تازہ ترین خبریںدلی نامہ

انجمن حیدری اوقاف کی جائدادوں کی بازیابی کی لڑے گی لڑائی

بلا تفریق مسالک وقف تحفظ تحریک کے تحت 50لاکھ کروڑ قیمت کی مقبوضہ جائدادوں کو کرائیں گے بازیاب

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
طویل قانونی لڑائی لڑکر جور باغ کربلا کی زمین کو قابضین سے آزاد کرانے والی انجمن حیدری (رجسٹرڈ) اب اوقاف کی تمام جائدادوں کو قابضین سے آزاد کرانے کی قانونی لڑائی لڑے گی۔ انجمن حیدری نے 50 لاکھ کروڑ قیمت کی ایسی جائدادوں کی نشان دہی کی ہے جن پر قبضے ہیں اور وقف بورڈ ان کو خالی کروانے میں قاصر ہے۔ اس کےلئے سبھی مسالک کے لو گوں کے ساتھ مل کر وقف تحفظ تحریک (وقف پروٹیکشن مومنٹ) انجمن چلانے جا رہی ہے۔

اوقاف کے تحفظ کےلئے چلائے جانے والی اس تحریک کے سلسلے میں کربلا جور باغ میں منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس میں سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ محمود پراچہ، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن ڈاکٹر مفتی اعجاز ارشد قاسمی اور انجمن حیدری کے سیکریٹری جنرل سید بہادر عباس نقوی نے بتایا کہ اوقاف کے تحفظ کےلئے چلائے جانے والی تحریک کا 24 مارچ کو ایک بڑا اجلاس یہاں منعقد کیا جائے گا۔ جس میں تمام مسالک کے ملک بھر کے علمائے کرام اور فرقوں کے لوگ جمع ہوں گے اور ایک کمیٹی اور لیگل سیل تشکیل دی جائے گی جو وقف کی جائیدادوں کی بازیابی کےلئے کام کرے گی۔

اس موقع پر محمود پراچہ نے وقف کی اراضی کے حوالے سے کہا کہ وقف بورڈ نے وقف کی جائدادوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ ملک بھر میں 50 لاکھ کروڑ سے زائد کی اوقات کی جائیداد ہیں اگر ان جائیداد کا صحیح اور بہتر استعمال ہوں تو بہت کم وقت میں مسلمانوں کی بدحالی دور کی جا سکتی ہے انہوں نے معلومات دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے اس کےلئے 100سے زیادہ وکلاء اور معزز شخصیات کو شامل کیا ہے ساتھ ہی سبھی مسالک کے علمائے کرام اور سیول سوسائٹی بھی ہمارے ساتھ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اوقاف کی جتنی بھی زمین سرکار کے قبضے میں ہے اس کے خلاف ہم اپیل داخل کریں گے۔

بہادر عباس نقوی نے کہا کہ اوقاف کی جائدادوں کے تحفظ میں وقف بورڈ کا کردار مشکوک ہے۔ کربلا اراضی معاملے میں وقف بورڈ نے ایمادارانہ رول ادا نہیں کیا۔ بہادر عباس نے کہاکہ وقف امینڈمنٹ ایکٹ کے مطابق انجمن حیدری اوقاف کی جائدادوں کی حفاظت کی لڑائی لڑے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دہلی کی اوقاف کی جائدادوں کے 1850کے سروے کی رپورٹ جو لندن میں ہے اس کی کاپی مع نقشہ انجمن حیدری کے پاس موجود ہے، اس سے مالکانہ حق کا پتا چلتا ہے، اس وقت میں وقف کی کتنی زمین تھی اور اب کتنی ہمارے پاس موجود ہے۔ انہوں نے اپنا موقف ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وقف کی زمین پر ہم چاہتے ہیں کہ ہائی اسکول بنائے جائیں اور اسپتال بنائے جائیں۔

ڈاکٹر مفتی اعجاز ارشد قاسمی نے اس موقع پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وقف بورڈ کی جو باڈی تشکیل دی جاتی ہے وہ سرکار کے ماتحت کام کرتی ہے۔ مزید افسوس یہ ہے کہ وہ محض سرکار کے نمائندے ہونے کی بنیاد پر اوقاف کی بازیابی کے لئے کام نہیں کرتے ہیں بلکہ عموماً دیکھا گیا ہے کہ وہ اوقاف کی اراضی میں بھی خوردبرد میں پائے جاتے ہیں۔ مفتی قاسمی نے کہاکہ اس وقف تحفظ مہم کےلئے تمام ملّی جماعتوں کی ہمیں حمایت حاصل ہے، اوقاف کے تحفظ کےلئے بلا تفریق سب ایک ساتھ ہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close