کے ساتھ ہے۔ ینگ انڈیا 20 جنوری کو اس کالے قانون کے خلاف منڈی ہاؤس سے مارچ شروع کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ آزادی کے وقت بھی نوجوان نکلے تھے اور ہندو مسلموں نے مل کر شہادت دی ہے۔ انہوں نے مرکزی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ مذہب ملک کوڈیفائن کرنے کی بنیاد نہیں ہو سکتا ہے۔ ہم کیوں بتائیں کہ ہمارے والدین کہاں پیدا ہوئے ہیں۔ ہم ہندوستان کے لوگ ہیں۔ یہ جدوجہد آزادی تک جاری رہے گی جب تک کہ این آر سی اور سی اے اے کی واپسی نہیں ہوگی۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close