تازہ ترین خبریںدلی این سی آر

اناؤ واقعہ کے بعد نربھیا خاندان دہشت میں، سیکورٹی کا مطالبہ

اناؤ آبروریزی کی متاثرہ کو زندہ جلائے جانے کے واقعہ کے بعد سے ہی کوشامبی کی نربھیا بھی خوف اور دہشت کے سائے میں ہے۔ اجتماعی آبروریزی کا شکار ہوئی اس نوجوان کے خاندان نے ضلع مجسٹریٹ کو خط بھیج کر سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

متاثرہ کے خاندان کے لوگوں کا الزام ہے کہ پولیس ان کی حفاظت کے نام نام پر محض خانہ پری ہی کر رہی ہے۔ اگرچہ ملزم جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہو، لیکن پھر بھی ملزمین کے مددگار کبھی بھی سازش کر کے انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ایسے میں کوشامبی کے افسر مطالبہ کئے جانے کے بعد بھی سیکورٹی کے نام پر صرف خانہ پری ہی کر رہے ہیں۔ اگرچہ حیدرآباد میں ویٹنری ڈاکٹر کی اجتماعی آبروریزی اور قتل کے ملزمین کی پولیس تصادم میں موت پر انہوں نے اسے کلیجے کو ٹھنڈک دینے والا بتایا ہے۔

غور طلب ہے کہ 21 ستمبر کو سرائے عاقل تھانہ علاقے میں جانوروں کے لئے چارہ لینے کھیت گئی 14 سالہ متاثرہ دوشیزہ کے ساتھ گاؤں کے ہی تین نوجوانوں نے اجتماعی آبروریزی کی۔ ملزمین نے اس واردات کا ویڈیو بھی بنا کر سوشل میڈیا میں وائرل کر دیا، جس کے بعد کوشامبی پولیس کی اس واقعہ میں شامل ملزمین کی گرفتاری کو لے کر کافی کرکری ہوئی۔ اگرچہ پولیس نے دس دنوں سے زیادہ کا وقت لے کر ملزمین کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا۔ کوشامبی نربھیا کے معاملے پر گرمائی سیاست پر افسروں نے بھروسہ دیا تھا کہ تمام ملزمین کو جلد سے جلد سزا دلائے جانے کا عمل مکمل کیا جائے گا۔ اس واقعہ کو دو ماہ کا وقت گزرنے کو ہے لیکن پولیس اس معاملے پر اب بھی قانونی ہچکی میں الجھی ہوئی ہے۔

اناؤ متاثرہ کو ملزمین کے ذریعہ جیل سے باہر ہوتے ہی زندہ جلانے کے واقعہ کو انجام دیئے جانے کے بعد کوشامبی کی شکار اور اس کے خاندان کے زخم ایک بار پھر تازہ ہو گئے ہیں۔ متاثرہ نوجوان کی ماں نے بتایا کہ سرائے عاقل پولیس سیکورٹی کے نام پر محض رات میں ایک بار گشت کر چلی جاتی ہے۔ واقعہ کے بعد سے معاملے میں لوگ صلح معاہدے کا دباؤ کسی نہ کسی طرح سے بناتے رہتے ہیں۔ کہیں بھی باہر آنے جانے پر ایک انجان ساخوف ہمیشہ رہتا ہے کہ کہیں کوئی انہونی نہ ہو جائے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close