اترپردیشتازہ ترین خبریں

اناؤ معاملہ: متوفی لڑکی کے والد کی مانگ، ’ملزمین کے ساتھ حیدرآباد جیسا سلوک ہو‘

گینگ ریپ متاثرہ لڑکی کا دہلی کے اسپتال میں انتقال ہونے کی خبر ملنے کے بعد سے اس گاؤں میں غم کا ماحول ہے۔ ملزم بھی اسی گاؤں کے ہونے کی وجہ سے ان رشتہ داروں میں خوف و ہراس ہے۔ اگرچہ متاثرہ کی لاش آج رات تک گاؤں آنے کی امید ہے لیکن دہلی کے ہسپتال میں اس کے انتقال ہونے کی خبر ملنے کے بعد سے ارد گرد علاقوں کے دیہی بھی شادی سے پہلے گاؤں پہنچنے لگے ہیں۔ متاثرہ کی موت سے بے حد دل برداشتہ باپ نے درندوں کو حیدرآباد پولیس کی طرح انکاؤنٹر کرنے کا مطالبہ کیا۔

متاثرہ کی موت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس کے والد نے کہا کہ جس طرح سے حیدرآباد سانحہ کے درندوں کو دوڑا کر مارا گیا، اسی طرح ان کی بیٹی کے قاتلوں کو سزا ملنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ انصاف پر انہیں بھروسہ ہے لیکن انصاف تبھی ہوگا جب قصورواروں کو فوری طور پر پھانسی ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ بیٹی کی موت کا انصاف ملے۔

یہ بھی پڑھیں……اناؤ عصمت دری: متاثرہ کی موت پر پرینکا نے یوگی کو گھیرا

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ جمعرات کا متاثرہ کو جلا کر مارنے کی کوشش کی گئی۔ سنگین طور پر اسے قریب 90 فیصد جھلسی حالت میں لکھنؤ منتقل کر دیا گیا، جہاں سے بعد میں دہلی کے صفدر جنگ اسپتال ریفر کیا گیا۔ دہلی کے اسپتال میں جمعہ کی رات قریب 11 بجکر چالیس منٹ پر متاثرہ کی موت ہو گئی تھی۔ دہلی میں پوسٹ مارٹم کے بعد متاثرہ کی لاش اہل خانہ کے حوالے کر دیا جائے گا۔

اناؤ میں متاثرہ کے ہی گاؤں کے رہنے والے شوم اور اس کے کزن شبھم نے رائے بریلی کے لال گنج میں گزشتہ سال 12 دسمبر کو رائے بریلی میں آبروریزی کی تھی اور اس کا ویڈیو بنا کر بلیک میل کر رہے تھے۔ متاثرہ دہشت کے سبب رائے بریلی کے لال گنج میں اپنی پھوپھی کے یہاں رہ رہی تھی۔ معاملے میں پولیس کی بڑی لاپروائی اجاگر ہوئی تھی اور کورٹ کے حکم کے بعد 5 مارچ، 2019 کو مقدمہ درج ہو پایا تھا۔ واقعہ کے دن متاثرہ رائے بریلی میں پیشی کے لیے آ رہی تھی۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close